منتخب کالم

  بہو اور نوکر میں فرق ہوتا ہے/ زیبا شہزاد


میں صبح سے کام پہ لگی تھی، مہمان بس آنے ہی والے تھے۔ بیس پچیس لوگوں کا اکیلے کھانا بنانا آسان تو نہیں لیکن بن ہی جاتا ہے۔ کہ یہ تو تقریباً روز ہی کا کام ہے۔ چاروں نندیں اپنے میاؤں اور بچوں کے ساتھ ہر اتوار کو آتیں۔ ساس کا فرمان ہے کہ دامادوں کو ہاتھ میں رکھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انھیں کھلا کھلا کر مارو۔ اتوار کی چھٹی پہ وہ اپنے ماں باپ سے ملنے نہ چلے جائیں یا ان کا کوئی بھائی بہن نہ ملنے آجائے اس کے لئے بہتر ہے کہ انہیں ہفتہ کی رات ہی صبح ناشتے پہ مدعو کر دیا جائے کہ صبح کا ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا۔ مہنگائی کے اس دور میں اتنا خرچہ آسان تو نہیں لیکن ساس کا کہنا ہے کہ یہ میری بیٹیوں کا نصیب ہے جو وہ کھا کے جاتی ہیں۔ حلوہ پوری لینے بیٹے کو صبح ہی صبح بازار کو دوڑاتیں۔ داماد اتنی آؤ بھگت دیکھتے تو اور پھیل جاتے۔ کبھی پائے کھانے کی فرمائش آتی، کبھی نہاری تو کبھی مچھلی کی۔ کوئی آسان ڈش تو انہیں پسند ہی نہیں۔ ایسی فرمائشیں کرتے کہ پکاتے ہوئے کھڑے کھڑے ٹانگیں اکڑ جائیں۔ اوپر سے ہر اتوار ماسی بھی چھٹی کر لیتی ہے۔ آنے والیاں تو مہمان ہیں وہ کیسے کچھ کر سکتیں۔ ساس جوڑوں کی مریض، لے دے کے ایک میں ہی رہ جاتی ہوں، اکلوتے بیٹے کی بیوی۔ 

ان کے کون سے چار بھائی ہیں جو وہ باری باری سب سے لاڈ اٹھوائیں۔ خیر سے ایک ہی تو بھائی ہے ان کا، وہ کیوں نہ اس سے فرمائشیں کریں۔ بہو کی تو ذمہ داری ہے گھر سنبھالنا۔ آخر سب کچھ اسی کا ہی تو ہے ان کے بھائی سمیت۔ بہنیں تو ہفتے میں ایک دن آتی ہیں روز تو میں ہی ہوتی ہوں میاں کے ساتھ۔ اب بھائی میرے حوالے کر کے اتنا تو بہنوں کا حق بنتا ہے۔ یہ فرمان میری ساس کے ہیں۔

ہفتے کے چھ دن بھابھی کے ایک اتوار تو ہمارا حق بنتا ہے بھائی جان پر۔ سب سے چھوٹی لاڈ سے بانہیں بھائی کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہتی۔ کیوں نہیں میرا تو ہر دن میری ماں اور بہنوں کا ہے۔ 

چھ ماہ کی روتی ابیہا کو سلانا مشکل ہو رہا تھا، باہر اتنا سارا کام تھا اور یہ روئے جارہی تھی۔ میں روہانسی ہوگئی۔ کسی نے اسے نہیں پکڑنا تھا۔ سو میں اسے کچن ہی میں لے آئی۔ بھابھی کھانا کب تک تیار ہوگا۔ نند نے ٹی وی لاؤنج سے آواز لگائی۔ بچی کے رونے کی آواز سے پورا گھر گونج رہا تھا لیکن انہیں اس کی آواز نہیں آرہی تھی، اپنے کھانے کی پڑی تھی۔ 

رات گیارہ بجے سب نندیں اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوئیں تو میں بھی تھکن سے چور سونے کے لئے لیٹی ہی تھی کہ چھوٹی ابیہا نے پھر رونا شروع کر دیا۔ پتہ نہیں کیوں یہ آج چپ ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اسے باہر لے جاؤ شاہ میر کو غصہ آنے لگا۔ شاہ میر مجھ سے بیٹھا نہیں جارہا باہر کیسے جاؤں۔ چلو جی کمرے میں آیا نہیں اور تمہاری بیماری کے ڈرامے شروع۔ مجھے بھی سکون چاہیئے، کما کما کر تھک جاتا ہوں۔ یہ نہیں کہ دو گھڑی خوشی کے دے دو۔ کمرے میں آتے ہی رونا دھونا شروع کر دیتی ہو ماں بیٹیاں۔ دو دو کام والیاں رکھ کے دی ہوئی ہیں، ہر سہولت میسر ہے اور پھر بھی تم ہر وقت بیزار رہتی ہو۔ تم جیسی ناشکری عورت آج تک نہیں دیکھی۔ جیسی تم ویسی تمھاری بیٹیاں حرام ہے جو کبھی تم لوگوں کے چہروں پہ مسکراہٹ آ جائے، ہونہہ۔ جاؤ اسے باہر لے جاؤ پلیز۔۔ ہنستے مسکراتے شاہ میر کا لہجہ کمرے میں آتے ہی بدل چکا تھا۔ ایک ہی سانس میں وہ جانے کیا کیا کچھ کہہ گیا۔ میں آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ابیہا کو لیکر کمرے سے باہر آگئی۔  

صبح کام والی آئی تو اس کے ساتھ مل کر ساراگھر صاف کیا۔ اتنے لوگ جمع ہوں تو پھیلاوا سمیٹنے میں نہیں آتا۔ کام والی نے بول بول کر سر درد لگا دیا تھا۔ حالانکہ اس کا آدھے  سے زیادہ کام تو میں کرتی ہوں۔ بی بی اتنے سارے پیسوں میں اتنا کام میں نہیں کر سکتی۔ آپ لوگ تو پاگل کر دیں گے کام کروا کروا کے۔ کام والی مسلسل بول رہی تھی۔

میں بھی تو تمھارے ساتھ لگتی ہوں مجھے بھی آدھے دیا کرو۔ تمھیں تو کام کا معاوضہ مل جاتا ہے مجھے تو وہ بھی نہیں ملتا، میں نے ہنس کر کہا۔ جسے بدقسمتی سے ساس نے سن لیا اور بس پھر۔۔۔

لوجی اب بہو اور کام والی میں کوئی فرق نہیں رہا، جسے گھر کی مالکن کا درجہ دیا ہے وہ کمیوں جیسی باتیں کررہی، ہے ہی چھوٹے خاندان کی۔ ارے بی بی کام والی اور گھر کی بہو میں فرق ہوتا ہے۔ اگر بہو نے پیسے لیکر ہی کام کرنا ہے تو بہو لانے کا فائدہ۔ بندہ کام والیاں ہی رکھ لے۔ لیکن یہ بات تم جیسیوں کو کون سمجھائے۔ ساس نے اب سارا دن بولنا تھا، جسے خاموشی سے سننے ہی میں عافیت تھی۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button