موسمیاتی خطرات کا گیارھواں گھنٹہ / راحت فاطمہ ظفر

موسمِ برسات کے قبل کا موسم جو پاکستان جیسے علاقوں میں روایتی طور پر خشک موسم ہوتا ہے ایسے موسم میں اس قدر تیز آندھیوں اور بارشوں اور ژالہ باری کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اگرچہ بارشوں کے درمیان وقفہ، بارشوں کی شدت یا ان کے برسنے کے وقت جیسے کچھ عناصر معمول کے ہو سکتے ہیں تاہم یہ سلسلہ نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ یہ خطرے کی گھنٹی بھی کہی جا سکتی ہے کیونکہ اس کا تعلق موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ یاد رہے کہ اس کا کسی بھی لمبے دورانیے پر مشتمل موسمیاتی چکر سے تعلق نہیں ہے۔
سنہ 2025 کی ابتدائی وسط میں پاکستان میں شدید ترین ژالہ باری، شدید آندھیاں، تیز بارشیں، اور خاص طور جو علامت ہے وہ ہے اچانک گرمی کی لہر کا آنا اور پھر اچانک ہی درجۂ حرارت کا نیچے گرنا یہ ایسی علامات ہیں جو خاص الخاص عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کی نشانیاں ہیں کہ پاکستان ان بد قسمت ممالک میں شامل ہو چکا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا پہلا پہلا شکار بنے ہیں۔
ان کی وجوہات درج ذیل ہیں۔
سمندروں کا گرم ہونا اور جیٹ سٹریمز کے سسٹم میں تبدیلی۔
بنگال کے ساحلوں سے لے کر پاکستانی ساحلوں تک کا بحیرۂ عرب کا علاقہ خطِ استوا سے آنے والے گرم درجۂ حرارت کے باعث گرم ہو رہا ہے جو کہ تیز ہواؤں کا باعث بن رہا ہے۔ اور اس میں سمندری نمی زیادہ ہونے کے باعث یہ شدید بارشوں اور تیز طوفانوں کا باعث بن رہا ہے۔ نیز یہ سمندری دھاراؤں کے نظام کو ڈسٹرب کر رہا ہے جس کے باعث ہوا کا مستقل کم دباؤ تیار ہو رہا ہے جو کہ ان بارشوں اور آندھیوں کی شدت اور بے قاعدگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں موسمی شدتوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔ پہلے جس طرح موسم آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے تھے اب یہ اچانک اور ابتداء سے ہی پوری شدت کے ساتھ تبدیل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جیسے بارشوں کی شدید کمی کے بعد نارمل کے بجاے شدید بارشیں یا جیسے اچانک سے گرمی کی لہریں آنا اور اچانک موسموں کا ٹھنڈا ہو جانا۔ اسی طرح سردی سے گرمی کا آنا بھی بتدریج نہیں رہا بلکہ اچانک موسم تبدیل ہونا شروع ہو چکا ہے جو کہ گلوبل وارمنگ اور عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک پیرامیٹر ہے۔
مغربی ہواؤں کا نظام پاکستان میں بارشوں کے سسٹمز کی وجہ بنتا ہے لیکن حالیہ عرصے میں بحرِ اوقیانوس کے اوپر موجود درجۂ حرارت میں اضافے نے مغربی ہواؤں کی شدت میں اضافہ اور ان کے دورانئے کو کم کر دیا ہے جس کا نتیجہ وسطی پاکستان میں غیر متوقع بارشوں اور آندھیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
پاکستانی موسم اگرچہ ایل نینو ایفیکٹس، ہمالیائی برف کے پگھلنے اور مون سون سے متاثر ہوتے ہیں تاہم بارشوں کے جو حالیہ سسٹم آ رہے ہیں یہ سابقہ تمام سسٹمز سے آگے نکل گئے ہیں۔ بلکہ پاکستان میٹریولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اور ورلڈ میٹریولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کا مشترکہ طور پر کہنا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے واقع ہونے کا وقفہ اور ان کی بے یقینی پچھلے دو عشروں میں غیر متوقع حد تک بڑھ چکی ہے اور یہ عالمی درجۂ حرارت بڑھنے اور عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے ہم آہنگ ہوتی جا رہی ہے۔
آئی پی سی سی نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار دنیا کے پہلے دس ممالک میں شامل کرتے ہوے کہا ہے کہ پاکستان میں 1980 سے اب تک بارشوں کی شدت میں 25 فیصد اضافی ہوا ہے اور 2022 کے سیلاب اور حالیہ غیر متوقع موسمی تبدیلیوں کا عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے انڈیکس سے واضح تعلق ہے۔
ہمیں بحیثیت قوم اب بیدار ہو جانا چاہئیے اور متعلقہ اداروں اور حکومتوں کے جاری کردہ ایس او پیز کو اپنے بچاؤ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے نہ صرف خود ان پر عمل کرنا چاہئیے بلکہ ان کو پھیلانا بھی چاہئیے تا کہ وطنِ عزیز میں رہنے والے سبھی محفوظ رہ سکیں۔




