منتخب کالم
اتحاد کی قوت/ سرفراز راجا

سال شروع ہونے سے قبل نیوز چینلز پر بیٹھ کر پیش گوئیاں کرنے والے اور آنے والے دنوں کا احوال بتانے والے ستارہ شناس بھی یہ بتانے سے قاصر رہے کہ یہ سال اتنا جنگوں بھرا ہوگا۔ یہ سال دنیا کو کسی بڑی ایٹمی جنگ کے دھانے پر لے جائے گا اور یہ سال عالمی منظر نامہ بدل کر رکھ دے گا۔ سال کے چوتھے مہینے میں پاک بھارت جنگ نے بہت کچھ بدل دیا۔ پاکستان اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کو گھنٹوں میں گھٹنوں کے بل لے آیا اور پھر چھٹے مہینے میں ایران اسرائیل جنگ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی لڑائی غیر متوقع تھی، پہلے کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایسی مہم جوئی کرے گا اور نہ بھارت نے کبھی یہ سوچا تھا کہ وہ پاکستان سے اتنی جلدی اور ایسی شکست فاش کا شکار ہو جائے گا جو اسے عسکری میدان میں پچھاڑنے کے ساتھ سفارتی سطح پر بھی تنہا کرکے رکھ دے گی۔
البتہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کسی جنگ کا چھڑ جانا ہرگز غیر متوقع نہ تھا۔ یہ دونوں گزشتہ سال بھی اسرائیلی جارحیت کے باعث جنگ کے دھانے پر آچکے تھے۔ لیکن بڑی اور باضابطہ جنگ سے خطہ بال بال بچ گیا تھا۔ اس کشیدگی نے اسرائیل کو ہلا شیری ضرور دیدی تھی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ اسرائیل نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کردیا۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے اسرائیل کو اپنے سے دو گنا بڑے اور ہزاروں میل دوری پر واقع ملک پر حملے کی ہمت کیسے ہوئی اور کیوں ہوئی؟ بچپن سے ہمیں ایک واقعہ سنایا جاتا رہا ہے کہ وہ ایک شخص جس کے پانچ بچے ہوتے ہیں وہ انھیں ایک ایک چھڑی لانے کا کہتا ہے اور پھر انھیں ایک ایک کرکے توڑ دیتا ہے۔ پھروہ انھیں دوبارہ چھڑیاں لانے کا کہتا ہے، انھیں اکٹھا کرتا ہے اور توڑنے کا کہتا ہے لیکن وہ چھڑیوں کا بنڈل ٹوٹ نہیں پاتا اور وہ بچوں کو یہی بتاتا ہے کہ مل کر رہیں گے تو تمھیں کوئی توڑ نہیں پائے گا۔
دنیا میں پچاس سے زائد مسلمان ممالک ہیں جن کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا پچیس فیصد ہے اور اسرائیل یہودی اکثریت والا واحد ملک دنیا میں یہودی آبادی کل ملا کے دو کروڑ بھی پوری نہیں ہوتی۔ لیکن مسلم دنیا کی سب سے بڑی کمزوری یہی تقسیم ہے اور اسرائیل کی طاقت بھی یہی ثابت ہورہی ہے۔ دوسرا سوال کہ اسرائیل کو اہنے سے ہزاروں میل دوری پر واقع ایران سے خطرہ کیا ہے تو خطرہ ہے ایران کی جوہری صلاحیت ۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اگر ایران جوہری صلاحیت حاصل کرلیتا ہے تو اس سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اسرائیلی حملوں میں ایران کے جوہری سائنسدانوں اور مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کی جارحیت پر کئی بڑے ممالک اپنے مفادات کی وجہ سے خاموش ہیں لیکن اکثریت اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کررہی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی دنیا کی بڑی طاقتیں جن میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ جیسے ممالک شامل ہیں ان میں ایک اتحاد دکھائی دے رہا ہے۔ ان تینوں ممالک کے سربراہان ایرانی قیادت کے ساتھ رابطہ کرکے اظہار یکجہتی کر چکے ہیں۔
حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ ایران اسرائیل جنگ خطے اور بالخصوص اسلامی دنیا میں مستقبل کے حوالے سے اہم ثابت ہوگی۔ اسلامی ممالک میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کو روکا نہ گیا تو یہ آنے والے دنوں میں مزید بڑھے گی اور اگر اس کا بھرپور جواب نہ دیا گیا تو اسرائیل دوسرے ممالک کو بھی آنکھیں دکھائے گا۔ جنگیں قوموں کو متحد کرتی ہیں اور یہاں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ تقسیم واضح ہوجاتی ہے کہ کون کس کے ساتھ اور کہاں کھڑا ہے، کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ جیسا ہم نے ہاک بھارت جنگ میں دیکھا کہ کس طرح پاکستانی قوم ایک ہوگئی۔ اس سے قبل ملک میں ایک شدید قسم کی سیاسی تقسیم پیدا کی گئی تھی جس میں نفرت کا رنگ بھرا گیا تھا۔ لیکن جونہی بھارت مدمقابل آیا سب متحد ہوگئے۔ تقسیم پیدا کرنے والے خود تنہائی کا شکار ہوگئے۔ اس کی واضح مثال ہم نے دیکھی کہ گزشتہ دنوں تحریک انصاف کی جانب سے امریکا میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف مظاہرے کی کال دی گئی بھرپور تشہیر اور لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود چند سو افراد کو ہی جمع کیا جاسکا۔ یہ اسی جنگ کا نتیجہ تھا جس نے قوم کو یہ احساس دلایا کہ ان کی تقسیم صرف دشمن کو ہی فائدہ دے سکتی ہے۔ جس طرح پاک بھارت جنگ نے پاکستانی قوم کو متحد کیا اس طرح اگر اسرائیل ایران جنگ اسلامی دنیا کو متحد کردے تو یہ اس خطے اور دنیا کے لیے گیم چینجر بن سکتی ہے۔
البتہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کسی جنگ کا چھڑ جانا ہرگز غیر متوقع نہ تھا۔ یہ دونوں گزشتہ سال بھی اسرائیلی جارحیت کے باعث جنگ کے دھانے پر آچکے تھے۔ لیکن بڑی اور باضابطہ جنگ سے خطہ بال بال بچ گیا تھا۔ اس کشیدگی نے اسرائیل کو ہلا شیری ضرور دیدی تھی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ اسرائیل نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کردیا۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے اسرائیل کو اپنے سے دو گنا بڑے اور ہزاروں میل دوری پر واقع ملک پر حملے کی ہمت کیسے ہوئی اور کیوں ہوئی؟ بچپن سے ہمیں ایک واقعہ سنایا جاتا رہا ہے کہ وہ ایک شخص جس کے پانچ بچے ہوتے ہیں وہ انھیں ایک ایک چھڑی لانے کا کہتا ہے اور پھر انھیں ایک ایک کرکے توڑ دیتا ہے۔ پھروہ انھیں دوبارہ چھڑیاں لانے کا کہتا ہے، انھیں اکٹھا کرتا ہے اور توڑنے کا کہتا ہے لیکن وہ چھڑیوں کا بنڈل ٹوٹ نہیں پاتا اور وہ بچوں کو یہی بتاتا ہے کہ مل کر رہیں گے تو تمھیں کوئی توڑ نہیں پائے گا۔
دنیا میں پچاس سے زائد مسلمان ممالک ہیں جن کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا پچیس فیصد ہے اور اسرائیل یہودی اکثریت والا واحد ملک دنیا میں یہودی آبادی کل ملا کے دو کروڑ بھی پوری نہیں ہوتی۔ لیکن مسلم دنیا کی سب سے بڑی کمزوری یہی تقسیم ہے اور اسرائیل کی طاقت بھی یہی ثابت ہورہی ہے۔ دوسرا سوال کہ اسرائیل کو اہنے سے ہزاروں میل دوری پر واقع ایران سے خطرہ کیا ہے تو خطرہ ہے ایران کی جوہری صلاحیت ۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اگر ایران جوہری صلاحیت حاصل کرلیتا ہے تو اس سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اسرائیلی حملوں میں ایران کے جوہری سائنسدانوں اور مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کی جارحیت پر کئی بڑے ممالک اپنے مفادات کی وجہ سے خاموش ہیں لیکن اکثریت اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کررہی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی دنیا کی بڑی طاقتیں جن میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ جیسے ممالک شامل ہیں ان میں ایک اتحاد دکھائی دے رہا ہے۔ ان تینوں ممالک کے سربراہان ایرانی قیادت کے ساتھ رابطہ کرکے اظہار یکجہتی کر چکے ہیں۔
حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ ایران اسرائیل جنگ خطے اور بالخصوص اسلامی دنیا میں مستقبل کے حوالے سے اہم ثابت ہوگی۔ اسلامی ممالک میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کو روکا نہ گیا تو یہ آنے والے دنوں میں مزید بڑھے گی اور اگر اس کا بھرپور جواب نہ دیا گیا تو اسرائیل دوسرے ممالک کو بھی آنکھیں دکھائے گا۔ جنگیں قوموں کو متحد کرتی ہیں اور یہاں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ تقسیم واضح ہوجاتی ہے کہ کون کس کے ساتھ اور کہاں کھڑا ہے، کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ جیسا ہم نے ہاک بھارت جنگ میں دیکھا کہ کس طرح پاکستانی قوم ایک ہوگئی۔ اس سے قبل ملک میں ایک شدید قسم کی سیاسی تقسیم پیدا کی گئی تھی جس میں نفرت کا رنگ بھرا گیا تھا۔ لیکن جونہی بھارت مدمقابل آیا سب متحد ہوگئے۔ تقسیم پیدا کرنے والے خود تنہائی کا شکار ہوگئے۔ اس کی واضح مثال ہم نے دیکھی کہ گزشتہ دنوں تحریک انصاف کی جانب سے امریکا میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف مظاہرے کی کال دی گئی بھرپور تشہیر اور لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود چند سو افراد کو ہی جمع کیا جاسکا۔ یہ اسی جنگ کا نتیجہ تھا جس نے قوم کو یہ احساس دلایا کہ ان کی تقسیم صرف دشمن کو ہی فائدہ دے سکتی ہے۔ جس طرح پاک بھارت جنگ نے پاکستانی قوم کو متحد کیا اس طرح اگر اسرائیل ایران جنگ اسلامی دنیا کو متحد کردے تو یہ اس خطے اور دنیا کے لیے گیم چینجر بن سکتی ہے۔




