منتخب کالم
28مئی پاکستانی تاریخ کا سنہرا دن / فیصل شامی

ایک دفعہ پھر 28 مئی کی تاریخ آئی اور آ کے گزر گئی تمام پاکستانی قوم نے جوش و خروش سے اور دھوم دھام سے یوم تکبیر منایا ملک بھر میں یوم تکبیر کے موقع پہ شہر شہر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا خوشیاں منائی گئیں۔ جلسے کئے گئے جلوس نکالے گئے اور متعدد تقریبات میں کیک کاٹ کر خوشی منائی گئی اور ملک بھر کی طرح یلغار پریس کلب لاہور میں بھی کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی جس میں لاہور بھر سے صحافی برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔آپ کوبتاتے چلیں 28 مئی پاکستانی عوام کے لئے خوشیوں بھرا دن ہے یا یوں کہہ لیں کہ 28 مئی پاکستانی تاریخ کا سنہرا دن ہے ایسا دن جو تاریخ میں رہتی دنیا تک امر ہو گیا۔ 28 مئی کا دن تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف میں رقم ہے۔ 28 مئی کو 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے اور دنیا بھر میں اپنا سکہ جمایا اور دنیا بھر کی ایٹمی قوتوں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ 28 مئی کو پاکستان نے چاغی کے مقام پہ ایٹمی دھماکے کئے اور جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو اس وقت وزیراعظم میاں نواز شریف تھے۔ میاں نواز شریف مسلم لیگ ن کے قائد ہیں اور تین دفعہ وزیراعظم پاکستان رہے اور بدقسمتی سے ان کی ہر حکومت میں سازشی ٹولہ حرکت میں آیا اور سازشوں کے ذریعے میاں نواز شریف کو اقتدار سے محروم کیا لیکن دنیا جانتی ہے کہ میاں نواز شریف جب بھی برسر اقتدار آئے ملک ہمیشہ ترقی کی راہ پہ گامزن ہوااوریہ سہرا بھی میاں نواز شریف کی حکومت کے سر پہ ہی سجا جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے اور اس وقت پاک فوج کے سربراہ جناب جنرل مشرف مرحوم تھے جبکہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی ٹیم کی قیادت جناب عبدالقدیر خان مرحوم کر رہے تھے اور ڈاکٹر قدیر خان مرحوم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور پاکستان کے دفاع کو مضبوط کیابلکہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل شکست بنایا اور دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بھی بلند کر دیا۔ 28 مئی کے دن ہی پاکستان کی طرف سے دشمنوں کو بھرپور جواب دیا گیا اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔آج بھی مسلم لیگ ن کی حکومت برسراقتدار ہے اور جناب شہبازشریف وزیراعظم پاکستان ہیں جو قائد مسلم لیگ نواز شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اور ایک مرتبہ پھر پوری پاکستانی قوم نے یوم تکبیر منا یا فخر پاکستان ڈاکٹر قدیر خان مرحوم اور انکے ساتھیوں کو سلام عقیدت پیش کیا جن کی قابل قدر ملکی خدمات کے باعث ہی آج ہم دنیا بھر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کر رہے ہیں اور دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں اسکی وجہ صرف اور صرف پاکستانی سائنسدان اور سائنٹسٹ ہی ہیں جو ہمہ وقت پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں مصروف ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے جس کا منہ بولتا ثبوت آپریشن بنیان المرصوص ہے جس میں پاک فوج کے جوانوں نے دشمن کو ایسا کرارا جواب دیا کہ دشمن کو انکی نانی یاد دلوا دی۔یوم تکبیر پہ ہماری کیا سب کی ہی یہی دعا تھی کہ اللہ پاک ہمارے شہیدوں کے درجات بلند کرے اور خاص کر ان ہستیوں کو جنہوں نے پیارے پاک وطن کے دفاع کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اللہ پاک انہیں سلامت رکھے اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے جن میں جناب ڈاکٹر قدیر خان مرحوم بھی شامل ہیں سمیت سب کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت میں جگہ عطاء فرمائے اور یہ دعا بھی ہے کہ اللہ پاک ہمارے ملکی دفاع کو مزید مضبوط سے مضبوط تر بنائے اور اللہ پاک ہمارے ملک کو دشمن کی ہر میلی آنکھ سے بھی محفوظ رکھے آمین ثم آمین۔




