سفر نامہ

رنگون کی دیوداسیاں

اے حمید

                 دوسری جنگ عظیم چھڑ چکی تھی۔ابھی جاپان جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا کہ خانہ بدوش ہوائیں مجھے لے اُڑیں اور میں امرتسر سے ہو ہڑہ ایکسپریس میں سوار ہو کر کلکتے اور کلکتے سے ایک بحری جہاز میں بیٹھ کر خلیج بنگال کے گہرے سیاہ پانیوں کو عبور کرتا  رنگون پہنچ گیا۔ سنہری بدھی مندروں، جھومتے ناریلوں، کنول سے بھری ہوئی جھیلوں اور زرد کیلے کے گنجان جنگلوں کا دیس رنگون … میں نے اسی سال میٹرک کیا تھا بلکہ میٹرک کا نتیجہ میں نے لکھنؤ ریلوے اسٹیشن پر سول ملٹری گزٹ اخبار ہی میں پڑھا۔ میں نے تھرڈ ڈویژن میں میٹرک پاس کر لیا تھا۔ گھر والے آگے پڑھانا چاہتے تھے اور میں اس سے بھی آگے جا کر دیش دیش ، جنگل جنگل کی آوارہ گردی کرنا چاہتا تھا۔ رنگون کے بارے میں میں نے میونسپل کمیٹی کی لائبریری میں بیٹھ کر بہت سی رنگین تصویر یں دیکھی تھیں۔ کیلے کے سبز پتوں میں چھپے ہوئے زرد گچھے۔ دریائے ایراوتی کے گدلے پانیوں میں کشتیاں کھیتے ملاح ، سنہری دھوپ میں چمکتے بدھی مندروں کے طلائی کلس۔ گوتم بدھ کی مقدس مورتیوں کے آگے ادب سے جھکے ہوئے زرد کپڑوں والے بدھ بھکشو ، نیلی جھیلوں پر کھلے ہوئے کنول کے سفید پھول اور بانس کے گہرے سبز جنگلوں میں چیتے کی انگاروں ایسی دیکھتی آنکھیں۔۔۔۔۔۔  رنگون دیکھنے کی مجھے بڑی حسرت تھی۔ چنانچہ ایک روز میں رنگون پہنچ گیا۔

رنگون شہر کی مشہور سٹرک اسپارک اسٹریٹ میں ہمارے ایک قریبی عزیز رہتے تھے۔ میں ان کے ہاں جا کر ٹھہر گیا۔ اس شہر میں پنجابی، سندھی ، سورتی  میمن اور یوپی کے مسلمانوں کی بھاری تعداد آباد تھی۔ یہاں سے اُردو کے دو مشہور اخبار شیر اور مجاہد بر ما شائع ہوتے تھے۔ ان اخباروں کو باری علیگ اور ممتاز ملک ایڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ پختہ عمر کے پابند صوم و صلوۃ شاہ جی ان دونوں اخباروں کے مدیر اعلیٰ تھے۔ اُنہوں نے مجھے اخبار کے دفتر میں بطور اپرینٹس رکھ لیا۔ اسرائیل احمد چیف نیوز ایڈیٹر تھے۔ وہ مجھے خبروں کا ترجمہ کرنا سکھاتے۔ ممتاز ملک صاحب نے مجھے رنگون ریڈیو پر بھی پنجابی میں خبریں پڑھنے کا کام دلوادیا۔ اب مجھے اتنے پیسے ملنے لگے کہ میں سنیما بھی دیکھتا ، ہوٹلوں میں بیٹھ کر کھانا کھاتا، چائے پیتا اور شہر کی سیر بھی کرتا۔ محمود نامی ایک سورتی میمن لڑکا میرا دوست بن گیا۔ وہ گٹار بڑی اچھی بجاتا تھا۔ رنگون مسلم ایسوسی ایشن ( کچھ اسی قسم کا نام تھا )  کے ماہانہ جلسے شہر کی بہترین لائبریری کے ہال میں منعقد ہوا کرتے ۔ وہاں محمود گٹار بجاتا اور میں علامہ اقبال کی نظمیں گا کر سنایا کرتا۔ موتی لعل اور خورشید کی فلم پردیسی شاید پیچاسویں ہفتے میں چل رہی تھی۔ میں نے اور محمود نے اس فلم کا ایک گانا اب کہاں بسیرا اپنا خوب پکا لیا تھا۔ چنانچہ ہم ثقافتی جلسوں میں اکثر یہ گانا گایا کرتے ۔

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں ، دوسری عالمگیر جنگ شروع ہو چکی تھی مگر جاپان ابھی میدان جنگ میں نہیں کو دا تھا۔ اس کے باوجود اتحادیوں کو جاپان کی طرف سے خطرے کا پورا پورا احساس ہو چکا تھا۔ چنانچہ برما کے ہر بڑے شہر میں ہوائی حملے سے بچاؤ کے لیے زمین دوز پناہ گا ہیں کھودی جارہی تھیں ۔ امریکی، برطانوی اور ہندوستانی سپاہیوں سے بھرے ہوئے بحری جہاز رنگون کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہور ہے تھے۔ ”منِ جی آں“ اور ”تھابی ٹاگن“ کے تیل کے عظیم ذخیروں کو ہر لحاظ سے محفوظ کیا جا رہا تھا۔ رنگون کی منڈیوں میں اجناس کے دام آسمان کی باتیں کرنے لگے تھے ۔ رنگون سیکریٹریٹ کے ار د گرد خار دار تار کھینچنے کے بعد ملازموں میں شناختی کارڈ تقسیم کر دیے گئے تھے اور مسلح گارڈ کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔ پٹرول اور گولہ بارود کے ذخیروں کو سیلز بیریکس سے نکال کر رنگون کے گر جاؤں اور کالجوں میں کیموفلاج کیا جا رہا تھا۔

رنگون ریڈیو سے اُردو سروس شام کو ایک گھنٹے کے لیے ہوتی۔ اس کے بعد پانچ منٹ کے لیے میں پنجابی میں خبریں سناتا۔ رنگون ریڈیو کی عمارت میکسم اسٹریٹ میں تھی ۔ مسٹر میکائے انچارج تھے۔ مسٹرڈی کوسٹا ایک حلیم الطبع ادھیڑ عمر کا پرتگالی انجینئر تھا جو اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رنگون شہر کے مشرقی کونے پر دریائے امراوتی کے کنارے ایک خوبصورت کا ٹیچ میں رہتا تھا۔ ایک روز وہ گاڑی میں بٹھلا کر مجھے اپنے گھر لے گیا۔ اس کی بیوی نے مجھے ٹھنڈی کریم ڈال کر کافی پلائی۔ ایراوتی کی تازہ مچھلی کے سینڈوچز کھلائے ۔ اس کی چھوٹی لڑکی میری ہم عمر تھی ۔ ہم دونوں کوٹھی کے ہرے بھرے لان میں بیڈمنٹن کھیلتے رہتے ۔ وہ سفید فلیٹ شوز ، سفید نیکر اور سفید شرٹ میں ملبوس تھی ۔ اس کے سنہرے بال ہوا میں لہرا رہے تھے اور سنہری چہرہ استوائی دھوپ میں سیب کی طرح دمک رہا تھا۔ سہ پہر کی چائے ہم نے کاٹیچ کے عقبی ٹیریس میں بیٹھ کر پی۔ سامنے دریائے امراوتی کی لہروں پر برمی ماہی گیروں کے سمپان (چھوٹی کشتیاں ) دور تک تیر رہے تھے۔ مسٹر ڈی کوسٹا نے فروٹ ٹن کھول کر تازہ رس بھری خوبانیاں میری پلیٹ میں ڈال دیں۔ بڑی لڑکی انناس کاٹ رہی تھی اور چھوٹی یعنی میری ہم عمر لڑکی میرے ساتھ بیٹھی چائے میں ناریل کا دودھ ڈال رہی تھی اور فضا میں ناریل، انناس ، خوبانی اور سیلون کی چائے کی خوشبو میں اس لڑکی کے جسم سے اٹھتی دھیمی دھیمی مہک مخلوط ہو رہی تھی۔ میں جب گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے رخصت ہوا تو سورج ایراوتی کی لہروں میں غروب ہورہا تھا اور ان لوگوں کے محبت بھرے چہرے سورج کے الوداعی کرنوں میں چمک رہے تھے۔ جنہیں میں پھر کبھی نہ دیکھ سکا۔

برمی عورتوں کا رنگ عام طور پر سفیدی مائل زرد ہوتا ہے۔ چہرے کی جلد میں بڑی تازگی اور چمک ہوتی ہے۔ اس چمک اور تازگی کو برقرار رکھنے کے لیے برمی عورتیں ایک خاص قسم کی بوٹی کاست استعمال کرتی ہیں جسے برمی زبان میں تنا کھا کہا جاتا ہے۔ ہر عورت رات کو چہرے پر تنا کھا مل کر سوتی ہے اور صبح منہ دھونے کے بعد چہرے کا رنگ نکھر جاتا ہے۔ ایسے ہی تر و تازہ اور چمکیلے چہرے والی ایک نازک اندام برمی لڑکی کو میں نے مسٹر ڈی کوسٹا کے کا ٹیچ سے اپنے گھر واپس آتے ہوئے دیکھا۔ وہ ایک بس اسٹاپ کے بینچ پر کیلے کا زرد کچھا گود میں لیے بیٹھی تھی۔ ہماری گاڑی   اس کے سامنے سے گزری تو اس نے یونہی گردن گھما کر میری طرف دیکھا۔ ایک پل کے لیے ہماری آنکھیں چار ہوئیں۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ مسکرادی ہو۔ گاڑی آگے نکل گئی۔ نازک اندام برمی لڑکی پیچھے رہ گئی۔ اس کی معصوم مسکراہٹ پیچھے رہ گئی۔ غروب ہوتا ہوا سورج پیچھے رہ گیا۔ دریائے ایراوتی کی لہروں پر اس کی کرنوں کا پگھلا ہوا سونا پیچھے رہ گیا۔

جس فلیٹ میں میری رہائش تھی اس کے عقب میں ایک مختصر سا باغیچہ تھا۔ میرا کمرہ اس باغیچے کے کونے پر تھا۔ کھڑکی کے چھجے پر مونگرہ بیل چڑھی ہوئی تھی جس کے سفید پھول رات کو میرے کمرے میں مہک پھیلا دیتے ۔ سامنے دیوار کے ساتھ ساتھ کیلے کے چوڑے پتوں والے درختوں کی قطار کھڑی تھی۔ صبح کو کیلے کے قرمزی پور اور سبز پتے شبنم میں نہائے ہوئے ہوتے۔سامنے والے فلیٹ کے کمرے میں نیم سبز پر وقار آنکھوں والی ایک غمگین سی دہلی عورت اپنی بچی کے ساتھ رہتی تھی۔ کبھی کبھی وہ گیلری میں آکر آرام کرسی پر بیٹھ جاتی اور سگریٹ سلگا کر بڑی گہری محویت سے دور پارک میں لہراتے ناریل کے درختوں کو دیکھا کرتی۔ مجھے یہ عورت بڑی اچھی لگتی تھی۔ میں بھی اپنے کمرے کی کھڑکی میں بیٹھا اسے چوری چوری دیکھا کرتا۔

ایک روز رنگون کا آسمان گہرے سرمئی بادلوں سے گھرا ہوا تھا اور بڑے زور کی بارش ہو رہی تھی۔ میں وائٹ ہاؤس کا سگریٹ سلگائے کھڑکی کے پاس کرسی پر کیلے کے چوڑے پتوں پر بارش کی بوندوں کو گرتے دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری نگاہ سامنے والے فلیٹ کی طرف اُٹھ گئی۔ وہ لمبے بھورے بالوں اور نیم سبز پر وقار آنکھوں والی یورپین عورت گیلری میں آکر بیٹھ گئی۔ سگریٹ اس کی مخروطی اُنگلیوں میں سلگ رہا تھا۔ وہ کتنی ہی دیر وہاں چپ چاپ بیٹھی گرتی بارش کو دیکھتی رہی۔ پھر اس نے آہستہ سے گردن گھما کر میری طرف دیکھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ میرے دل کا حال جانتی ہے۔ اُسے معلوم ہو گیا ہے کہ میں اپنی کھڑکی میں بیٹھا اُسے چوری چوری دیکھا کرتا ہوں۔ میری عمر یہی کوئی سولہ سترہ برس کی تھی اور وہ عمر میں مجھ سے کوئی سولہ سترہ سال بڑی تھی ۔ اب بارش کا زور کم ہو چکا تھا اور اس نے ہلکی بوندا باندی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اس نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے وہ مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ میں فوراً اُٹھا اور بارش میں ہی اپنے فلیٹ کے گراؤنڈ فلور کے عقبی دروازے سے نکل کر اس کے فلیٹ میں جا پہنچا۔ وہ دروازے میں کھڑی تھی۔ میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔ اس نے چشمہ اُتار رکھا تھا۔ اس کی نیم سبز آنکھوں میں گہری جھیلوں ایسا سکون اور وقار تھا۔ اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور مجھے ڈرائینگ روم میں لے گئی۔ میرا ہاتھ بارش میں ٹھنڈا ہورہا تھا۔ اس کا ہاتھ بارش میں گرم ہورہا تھا۔ ڈرائنگ روم میں اس کی چھوٹی بچی گڑیوں سے کھیل رہی تھی۔ بچی کی آنکھیں نیلی اور بال سنہری اور گھنگھریالے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکروائی۔

میں نے بھی مسکرا کر اس کے سر پر پیار کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس عورت نے میرے سر پر ہاتھ سے پیار کیا۔ میں نے چہرہ اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ بڑے نرم، میٹھے اور پر سکون لہجے میں بولی۔

” یو گڈ بوائے۔۔۔۔۔”

اس نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں مجھ سے کچھ باتیں کیں جو مجھے یاد نہیں رہیں۔ میں نے بھی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اس سے کچھ باتیں کیں جو مجھے یاد نہیں ۔ رنگون کے بارے میں، میں نے صرف ایک ہی طویل مختصر افسانہ لکھا ہے۔ اس افسانے میں اس نیم سبز آنکھوں والی پر اسرار عورت کو میں نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ میں اپنے اس افسانے کو بھول گیا ہوں لیکن اس نیم سبز آنکھوں ، بھورے اور شفقت بھرے چہرے والی عورت کو نہیں بھولا. اور کبھی نہیں بھولوں گا۔

رنگون میں کئی ایک بدھی مندر تھے لیکن سولی پگوڈا رنگون کا سب سے بڑا بدھی مندر تھا۔ یہ مندر ایک بہت بڑے چوک کے وسط میں واقع ہے۔ اس کی پتھریلی سیڑھیاں کئی منزلوں تک زمین سے اوپراٹھتی چلی گئی ہیں۔ ہر منزل جب پر سیڑھیاں ختم ہوتی ہیں تو ایک چبوترہ آجاتا ہے جہاں برمی لڑکیاں آمنے سامنے بیٹھی پھول بیچتی ہیں۔ تیسری منزل پر پہنچ کر مندر کا صحن آجاتا ہے۔ صحن سنگ سرخ کا ہے۔ سامنے برآمدے ہیں۔ یہاں سے آگے جا کر ہال کمرے آتے ہیں جہاں جگہ جگہ مہاتما بدھ کے سونے کے مجسمے رکھتے ہیں۔ ایک بڑے ہال کمرے میں مہاتما بدھ کا بہت بڑا مجسمہ ہے۔ غالباً وہ سونے کا نہیں ۔ اس پر سونے کا پانی پھیرا گیا ہے۔ اس مجسمے کے ارد گرد بخورات کا دھواں پھیلا رہتا ہے اور مجسمے کے قدموں میں پھولوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔

میں دن بھر رنگون کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا ۔ ایک روز گھومتے گھومتے سولی پگوڈا کی طرف آنکلا ۔ گوتم بدھ سے مجھے شروع ہی سے بڑی عقیدت رہی ہے۔ اب جو سا منے گوتم بدھ کا ایک عظیم الشان مندر دیکھا تو قدم بے اختیار اس کی سیڑھیوں کی طرف اُٹھ گئے ۔ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے میں جب دوسری منزل کے چبوترے پر پہنچا تو میں نے پھول بیچنے والی ایک لڑکی کو دیکھا۔ وہ دوسری پھول بیچنے والی عورتوں کے کے ساتھ ساتھ لک لکڑی کی چوکی پر بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے پانی سے بھری ہوئی بالٹیوں میں سفید، قرمزی اور نیم کاسنی کنول کے پھول مسکرارہے تھے۔ اس لڑکی کا چہرہ کنول کے پھول سے بڑھ کر شگفتہ اور معصوم تھا۔ یہ لڑکی مجھے بہت پیاری لگی۔ میں اس کے پاس گیا ۔ وہ مسکرائی اور اس نے کنول کا ایک گچھا کیلے کے پتے میں لپیٹ کر مجھے تھما دیا اور بولی:

"فورسینٹ سر۔”

میں نے چار سینٹ اس کی ہتھیلی پر رکھ دیے، وہ پھر مسکرائی۔ اس کی مسکراہٹ کی جھیل میں لاکھوں سورج چمک رہے تھے۔ لاکھوں کنول کھلے ہوئے تھے۔ میں اس سے کوئی بات نہ کر سکا۔ اس کی زبان برمی تھی ۔ میری زبان پنجابی تھی لیکن اس کی مسکراہٹ نہ پنجابی تھی اور نہ برمی ۔

مسکراہٹ کا کوئی رسم الخط ، کوئی تحریر، کوئی تلفظ نہیں، وہ صرف مسکرا رہی تھی اور میں سمجھ رہا تھا۔ رسم الخط تحریر اور تلفظ کے پردے اُٹھ گئے تھے۔ میں پھول ہاتھوں میں تھامے اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ مندر میں جاکر میں نے پھول گوتم بدھ کے ایک سنہری مجسمے کے قدموں میں ڈال دیے اور گوتم بدھ کے پر سکون چہرے کو مسکرا کر دیکھا۔ مجھے یوں لگا جیسے گوتم بدھ بھی ذرا سا مسکرایا ہو۔ اس کی مسکراہٹ اور پھول بیچنے والی بری لڑکی کی مسکراہٹ میں صرف اتنا ہی فرق تھا کہ وہ مندر کے باہر بیٹھی تھی اور گوتم بدھ مندر کے اندر بیٹھا تھا۔ بعد میں جب میں نے رنگون کے بارے میں اپنا ناول "جھیل اور کنول” لکھا تو پھول بیچنےوالی لڑکی اس ناول کی ہیروئن بنی۔ میں نے اس کا برمی نام سائین رکھا۔ ناول میں اس لڑکی نے مجھ سے محبت کی۔ میں نے اس لڑکی سے محبت کی ۔ میں نے اس کے گھر کا نقشہ کھینچا۔ اس کی خالہ کے گھر میں چھپ چھپ کر ملاقاتیں کیں اور پھر جب رنگون پر جاپانیوں کا قبضہ ہو گیا تو رنگون سے ہجرت کر کے اکیاب شہر کے مضافاتی جنگلوں میں اس لڑکی سے ڈرامائی ملاقات کی۔ ہم دونوں جاپانیوں کے قیدی بنے۔ ایک رات جیل سے فرار ہوئے۔ ساحل سمندر پر یہ لڑ کی جاپانی پہرہ داروں کی گولی کا شکار ہوکر مرگئی۔ میں نے اس کی مردہ پیشانی کو چوما اور چاندنی رات میں سمندری لہروں پر جھولتی ہوئی کشتی میں سوار ہو کر روم کی طرف فرار ہو گیا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس پھول بیچنے والی لڑکی کو بدھی مندر کی سیڑھیوں پر پھول بیچتے دیکھا۔ اس سے چار سینٹ میں پھول خریدے، وہ مسکرائی اور بس !!

خدا جانے وہ لڑکی آج کہاں ہوگی۔ یقیناًاس کی شادی ہوگئی ہوگی۔ اس کے بچے جوان ہو گئے ہوں گے۔ میں اسے ہرگز یاد نہیں رہا ہوں گا۔ بھلا وہ ایک ایسے لڑکے کو کیسے یادرکھ سکتی ہے جس نے آج سے پچیس چھبیس برس پہلے مندر کی سیڑھیوں پر اس سے چار سینٹ میں کنول کے پھول خریدے ہوں اور .. اور اگر وہ مرگئی ہے تو میرا خدا اور اس کا بھگوان بدھ اُسے میری جنت اور اس کے سورگ میں سفید کنول سے بھری ہوئی جھیلوں کے کنارے بانس کے گہرے، پر اسرار، ٹھنڈے سایوں والے جنگلوں میں سدا سکھی رکھے۔ میں نے کئی خوبصورت لڑکیوں کے ساتھ بیٹھ کر خوشبودار چائے پی ہے اور میں انہیں بھول گیا ہوں ۔ ذہن میں چائے کی خوشبو باقی ہے۔ لڑکیوں کے چہرے غائب ہو گئے لیکن اس برمی لڑکی کی مسکراہٹ معصوم مسکراہٹ اور اس کا بھولا بھالا پر سکون ، شگفتہ، تروتازہ، حیادار، بے لوث چہرہ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر صبح مشرق میں سورج کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں اس کے ساتھ ہی غروب ہو جاتا ہے۔ میں اپنے مکان کے صحن میں لگے ہوئے زرد گلاب کی پنکھڑیوں میں اس کی صورت دیکھتا ہوں اور موتیے کی سفید کلیوں میں اس کی آواز کی خوشبو سونگھتا ہوں ۔ دسمبر کی ٹھٹھرتی راتوں کی شبنمی خاموشی میں، اس کی آواز سنتا ہوں اور دن چڑھے شہر کے شور و غل میں اس کی مقدس خاموشی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہوں ۔ ہاں. میں نے بھی خاموشی کو دیکھا ہے۔ سائیں کے روپ میں ، اس برمی لڑکی کے روپ میں، گوتم بدھ کے روپ میں نہایت اعلیٰ چائے پی کر، نہایت اعلیٰ سگریٹ سلگا کر، جب کبھی میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو ایک جنگل کو دیکھتا ہوں ۔ اوس ٹپکاتے ، گھنے، تاریک، گہرے جنگل کو اور پھر تاریک، گہری خاموش اور روشن رات کے نور میں ایک چہرہ ابھرتاہے جو مراقبے میں ہے اور جس کی پیشانی پر کبھی طلوع نہ ہونے والے، کبھی غروب نہ ہونے والے سورج کی روشنی ہے۔ روشنی کی سرگوشی ہے۔ دھیمی ، پر اسرار، پر سکون خاموشی !!

نوٹ :

اے حمید کی ریڈیو سیلون سے وابستگی کے دنوں کی ایک یادگار تصویر ملاحظہ ہو جسے راقم نے اے حمید کی ذاتی البم سے محفوظ کیا تھا۔ اس تصویر میں اے حمید، صدیقی صاحب ، صوبے دار پیارا سنگھ، صوبے دار گلستان خان اور اے حمید کے بہنوئی کیپٹن ممتاز ملک نمایاں ہیں (راشد اشرف)

From Right Lieutenant Siddiqui, Hawaldar Sharma, Sobaidar Gulistan Khan, A Hameed, Sobaidar Pyara Singh & Captain Mumtaz Malik (Brother-in-Law of A Hameed)

ماخوذ:

کتاب "یادوں کے گلاب” از اے حمید

Author

Related Articles

Back to top button