افسانہ

مزرع ہستی / عارفین یوسف

افسانہ

اس معاشرے میں ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی کا آزادی کے ساتھ گھومنا پھرنا بھی ایک عذاب ہی ہے۔ سائرہ نہ جانے کس ضرورت کے تحت گاڑی لے کر گھر سے نکل تو آئی تھی مگر اسلام آباد کی ایک مصروف جانی پہچانی شاہراہ پراسے ہمیشہ کی طرح گردوپیش کے لوگوں کا بے تکا گھورنا اور نظروں سے تشدد ، مسلسل پریشان کر رہا تھا۔ ہر کوئی جیسے اس کی ایک جھلک کے لیے بے تاب ہو رہا ہو۔ کیا راہگیر، کیا موٹر سائیکل سوار اور کیا گاڑیوں میں بیٹھے مرد، ہر کوئی اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مڑ کر ضرور دیکھ رہا تھا۔سب ہی اس کی گاڑی کے قریب سے ہو کر گزرنے کی کوشش میں تھے اور وہ یوں پھونک پھونک کر گاڑی چلا رہی تھی جیسے کیچڑ بھری پگڈنڈی پر ننگے پاوں خشک جگہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر قدم رکھ رہی ہو۔

شام کے جھٹپٹے کے باوجود باہر گرمی کا احساس لوگوں کے جھلائے ہوئے رویوں سے عیاں تھا۔ سائرہ کو گاڑی میں لگے اے سی کی بدولت موسم کی شدت تو متاثر نہ کر سکی البتہ مردوں کی کھلے بندوں اور درزیدہ نگاہوں کی تپش پگھلائے دے رہی تھی۔ دفاتر میں چھٹی کے اوقات میں گھر سے باہر نکلنے کی غلطی تو وہ کر ہی بیٹھی تھی اور دارالحکومت کی غیر مہذب ٹریفک کے اژدہام اور بد تہذیب افراد کے چنگل میں کسی شکاری کے جال میں پھنسی فاختہ کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی۔ پسینہ اس کی کنپٹیوں پر ننھی ننھی بوندیں بن کر چمک رہا تھا۔ اردگرد کی تپتی نگاہوں نے اس کے وجود کے اندر حدت بڑھا دی تھی اور اسی وجہ سے اس کی گوری رنگت میں سرخی کی آمیزش بھی ہو گئی تھی جس کو وہ بار بار بیک ویو مرر میں دیکھ رہی تھی۔ ڈیش بورڈ پر پڑے ڈبے میں سے ٹشو نکال نکال کر سائرہ اپنا چہرہ بار بار صاف کر رہی تھی۔ لوگوں کے جاہلانہ رویہ کی وجہ سے ہی وہ ساتھ ساتھ چلتی گاڑیوں اور دیگر ٹریفک سے بچنے کی سرتوڑ کوششوں میں مشغول تھی۔ اس سارے عمل میں وہ سخت مشقت سے گزر رہی تھی اور کشمکش کے عالم میں وہ یہ بھی بھول گئی تھی کہ بھرے پُرے گھر میں تنہائی کی اذیت نے اسے گھر سے نکلنے پر مجبور کیا تھا۔ گھر میں ہر ایک کے پاس اپنی اپنی مصروفیت تھی ایسے میں کس کے پاس وقت تھا کہ دو گھڑی بیٹھ کر اس کی باتیں سنتا۔ سائرہ کو باتیں کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا اور کوئی سامع نہ ملنے کی وجہ سے اس کے اندر وحشت بڑھنے لگتی جو اکثر ناقابلِ برداشت حد کو پہنچ جاتی۔ ایسے میں وہ گھر سے باہر نہ نکلتی تو اس کا دم گھٹ جاتا۔

یہاں بھی تو وہ منزل کے تعین کے بغیر بن پتوار کی ناو کی طرح ٹریفک کے سمندر میں بہتی چلی جا رہی تھی۔ ایک ایسے سمندر میں جو شارک مچھلیوں اور مگر مچھوں سے اٹا ہوا تھا جن سے بچنا جوئے شِیر لانے کے مترادف تھا۔ سٹیئرنگ کو اِدھر اُدھر گھماتے رہنے، بار بارایکسلیریٹر، بریک اور کلچ کو دبانے اور گاڑی کو پہلے سے دوسرے اور دوسرے سے پہلے گیئر میں کرنے کی مسلسل جدوجہد نے اسے نڈھال کرنا شروع کر دیا تھا۔سائرہ کی آنکھوں کے آگے بار بار دھندلاجالا بننے لگا جس کو وہ تیز تیز پلکیں جھپکا کر صاف کرنے کی کوشش کرتی مگر چند لمحوں کے بعد پھر وہی صورتحال ہونے لگ جاتی۔اس کے بازو شل ہونے لگے اور ٹانگیں بھی دُکھنے لگیں۔ تشویش ناک امر یہ تھا کہ اس کا دماغ سُن ہونے لگا اورمانوس سڑکیں اچانک ہی اجنبی دکھنے لگیں۔

ایسے ہی ایک کمزور لمحے میں دھندلائی آنکھوں کی دھند چھٹنے سے قبل وہ اگلی گاڑی کے سر پر جا پہنچی مگر ستم یہ ہوا کہ اس نے بریک کی بجائے اضطراب میں ایکسلیرٹر پردباو بڑھا دیا نتیجتاً کار ایک خوفناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ آگے جانے والی گاڑی سے بری طرح ٹکرائی۔ مضطرب سائرہ نے ایکسلیریٹر سے فوراً ہی پاوں ہٹا دیا اور گاڑی ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔ پچھلی گاڑی والا اتنی اچانک بریک کے لیے تیار نہ تھا لہذا اس کی گاڑی نے بری طرح سائرہ کی گاڑی کو ٹکر دی ماری۔سائرہ سیٹ پر اچھل کر رہ گئی اور اس کا سر سٹیئرنگ سے جا ٹکرایا۔ بدحواسی میں سائرہ نے باہر نکلنے کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ پا س سے گزرتے موٹر سائیکل کو جا لگا اور موٹرسائیکل اپنے سوار سمیت راہگیروں میں جا گھسی۔ اس کے اردگرد ہڑبونگ مچ گئی۔ سائرہ نے گھبرا کر دروازہ بند کر کے اندر سے لاک کر لیا۔

ٹپکتے آنسووں اور زور زور سے دھڑکتے دل کے ساتھ سائرہ نے ایک ٹریفک وارڈن کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ اگلی اور پچھلی کار والے بھی باہر نکل کر اونچا اونچا بولنے لگ گئے، موٹر سائیکل ایک طرف گری پڑی تھی اور اس کی ٹینکی میں سے پٹرول نکل نکل کر بہہ رہا تھا اس کا سوار ایک طرف بے سدھ پڑا تھا۔ ایک راہگیر اپنا گھٹنا پکڑے کراہ رہا تھا جبکہ ایک اور نوجوان کندھے پر ہاتھ رکھے ہائے ہائے کر رہا تھا۔ان کے گرد لوگوں کا جھمگٹا لگنے لگا۔ سائرہ اس قدر خوفزدہ ہو ئی کہ اپنی تکلیف بھول گئی۔ نامعلوم اسے کہاں کہاں چوٹ آئی تھی۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں بند کر لیں۔ چند ثانیے ہی گزرے تھے کہ اس نے کھڑکی کا شیشہ کھٹکھٹانے کی آوازسنی تو دیکھا کہ سفید بالوں والا ایک ادھیڑ عمر شخص اس تمام شور و غوغا میں اس کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کر رہا تھا۔ ٹریفک وارڈن دوسری گاڑی والوں کے ساتھ الجھ رہا تھا جو ہا تھ نچا نچا کر اونچی اونچی آواز میں اسے رودادسنا رہے تھے۔ ادھیڑ عمر شخص کو اپنا ہمدرد محسوس کر تے ہوئے سائرہ نے شیشہ نیچھے کیا ہی تھا کہ وہ شخص گھبرائے ہوئے لہجہ میں اس کے جسم کو ٹٹولتے ہوئے بولنے لگا۔۔۔۔آپ۔۔۔آپ ٹھیک ہیں؟۔۔۔ کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟؟؟۔۔۔۔سائرہ کو اس کا ہذیانی انداز اور خود کو ٹٹولنا بالکل بھی برا محسوس نہیں ہو ا۔۔۔مجھے بچا لو، میری کوئی غلطی نہیں۔۔۔سائرہ کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ادھیڑ عمر آدمی اسے دلاسہ دے کر وارڈن کی طرف متوجہ ہوا اور جیب سے کوئی کاغذ نکال کر اسے دکھانے لگا۔سائرہ نے بیک ویو مرر میں دیکھا تو اسے اپنے حسین چہرے پر خوفناک دراڑیں پھیلتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ اس نے ایک نظر اپنے ہاتھوں پر ڈالی اور خوفزدہ ہو گئی کیونکہ اس کا ہاتھ یوں تھا جیسے خستہ ہڈیوں پر پتلی سی کھال کی جھلی منڈھ دی گئی ہو۔ بال بھی اڑے اڑے اور عجیب رنگت اختیار کر گئے تھے۔مزرع ہستی میں تہس نہس مچ گئی۔ اس کا سر چکرانے لگا اورحواس مختل ہونے سے پیشتر اس کی سماعت سے ٹریفک وارڈن کی آوازگونج بن کر ٹکرائی جو سائرہ کے ہمدرد شخص کو چلا کرڈانٹ پلا رہا تھا۔۔۔۔

تمہاری والدہ الزائمر کی مریضہ ہیں تو اکیلے نکلنے اور ڈرائیو کیوں کرنے دیتے ہو؟؟؟؟

 

Author

Related Articles

Back to top button