بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا مستقبل مالی امداد یا ہنر پر مبنی پائیدار ترقی/ شوکت لاشاری۔۔۔نواب شاہ

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی امداد حاصل کرنے کے لیے خواتین کو شدید دھوپ، گرمی اور تھکا دینے والی لمبی قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا معمول بن کر رہ گیا ہے ، اکثر دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں قسط وصول کرنے کے لئے آنے والی عورتوں کے لئے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، جبکہ سندھ بھر میں ڈیوائس ہولڈرز کی طرف سے بدسلوکی، بدعنوانی اور غیر قانونی”کٹوتی” کا نہ تھمنے والا سلسلہ معمول کا حصہ بن چکا ہے۔ سندھ کے تقریباً ہر ضلع میں یہ صورتحال نہ صرف غریب اور مجبور خواتین کی عزت نفس کو مجروح کرتی ہے بلکہ ان کی مجبوری کو ایک "کاروبار” بنا کر ڈیوائس ہولڈرز مافیا سمیت ایجنٹس نے غیرقانونی کٹوتی کو اپنا حق سمجھ لیا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خواتین کی صرف مالی امداد ہی مسئلے کا حل ہے؟
ظاہر ہے کہ نہیں۔ مستقل بنیادوں پر بھیک جیسی امداد خواتین کو خودمختار بنانے کی بجائے انحصار کی ذہنیت کو فروغ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مدد کے اس ماڈل سے ہٹ کر پہلے ہی مالی طور پر پریشان غریب اور مجبور خواتین کو کیوں نہ باعزت روزگار اور ہنر کی طرف لے جائیں ، اگر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اربوں روپے کو مالی امداد کی بجائے ہنر سازی پر خرچ کیا جائے تو ہر تحصیل میں ایک ایک "ہنر فیکٹری” قائم کی جا سکتی ہے۔ ان تحصیل سطح پر قائم کردہ ،،ہنر مراکز،، میں خواتین کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لئے خود انحصاری کی طرف راغب کرنے کے لئے ہنر سکھائے جا سکتے ہیں ، سلائی، کڑھائی، بیڈ ورک، قالین سازی ، فوڈ پیکنگ، کرافٹس، ڈیزائننگ
آن لائن مارکیٹنگ، بزنس مینجمنٹ ، ای کامرس اور گھریلو صنعتوں کا قیام شامل ہے ، یہ ہنر مراکز نہ صرف خواتین کو ، خودروزگار کے اعلیٰ مواقع فراہم کریں گے بلکہ خواتین کی عزت نفس کو بھی بحال کرے گی ، ہر تحصیل میں قائم کردہ یہ ہنر فیکٹریاں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کریں گی اور ہنری مراکز ملک بھر میں گھریلو معیشت کو بہترین سہارا دیں گی۔ خواتین کے ہاتھ سے بنی ہوئی اشیاء کی عالمی منڈی سمیت اپنے ملک میں بھی زبردست مانگ ہے۔ حکومت پاکستان خواتین کے ہاتھ کی محنت سے بنی ہوئی مصنوعات کو ایکسپورٹ کر کے نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتی ہے۔
پاکستان جیسے غریب ملک میں جہاں مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت نے غریب کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کر دیا ہے وہاں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا شروع کیا گیا امدادی نظام وقتی طور پر تو ریلیف دے سکتا ہے ، مگر پائیدار ترقی اور غریب خواتین کو خودمختاری کا راستہ صرف اور صرف ہنرمندی سے ہی نکلتا نظر آرہا ہے۔ ہمیں "مدد اور امداد کی جگہ ہنر” کے اصولوں کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں محتاجی کے شکنجے سے نکل کر باعزت زندگی گزار سکیں۔ یہی اصل ویڑن ہونا چاہیے — فلاحی ریاست کا، خوددار معاشرے کا۔ ریاست ماں ہوتی ہے اور ماں کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ اسکے بچے بھیک مانگ کر اپنی ضروریات زندگی کو پورا کریں بلکہ ماں تو یہ چاہے گی کہ اسکے بچے اپنی محنت سے ہنر سیکھ کر باعزت روزی روٹی کمانے کے قابل بن کر یہی بات اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک سبق کے طور پر متعارف کروا کر جائیں کہ بھیک مانگنے سے ہزار درجہ بہتر ہنر سیکھ کر اپنے ہاتھ سے کما کر کھانے میں عزت ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭




