منتخب کالم

سپیکر نے وزیر خزانہ کو کمر درد سے بچنے کیلئے مائیک نیچے کرنے کا مشورہ دیدیا/ عترت جعفری



قومی اسمبلی نے ساڑھے 17 ہزار ارب روپے سے زائد کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے ساتھ ایک اہم مرحلہ طے کر لیا ہے۔ صدر مملکت اب اس کی توثیق کریں گے جس کے بعد یہ بل ایکٹ بن جائے گا، گزشتہ روز قومی اسمبلی میں گزشتہ روز فنانس بل اور اس میں حکومتی ترامیم کی منظوری کا عمل ہموار انداز میں مکمل ہوا، اجلاس کے دوران یہ تاثر ملا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر نے پس پردہ رہ کر فنانس بل اور بجٹ کی ہموار منظوری کو ممکن بنانے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ کچھ نکات کو کیا جس کی وجہ سے اپوزیشن ارکان کو گزشتہ روز تسلسل سے بات کرنے کا موقع دیا گیا، اپوزیشن کی طرف سے فنانس بل میں پیش کی جانے والی ترامیم اگرچہ کثرت رائے کا باعث مسترد ہوئی تاہم اپوزیشن ارکان کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا، اس ہم آہنگی کی وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کوئی بدمزگی دیکھنے میں نہیں آئی، تھوڑی بہت نعرہ بازی ضرور ہوئی  تاہم اس کا سلسلہ اپوزیشن نے خود ہی روک دیا۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے، ایک موقع پر اپوزیشن نے حکومت کا امتحان لینے کی بھی کوشش کی، فنانس بل کی کلاز4 کی منظوری کا عمل چل رہا تھا اپوزیشن ارکان نے اس کی منظوری کو چیلنج کر دیا اور گنتی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت اگرچہ اپوزیشن ارکان کی تعداد تو کم تھی اور حکومتی ارکان بھی کچھ زیادہ نہیں تھے، حکومتی ارکان لابیز میں موجود تھے، جب اسمبلی کے عملہ نے حکومتی ارکان کی گنتی شروع کی تو بھاری تعداد میں باہر بیٹھے ہوئے حکومتی ارکان ایوان کے اندر داخل ہوئے ، اپوزیشن ارکان نے بار بار پیپلز پارٹی کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی، متعدد ارکان کا یہ کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ کو مسترد کیا ہے اور آج اس سے بجٹ کے خلاف ووٹ دے کر اس کا ثبوت دینا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن کی طرف سے بار بار نام لیے جانے پر ایوان میں کھڑے ہوئے اور نکتہ وضاحت پر پیپلز پارٹی کی طرف سے بجٹ کی حمایت کی وجوہات کو بیان کیا۔ وزیر خزانہ بار بار میں اپوزیشن کی ترمیم کی مخالفت کرتا ہوں کہنے کے لیے اپنی نشست سے کھڑے ہو رہے تھے، سپیکر قومی اسمبلی نے ان کی اس اٹھک بیٹھک کو محسوس کیا اور ازراہ تفنن کہا وزیر خزانہ صاحب اپنا مائیک نیچے کر لیں، آپ بار بار اٹھیں گے کہیں کمر نہ رہ جائے، اپوزیشن کے متحرک رکن نثار جٹ ایک موقع پر کھڑے ہوئے اور اپنی ترمیم پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ ہم کولیگ ہیں، ان کی باتوں سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو وہ معذرت کرتے ہیں۔





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button