اتحاد یا تنہائی؟ / راحت فاطمہ ظفر

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جو کہ ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے ممبر جیسے ذمہ دار عہدے ہر متمکن بھی ہیں، نے قومی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر اسرائیل ایران پر ایٹمی حملہ کرتا ہے تو پاکستان اسرائیل کے ایٹمی حملے کا جواب ایٹمی حلے سے دے گا۔ یعنی بالفاظ دیگر انہوں نے پاکستان کے متعلق اسلامی اتحاد کے نام پر ایران کی فوجی و ایٹمی مدد کا یک طرفہ دعویٰ کیا ہے۔
دوسری طرف ردّعمل میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کے سینئر عہدیدار نے اس کی تردید کی ہے جبکہ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور وزیرِ معیشت اسحاق ڈار نے اسے باقاعدہ منصوبہ بند، جھوٹا اور پاکستان کی ذمہ دار نیوکلئیر پالیسی کے منافی بیان قرار دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ پاکستان کسی قسم کی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی پالیسی پر کار بند نہیں ہے۔
اے پی نیوز اور دی اکنامک ٹائمز نے پاکستان اور ایران دونوں کے بیانات کو کوریج دی اور پاکستان کی تردید کو واضح طور پر نشر کیا۔ جبکہ دوسری طرف ہندوستان ٹائمز نے ایرانی وزیر کے بیان کو اچھالا۔ اور جنگ کا دائرہ کار پاکستانی سرحدوں کی طرف بڑھانے کی ایک بھونڈی کوشش کی۔ جس کو پاکستانی پالیسی سازوں نے بروقت سمجھ لیا اور نہایت مؤثر جواب دیا۔
یہ معاملہ نہایت خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا تھا اگر اس کی بر وقت تردید نہ کی جاتی۔ اس کے نتائج میں پاکستان کو اسرائیل امریکہ مخالف محاذ پر کھڑا کرنا، پاکستان کو ایٹمی دہشتگردی میں ملوث ثابت کرنا، پاکستان کو غیر ذمہ دار ایٹمی طاقت قرار دلوانا، عرب ریاستوں کی نظروں میں مشکوک قرار دینا، چین اور پاکستان کا ایک امریکہ مخالف بلاک بنتا دکھانا، آئی ایم ایف اور عربی اور امریکی امداد بند کروانا اور آخر کار اسرائیل اور امریکہ اور اتحادیوں کے ہاتھوں پاکستان پر حملہ کروانا ہو سکتے تھے۔
یہاں ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ ایرانی صفوں میں اسرائیلی جاسوس موجود ہیں جو کہ ایرانی انٹیلیجنس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر خطے میں بدگمانی اور فرقہ واریت کی آگ بھڑکا کر ہمسایہ ممالک کو لڑوانا اور ایک نئے ابھرتے ہوۓ اتحاد کی صفوں میں دراڑ ڈالنا چاہتے تھے تا کہ جب اسرائیل خدانخواستہ کبھی پاکستان کے خلاف جارحیت کرنا چاہے تو سب اتحادی بد گمان ہوں اور کوئی مدد کو نہ آ سکے۔ اگرچہ اس میں دشمن کسی حد تک کامیاب ہو بھی سکتا ہے خصوصاً جب معاملہ شیعہ سنی وہابی فرقہ واریت تک پہنچ جاۓ۔
پاکستان میں سیاسی، مسلکی، نظریاتی بیشمار اختلافات کے باوجود ایک ذمہ دار، بیدار مغز اور باصلاحیت قوت موجود ہے جو پاکستان کی بقا اور باعزت وجود کی ضامن ہے۔ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محض پُرامن مقاصد اور دفاعی ضروریات کیلئے ہیں اور یہ نہایت محفوظ اور ذمہ دار ہاتھوں میں ہے۔ پاکستان کسی بھی قسم کی جذباتی اشتعال انگیزی میں آ کر غلط فیصلہ کرنے والا ملک ہر گز نہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف دفاع کرنا جانتا ہے بلکہ انتہائی ضرورت کے وقت جارحیت کا جواب دینا بھی جانتا ہے۔
تاہم پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ ایرانی انٹیلیجنس کی یہ کمزوری خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی مساوی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایرانی افواج کے سربراہ کو انتہائی درستگی کے ساتھ ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا جو کہ اندرونی دشمن کے موجودگی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ نیز ایران نے جن بھارتی جاسوسوں کو سزاۓ موت دی وہ اپنا اثر کہاں کہاں تک پھیلا چکے ہیں۔ یہ وہ خدشات ہیں جو آںے والے دور میں نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب امید ہے ایران کو بھارتی کردار سمجھ آ چکا ہو گا کہ کلبھوشن جیسے لوگ صرف پاکستان ہی نہیں خود ایران کیلئے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جنگیں قوموں کو ان کے حقیقی دوست دشمن میں فرق کروانے، اپنی کمزوری اور طاقت کا جائزہ لینے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینے اور ہمہ وقت تیار رہنے میں مدد کرتی ہیں۔
امید کرتے ہیں کہ یہ جنگ ایران کیلئے اندرونی دشمنوں سے نجات اور فتحِ مبین کی بشارت ثابت ہو اور ایرانی قوم اپنے اندر چھپے ہوۓ دشمنوں اور ارد گرد موجود دوستوں کو پہچان سکے اور وہ پہچان سکے کہ خطے میں اس کا خیر خواہ کون ہے اور اندر بیٹھ کر نقب لگانے والا دشمن کون ہے۔




