اردو ادب کی درخشاں و نابغہ روزگار شخصیت: میاں شمشاد حسین سرائی لیکھی
تجزیہ نگار:محمد ساجد علی تمناؔ (لاھور)

صحرائے تھل اپنی علمی، ادبی، ثقافتی اور تاریخی حیثیت سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لیہ اور اس کے گرد و نواح کے شعرا، ادباء، محققین، مورخین ،سیاستدان، پہلوان اور کھلاڑی پوری دنیا میں معروف ہیں۔ اس وجہ سے لیہ کو شہرادب یا ادب کا لکھنو، علم وادب کا ایتھنز یا یونان کہا جاتا ہے۔ لیہ کی سرزمین بہت ذرخیز ہے اس سرزمین نے عظیم ہستیوں کو جنم دیا ہے۔میاں شمشاد حسین سرائی اسی سر زمین کا قیمتی و نایاب ہیرا ہے۔میاں شمشاد حسین سرائی نہ صرف ایک دانشور ،محقق،تاریخ دان، مترجم،نقاد بلکہ اردو اور سرائیکی زبان کے شاعربھی ہیں۔ان کی تخلیقات ،ادبی خدمات،اور اعزازات اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ وسیب اور زبان و ادب کےسچے خادم ہیں۔
آپ کا تعلق علمی ،ادبی و تاریخی گھرانے سے ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میاں شمشاد حسین، سرائی خاندان کا ایک علمی اور ادبی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں ۔ آپ کے آباؤاجداد نے کلہوڑہ عہد میں سندھ اور سرائیکی وسیب پر تقریبا ۹۹سال حکومت کی۔یہ خاندان بڑے بڑے عہدوں وزیر اعظم(وڈووزیر)،وزیر خزانہ مشیر خاص اور سپہ سالار پر متمکن رہے۔آخری کلھوڑا تاجدار میاں عبد النبی نے لیہ میں انہی کی معیت میں اپنا آخری وقت گزارا۔ ان کے فرزند میاں عارف شہید کا مزار آج بھی لیہ میں مرجع خلائق ہے۔اسی خاندان نے لعل شہباز قلندر،شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزارات، قلعہ حیدرآباد،محمد آباد، تاج پور خیر آباد تعمیر کروائے۔
میاں شمشاد حسین سرائی کے آباؤ اجدادنے ضلع لیہ میں ایک قابل ذکر لائبریری کو وجود بخشا۔اس لائبریری میں بے شمار نایاب کتب کے علاوہ نادر تاریخی ،علمی وادبی مخطوطات کا قابل قدر ذخیرہ موجود ہے ۔ صرف اہل لیہ ہی نہیں بلکہ گرد و نواح سے (صوبہ سندھ) تشنگان علم و ادب اس لائبریری سے اپنی تشنگی کا مداوا کرتے ہیں۔ میاں شمشاد حسین سرائی نے اس علمی و ادبی ماحول میں آنکھ کھولی۔ اپنے بزرگوں کی آغوش عاطف میں پروان چڑھے اور انہی کی معیت میں کسب علم کے مدارج طے کئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہو گئے ۔ اپنے آباؤاجدادکی قائم کردہ لائبریری سے خوب استفادہ کیا۔
میاں شمشاد حسین سرائی کا اصل نام میاں شمشاد حسین اور قلمی نام شمشاد سرائی ہے۔آپ یکم جنوری ۱۹۶۵ء کو میاں بلال ہاؤس حسینی چوک میاں غلام حسین سرائی کے گھر لیہ میں پیدا ہوئے۔آپکے والد میاں غلام حسین سرائی محکمہ ریلوے میں ریلوے اسٹیشن ماسٹر تھے۔آپکی والدہ ماجدہ ایک عبادت گزار اور زیرک خاتون تھیں۔میاں غلام حسین سرائی کے تین بیٹے ہیں جن کے نام ارشاد حسین سرائی،شمشاد حسین سرائی اور نیاز حسین سرائی ہیں۔شمشاد حسین سرائی کی شادی ان کے بڑے ماموں کی صاحبزادی سے ہوئی۔آپ دیندار اور نوحہ خوان خاتون ہیں۔ آپ کے تین بیٹے ہیں جن کے نام حماد حسین سرائی ،فواد حسین سرائی اور غلام اکبر فراز سرائی ہیں۔
شجرہ نسب:
مورث اعلیٰ:میاں بیڑا خان عرف میاں کان فقیر لیکھے علیؑ
لکڑ دادا:میاں راجہ لیکھیؒ(اول)
پر دادا:میاں پلیالیکھیؒ(دوم)
دادا:میاں بلاول لیکھیؒ(دوم)
*میاں بلاول فقیر لیکھی*
|
1۔ٖفقیر الہی بخش لیکھی 2۔غلام حسین لیکھی 3۔خادم حسین لیکھی
*میاں غلام حسین لیکھی*
|
1۔میاں ارشاد حسین سرائی 2۔ میاں شمشاد حسین سرائی
3۔ میاں نیازحسین سرائی
*میاں شمشاد حسین لیکھی سرائی*
|
1۔حماد حسین سرائی 2۔فواد حسین سرائی 3۔غلام اکبر فراز سرائی
میاں شمشاد حسین سرائی نے ابتدائی تعلیم لیہ سے حاصل کی۔آپ نے۱۹۸۱ء میں گورنمنٹ ہائی سکول مظفر گڑھ سے میٹرک کیا۔ ۱۹۸۳ء میں ، آپ نے ڈی۔ کام گورنمنٹ کمرشل انسٹی ٹیوٹ، لیہ سےانٹر کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے۱۹۸۸ء میں ایم ۔ اےاردو کی ڈگری بہاوالدین یونیورسٹی ملتان، ڈیرہ غازی خان کیمپس، سے حاصل کی۔ پھر آپ نے ۱۹۹۱ء میںگریجویٹ کالج ڈیرہ غازی خان سےبی۔ ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۹۵ء میں آپ کی ملازمت بطور انگلش ٹیچر (ایم۔ ایڈ ) ایلمینٹری سکول میرانی قدیم، لیہ میں ہو گئی ۔اسی سکول سے آپ 31دسمبر 2024ءمیں ریٹائرڈ ہو گئے۔
میاں شمشاد حسین سرائی نے شاعری میں طبع آزمائی کی۔ ان شاعری میں رومانیت ،کلاسیکی لب و لہجہ کے ساتھ ساتھ عصری شعور ،اپنے وسیب کے دکھ سکھ کااظہار بھی موجود ہےان کے کلام میں الفاظ کی خوشبو،تشبیہوں کی تازگی ،جذبات کی شدت قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔میاں شمشاد حسین سرائی نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی طبع آزمائی کینثر میں ان کی تحریر یں فکری و تحقیقی انداز کی حامل ہیں جو ان کے ادبی مطالعے وعلمی پس منظر کا ثبوت ہے۔ میاں شمشاد حسین کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر بیسوں اعزازات اور ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔یہ ایوارڈ نہ صرف ان کی تخلیقی مہارت کا اعتراف ہیں بلکہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کی خدمات وسیب میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
1996ء(کراچی۔ سندھ ) انٹرنیشنل ایوارڈ ( مستند سکالر ان ہسٹری)
1998ء(داد و سندھ ) قومی ایوارڈ ( کلہوڑن جو سنہری دور)
2002ء(حیدر آباد – سندھ ) قومی ایوارڈ ( سندھ جو شاہجہان غلام شاہ کلہوڑا)
2006ء (لیہ ۔ پنجاب )نسیم لیہ ایوارڈ
2006ء(داد و سندھ ) قومی ایوارڈ (محسن خدا آباد)
2008ء(لیہ ۔ پنجاب ) نسیملیہ ادبی ایوارڈ
2009ء(لیہ ۔ پنجاب ) ڈاکٹر فیاض قادری ادبی ایوارڈ۔
2011ء(لاہور ۔ پنجاب ) ای ٹی ٹی ای گریجوئیٹ ایوارڈ
2012ء(لیہ ۔ پنجاب ) بیسٹ رائٹر آف دی ائیر 2014ء
2015ء (لیہ ۔ پنجاب ) چوہدری عین الحق ادبی ایوارڈ
2016ء(لیہ ۔ پنجاب ) اظہر زیدی ادبی ایوارڈ
2016ءکوٹ سلطان (لیہ ۔ پنجاب ) بہترین صحافتی و ادبی ایوارڈ
2016ءکوٹ سلطان (لیہ ۔ پنجاب ) ایکسی لینس ایوارڈ
2018ء( جھنگ۔پنجاب)شیر افضل جعفری ادبی ایوارڈ
2018ء( ڈیرہ غازی خان۔پنجاب) حلقہ ارباب ذوق ادبی ایوارڈ
2019ء( جھنگ۔پنجاب) عباس ہادی تحقیقی و تنقیدی ایوارڈ
2020ء(لیہ ۔ پنجاب )میاںالہی بخش سرائی سرائیکی ایوارڈ
2023ء(لیہ ۔ پنجاب ) اعتراف ِفن ادبی ایوارڈ
2024ء(لیہ ۔ پنجاب ) جان محمد ادبی ایوارڈ
2024ء ( جھنگ۔پنجاب) علامہ ظفر ترمذی لائف اچیومنٹ ادبی ایوارڈ
2024ء(لیہ ۔ پنجاب ) گلوبل ایجوکیشنل ایوارڈ،یونیورسٹی آف لیہ
میاں شمشاد حسین سرائی کی شاعری اور نثر دونوں میدانوں میں مہارت مسلمہ ہے۔انکی پہلی شاعری کی کتاب” حرف حرف خوشبو2016ءمیں منصہ شہود پر آئی۔آپ کی کئی ایک غیر مطبوعہ ادبی اور تاریخی دستاویزات پر رقم کر چکے ہیںجن میں سے پندھ سوچ دے (سرائیکی شعری مجموعہ ) ،صدائے ریگزار (تاریخ و ادب نثر لیہ ) اور تاریخ لیکھی ( کلہوڑہ عہد کا سنہری باب ) قابل ذکر ہیں ۔
چند پسندیدہ اشعار کا انتخاب
اسلام کی بقا کا سہارا حسینؑ ہے
بحرِ وفا کا ایک کنارہ حسینؑ ہے
جنت انہی کے در سے ملے گی یقین ہے
شمشادؔ زندگی کا گزارا حسین ؑہے
؎میں قلب و نظر میں وہ ضیاء کے چلا ہوں
احساس کےہونٹوں پہ صدا لے کے چلا ہوں
؎میرے تصورات کا بندھن لگا مجھے
یہ چاند تیرے ہاتھ کا کنگن لگا مجھے
؎انا کیش ہیں سراٹھا کر چلیں گے
سردار بھی مسکرا کر چلیں گے
شمشاد حسین سرائی ایک فعال کالم نگار بھی ہیں ۔ان کےکالم (سرائیکی اور اُردو )قومی و علاقائی اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ان کے کالم سماجی،ثقافتی،علمی،ادبی و تعلیمی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں اور وسیب کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔ جن کے نام درج ذیل ہیں۔
روزنامہ جنگ ملتان ،نوائے وقت ملتان، روزنامہ خبریں ملتان ، روزنامہ سنگ میل ملتان، روزنامہ سنگ بے آب لیہ ، ماہنامہ شام و سحر لاہور، ماہنامہ سوجھل سوچ ڈیرہ غازی خان ،ماہنامہ سو جھیل لیہ ،روزنامہ اخبار لیہ ، روزنامہ نوائے تھل، روزنامہ سنگ میل، روزنامہ پاسبان تھل لیہ ، ، روزنامہ خبریں ملتان ، روزنامہ جنگ ملتان،بلاول ریسرچ جنرل نواب شاہ، قابل ذکر ہیں۔
شمشاد حسین سرائی نہ صرف تخلیق کار ہیں بلکہ ادبی تنظیموں کے انتظامی معاملات میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔یہ تمام ذمہ داریاں ان کی انتظامی صلاحیتوں اور وسیع روابط کا مظہر ہیں۔انہوں نے مختلف پلیٹ فارم پر نوجوان تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی علمی و ادبی مباحث کو فروغ دیا ہےجو ان کی علمی بصیرت کی دلیل ہے۔آپ بطو ر چیئرمین ادبی قافلہ انٹر نیشنل پاکستان،چیف ایڈمن وسیب رنگ سرائیکی سنگت،صدر تھل ادبی اکادمی لیہ ،بزم اہل قلم لیہ،لیہ ادبی و ثقافتی فورم لیہ،پاکستان برٹش آرٹس انٹر نیشنل،نائب صدر بزم فروغ ِادب و ثقافت لیہ اور انچارج تھل رنگ ادبی ایڈیشن روزنامہ سنگِ بے آب لیہ خدمات سر انجام دے رہےہیں۔
شمشاد حسین سرائی کی شخصیت و فن کےاعتراف میں ماہرین کی آراء:
صابر جاذب شمشاد سرائی کے بارے میں لکھتے ہیں :
”شمشاد سرائی بھی ایسے ہی خاند ان کا چشم و چراغ ہے جنہوں نے لیہ میں ایسی علم وادب کی تاریخ رقم کی جو آئندہ کئی نسلوں تک رہے گی۔ انہوں نے لیہ کے اندر ایسی عظیم لائبریری قائم کی جو آج بھی علم کی تلاش آنے والے لوگوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ اپنے بزرگوں کی راہ پرچلتے ہوئے اپنی قوم کا درد دل میں سمیٹ کر شمشاد سرائی جیسے فقیرانہ مزاج کے مالک شخصیت نے اپنے قلم کے ذریعے بزرگوں سے ، وطن سے، ہو نہار بچوں سے ، ہم جماعتوں سے، اساتذہ سے اور سب سے زیادہ اپنے دین سے محبت کا ثبوت دیا ہے۔ اپنے حروف سے محبت والفت کی ایسی خوشبو بکھیری ہے جس کی خوشبو سے دبستانِ ادب گل و گلزار بن گیا۔ ان کا شمار لیکھی خاندان کا درخشاں ہے۔“
پروفیسر ریاض حسین راہی (دانشور د شاعر)
”شمشاد سرائی کل وقتی تخلیق کار میں شعر وادب ان کا اوڑھنا بچھونا ہے انہوں نے شعر ادب کے فروغ میں شب وروز کام کیا ہے۔ نووارد ان ادب کی ذہنی و فکری تربیت کے لیے ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں۔ ان کی شاعری میں روایت اورجدت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کا دامن شعر سماجی،تہذ یبی ، اخلاقی اور انسان کے بچے اور فکر انگیز خیالات سے بھرا ہوا ہے۔“
پروفیسر محمد ساجد علی تمنا(راقم )شمشاد سرائی کے بارے میں اظہار خیال یوں کرتے ہیں:
”شمشاد سرائی صاحب بہت بڑے انسان ہیں۔ آپ بہترین استاد ، نقاد اور اعلٰی پائے کے شاعر ہیں۔ شمشاد سرائی صاحب تحقیق، نرم مزاج مجسمہ خلوص اور دوسروں کی تکلیف پر خود کو پریشان کرنے والے ہیں۔ آپ ایسے گوہر نایاب ہیں جو صدیوں کے بعد بھر ہستی سے نمودار ہوتے ہیں۔“
ناصر ملک (شاعر، ادیب ،محقق ،کالم نگارو پبلیشر) شمشاد سرائی کے بارے میں اپنی رائے یوں قائم کرتے ہیں:
”شمشاد سرائی اردو اور سرائیکی زبانوں کے خوبصورت لب ولہجے کے شاعرہیں جو آسان پیرائے میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے پر بھر پور دسترس رکھتے ہیں۔ وہ انسانی اقدار، معاشرتی رویوں اور تہذیبی شکست و ریخت کو نہایت چابکدستی سے موضوع ِشعر کرتے ہیں۔ ان کے ہاں انسانی ہمد ردی اور محبت و عشق کے ساتھ ساتھ دھرتی سے انس اور ملی ایک جہتی کا اظہار بکثرت میسرہے ۔“
جسارت خیالی (اردو شاعر، دانشور) کی آرا ملاحظہ ہو:
شمشاد سرائی اردو سرائیکی کے جوان فکر اور جدیدلہجے کے شاعر ہیں ۔یہ فقیر میاں الہی بخش لیکھی مرحوم جیسی نابغہ روز گار ہستی کے سایہ ہمایوں میں پلے بڑھے ہیں۔ سرائی انتہائی ملنسار،وضع داراور خوش گفتارانسان ہیں۔ لیکن ان کی شاعری میں رنگ بھرنے اور نکھارنے میں امان اللہ کاظم جیسے استاد شاعر کا بڑا ہاتھ ہے اس لیے وہ لیہ کے شعری افق پر تا بند ہ ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔“
عبد الله نظامی (چیف ایڈیٹر تعمیر اس لیہ)شمشاد سرائی کے بار ےمیں بیان کرتے ہیں:
”شمشاد سرائی لیہ کے ادب کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے بڑی ریاضت اور لگن سے قلم کی حرمت کا حق ادا کیا ہے۔ انہیں نظم اور نثر دونوں پر ملکہ حاصل ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے شاعر اور ادیب ہیں۔“
میں بطور نقاد یہ کہوں گا کہ میاں شمشاد حسین سرائی کا مطالعہ صرف ایک ادبی شخصیت کا مطالعہ نہیں،بلکہ ایک عہد،ایک وسیب اور ایک فکری دھارے کا مطالعہ ہے۔عظیم شخصیت ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ادب محض لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔میاں شمشاد حسین سرائی خود کو،اپنے عہد کو اور اپنے وسیب کوبیان کرنے کی جدوجہد، میاں شمشاد حسین سرائی اسی جدوجہد کے ایک روشن اور معتبراستعارے کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔
میاں شمشاد حسین سرائی نہ صرف اردو ادب کے ایک درخشاں ستارے ہیں بلکہ انہوں نے تدریس، تحقیق، تصنیف و تالیف اور تنظیمی میدان میں جو خدمات سرانجام دی ہیں، وہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی علمی بصیرت، ادبی کاوشیں اور تنقیدی شعور نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ ادبی دنیا میں ایسے افراد کم ہی پیدا ہوتے ہیں جو اپنی ذات کو ایک ادارے کی صورت میں ڈھال لیتے ہیں۔ میاں شمشاد حسین سرائی کی خدمات کا دائرہ مقامی حدود سے نکل کر قومی و بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے، جو اس بات کا غماز ہے کہ ان کی علمی و ادبی حیثیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی خدمات کو تحقیقی سطح پر مزید اجاگر کیا جائے، ان کے کام پر علمی مطالعہ کیا جائے اور نئی نسل کو ان کی علمی روایت سے روشناس کرایا جائے، تاکہ اردو ادب کا یہ روشن چراغ ہمیشہ فروزاں رہے۔الغرض میاں شمشاد حسین سرائی عہدِ جدید کے نمائندہ شاعر ہیں جو اپنی شاعری میں عصرِ حاضر کے مسائل کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جب معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی مشکلات نے عام انسان کو بے حس بنا دیا ہے، ایسے میں شاعر اور ادیب کا فرض ہے کہ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے عوام میں شعور و آگہی پیدا کریں۔ شمشاد سرائی کی شاعری اسی بیداری کا استعارہ ہے، جو قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتی ہے بلکہ اسے اپنے عہد کی صورتِ حال کا ادراک بھی دلاتی ہے۔




