سب کو فوری طور پر تہران خالی کر دینا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ/ اردو ورثہ

اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو ایران کی متعدد فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی کے علاوہ کئی جوہری سائنس دانوں کی موت کے بعد تہران کے جوابی حملے جاری ہیں جب کہ اسرائیل بھی مختلف ایرانی شہروں اور تنصیبات پر میزائل حملے کر رہا ہے۔
ایران نے اسرائیلی حملوں کا ’سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا تھا اور اسی سلسلے میں اس نے ’آپریشن وعدہ صادق سوم‘ کے نام سے کی گئی بھرپور جوابی کارروائی میں اسرائیل پر مختلف وقفوں سے سینکڑوں میزائل داغے ہیں۔
ایران اور اسرائیلی جنگ کی اپ ڈیٹس یہاں دیکھیے:
سب کو فوری طور پر تہران خالی کر دینا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ’فوری طورپر تہران خالی کرنے‘ پر زور دیتے کہا ہے کہ ایران کو ان کے تجویز کردہ ’معاہدے‘ پر دستخط کر لینے چاہیے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا: ’ایران کو اس ’معاہدے‘ پر دستخط کر لینے چاہیے تھے جس پر میں نے انہیں دستخط کرنے کو کہا تھا۔ کتنی شرم کی بات ہے اور انسانی زندگی کا ضیاع۔ سیدھے الفاظ میں ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ میں بار بار یہ کہ چکا ہوں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے ایرانی شہریوں پر زور دیتے ہوئے لکھا: ’سب کو فوری طور پر تہران کو خالی کر دینا چاہیے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک اور پوسٹ میں لکھا: ’سب سے پہلے امریکہ کا مطلب بہت سی عظیم چیزیں ہیں، بشمول یہ حقیقت کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں!‘
13 جون کو ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد تہران کی جوابی کارروائیوں نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں 15 جون کو ہونے والے امریکہ ایران جوہری مذاکرات کو متاثر کیا اور ان کا انعقاد نہ ہو سکا۔
اگرچہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیلی حملوں کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکہ اس میں ملوث نہیں تھا، تاہم ایران نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ اس حملے کے ’نتائج کا ذمہ دار‘ ہے۔
ایران نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر تنازع ہوا تو وہ امریکی اڈوں پر حملہ کر دے گا۔
ایران جوہری پروگرام کو اپنا ’ناقابل گفت و شنید‘ حق قرار دیتا ہے جبکہ واشنگٹن نے اسے ایک ’سرخ لکیر‘ کہا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کہہ چکے ہیں کہ یورینیم کی افزودگی ایران کے جوہری پروگرام کی ’کنجی‘ ہے اور واشنگٹن کو اس معاملے پر ’بولنے کا کوئی حق نہیں۔‘
فی الحال ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، جو 2015 کے معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے اور اگرچہ یہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد کی سطح تک نہیں پہنچا، لیکن اس کے قریب ضرور ہے۔
مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں، جبکہ تہران اصرار کرتا ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔




