منتخب کالم

  پولیس تبدیل کیوں نہ ہوسکی؟/ یونس باٹھ



محکمہ پولیس کی اگر بات کی جائے تو اس کی کہانی 1861 ء سے آج تک بڑی المناک رہی ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے پولیس ایکٹ 1861ء  منظور کیا جس کا مقصد ہندوستان کے عوام کو اپنا غلام بنائے رکھنا ان کا استحصال کرنا اور اپنے قومی مفادات کو تحفظ دینا تھا۔ جب یہ ایکٹ منظور ہوا تو اس وقت کے ہندوستان کے لیڈروں نے اسے کالا قانون قرار دیا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کی آزادی سے پہلے بھی اس پولیس ایکٹ کے ذریعے عوام کو جبر اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس ایکٹ 1861ء  نے تھانہ کلچر پیدا کیا جو عوام دشمن اور اشرافیہ نواز ہے۔ قیام پاکستان کے بعد آزادی کے تقاضوں کے مطابق اس پولیس ایکٹ کو فوری طور پر تبدیل کر دینا چاہیے تھا مگر چونکہ برطانیہ نے پاکستان کو صرف جغرافیائی آزادی دی تھی اور انگریزی نظام سے آزادی پاکستان کے مسلمانوں نے خود حاصل کرنی تھی مگر بدقسمتی سے بانیان پاکستان کی رخصتی کے بعد پاکستان پر ایسے طبقات قابض ہوگئے جو انگریز نواز تھے چنانچہ برطانیہ اور پاکستان کی اشرافیہ کے درمیان ایک خاموش معاہدہ طے پا گیا کہ پاکستان میں انگریزوں کے جاری و ساری ریاستی نظام کو تبدیل نہیں کیا جائے گا تاکہ برطانیہ اور پاکستان کی اشرافیہ پاکستان کی ریاست سے اسی طرح مفادات حاصل کرتے رہیں جس طرح وہ آزادی سے پہلے حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ لازم تھا کہ تھانہ کلچر کو برقرار رکھا جاتا پولیس حکمران اشرافیہ کا ایک ہتھیار بن چکی ہے۔ اشرافیہ پولیس کے ذریعے عوام پر حکمرانی کرتی ہے۔ عوام کے منتخب نمائندے اپنے انتخابی حلقوں میں اپنے پسندیدہ تھانے دار تعینات کراتے ہیں۔ انگریزوں کا دیا ہوا پولیس ایکٹ 2002  تک جاری رہا کسی حکمران نے پولیس ایکٹ کو تبدیل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی حالاں کہ اس دوران حکومت کی نامزد کردہ مختلف کمیٹیوں نے انگریزوں کے ایکٹ کو تبدیل کرنے کے لئے 30 رپورٹیں تیار کیں مگر ان پر عمل نہ کیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ریاستی نظام کی تشکیل نو کے لیے ایک قومی بیورو قائم کیا جس نے بڑی سنجیدگی اور عوامی مشاورت کے ساتھ پولیس ایکٹ 2002  تیار کیا جس کو پولیس کے تمام ماہرین نے سراہا۔ پاکستانی ایکٹ پر پوری طرح عمل درآمد بھی نہیں ہوا تھا کہ 2004 میں سیاسی حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے اس میں من مرضی کی ترامیم کرلیں۔ پولیس کے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ ان ترامیم کے باوجود پولیس ایکٹ 2002  ایک قابل عمل اور شاندار ایکٹ ہے جس پر عمل کرکے پاکستان میں جرائم کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا اور عوام کی خدمت کی جا سکتی تھی۔ پولیس ایکٹ تین بنیادی اصولوں کے مطابق تیار کیا گیا تھا پہلا اصول یہ تھا کہ پولیس کو مکمل طور پر غیرسیاسی کر دیا جائے، دوسرا اصول یہ تھا کہ پولیس کو انتظامی اور آپریشنل آزادی دی جائے، تیسرا اصول یہ تھا کہ پولیس کے احتساب کے لیے شفاف نظام وضع کیا جائے اور پولیس کی مانیٹرنگ پبلک کو دی جائے تاکہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد بحال ہو سکے اور کوئی بھی پولیس کو عوام کے خلاف استعمال نہ کر سکے۔ پولیس ایکٹ 2002  کے بعد بیوروکریسی اور سیاستدانوں کا پولیس پر کنٹرول کافی حد تک ختم ہوگیا۔ افسوس حکمرانوں نے اس عوام دوست پولیس ایکٹ پر پر عمل درآمد نہ ہونے دیا اور اٹھارویں ترمیم کے بعد مفاد پرست سیاستدانوں نے یہ پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ پولیس کے تمام اختیارات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں حالانکہ حقیقت یہ نہیں تھی اور پاکستان کی عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں بھی یہ لکھا کہ پولیس کا نظام وفاق اور صوبوں کے مشترکہ کنٹرول میں رہے گا۔ پولیس ریاست کا بنیادی ادارہ ہوتا ہے پولیس کے بغیر کوئی ریاست نہیں چل سکتی۔ پولیس کا بنیادی کام امن و امان کو قائم رکھنا اور جرائم پر کنٹرول پانا ہوتا ہے جب تک پولیس کے اوپر عوام کا چیک نہیں ہوگا پولیس کسی صورت جرائم پر قابو نہیں پا سکے گی۔





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button