عمرایوب کی تقریر کے دوران عبدالقادر پٹیل کی قیادت میں پی پی کا احتجاج/ وقار عباسی

پیر کے روز ایوان زیریں کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا، اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو نے ایوان میں حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر پارلیمانی وفد کی جانب سے مختلف ملکوں کے دوروں اور سفارت کاری کے زریعے پاکستان کے بیانیہ کی جیت اوربھارت کی شکست بارے ایوان کو بتایا تاہم پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی، اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے ددرمیان اس وقت بدمزگی پیدا ہو گئی۔ پی ٹی آئی رکن نے بلاول بھٹو کی تقریر کے درمیان میں بار بار خلل ڈالا، منع کیے جانے کے باوجود اپنی نشست پر کھڑے ہوکر تقریر کی اور نعرے بازی کی۔ سپیکر نے انہیں خاموش کروانے کی کوشش کی جو رائیگاں گئی، سپیکر کے کہنے پر پی ٹی آئی رہنمائوں اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے بھی انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی تاہم وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آئے۔ بلاول بھٹو نے فوج کے بجٹ میں 20فیصد اضافے کو درست قدم اور وقت کی ضرورت قرار دیا۔ بلاول بھٹو کی تقریر کے بعد سپیکر نے جب قائد حزب اختلاف کو بولنے کا موقع دیا تو پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین عبدالقادر پٹیل کی قیادت میں بطور احتجاج سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا کہ وہ عمر ایوب کو بولنے نہیں دیں گے اس پر دونوں جماعتوں کے مابین تکرار شروع ہوگئی پی ٹی آئی اراکین بھی ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے۔ ایوان میں شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور اس کا فائدہ اٹھاکر جمشید دستی نے اپنے سیٹیاں بجانے کے بچپن کے شوق کو بھرپور طور پر انجام دیا۔ وزیر خزانہ نے جب بجٹ پر بحث کو سمیٹنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی اراکین کے ایک جتھے نے وزیر خزانہ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی درمیان آگئے۔ اراکین کی ان کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور پورا ایوان مچھلی منڈی کے منظر پیش کرتا رہا۔ سپیکر نے اسی ہنگامہ آرائی کے دوران اجلاس میں نماز کے وقفہ کا اعلان کیا اور ماحول کی گرمی کو کم کیا۔




