منتخب کالم
سسکتی تکبریں اور اذانِ حق/ طارق امین۔۔۔۔ تیسری آنکھ

اہلِ فکر کے نزدیک زندہ قومیں مستقبل کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ اپنے ماضی پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔ ماضی کے حوالے سے بات کریں تو آج کے دن 28 مئی کے حوالے سے پوری قوم یومِ تکبیر منا رہی ہے اور پھر اس دفعہ تو اس خوشی کو اس وجہ سے بھی چار چاند لگے ہیں کہ ایک طرف اس دن کیے جانے والے ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے موجودہ پاک بھارت یلغار میں بھارت کسی ایسے ایڈونچر سے خوفزدہ رہا جو پاکستان میں بہت بڑی تباہی لا سکتا تھا کیونکہ 10 مئی کو اسے پتا چل گیا تھا کہ اب اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا تو دوسری طرف روایتی وار میں جس خوبصورتی اور مہارت سے ملک کی مسلح افواج نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے وہ بھی پوری دنیا کو حیران کر گیا۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی بات کریں تو ذولفقار علی بھٹو کی ذات سے شروع ہونے والا سفر جو آج بھی رواں دواں ہے اس کا کریڈٹ کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ ضیاء الحق کی شخصیت سے لاکھ اختلافات لیکن تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ بھی اس کارواں کا ایک حصہ رہا جس کارواں کو ڈاکٹر عبدالقدیر اور بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگیاں بخشیں اور پھر میاں نواز شریف تو مقدر کا وہ سکندر ہے جسے یہ دھماکے کرنے کا اعزاز ملا لیکن تاریخ ایک اور بندے کو بھی اس سباق یاد کرتی ہے جس نے نواز شریف کو یہ کہا تھا کہ ’میاں صاحب، اگر آپ نے اب ایٹمی دھماکے نہ کیے تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی‘۔ قارئین، وہ شخص کوئی اور نہیں تھا، وہ تھا امامِ صحافت مجید نظامی، پاکستان کا سچا سپاہی۔
سچے سپاہی کی بات چلی تو یہ غالباً 16 اپریل کی بات ہے جب اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں اورسیز پاکستان فاؤنڈیشن نے اپنے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین جناب سید قمر رضا کی سربراہی میں تمام دنیا سے اورسیز پاکستانیوں کا ایک کنونشن بلایا جس میں وزیراعظم پاکستان کے علاوہ خصوصی طور پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر جو اب فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی پا چکے بھی مدعو تھے۔ گو کہ قمر بھائی نے ذاتی طور اس خاکسار کو بہت محبت سے تینوں دن اس کنونشن میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن شومیِ قسمت اپنے ایک جگری یار ملک امتیاز برتھ کی وفات کی وجہ سے پہلے دو دن شرکت سے محروم رہا مگر یقین جانیے خاکسار اسے اپنی زندگی کے اس حسین اتفاق سے تعبیر کرتا ہے جو اسے ہمیشہ یہ یاد دلاتا رہے گا کہ جن کے سینے وطن کی محبت سے پُرنور ہوں جن میں جذبۂ ایمانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اور جو ہر دم وطن پر مر مٹنے کو تیار ہوں وہ جب بولتے ہیں تو پھر ان کے منہ سے کس طرح پھول جھڑتے ہیں اور ان کی باتیں کس طرح فضا کو معطر کر دیتی ہیں کہ سامعین پر ایک وجد کی کفیت طاری ہو جاتی ہے۔
اس دن جب آرمی چیف کی تقریر سن رہا تھا تو اس بات کا احساس ہوا کہ شاعر نے ایسے تو نہیں کہا رنگ باتیں کرے اور باتوں سے خوشبو آئے، جب ایمان کی حرارت موجود ہو تو ایسے معجزے ہو کر رہتے ہیں۔ آرمی چیف کی اس دن کی تقریر نے بلاشبہ عوامی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کی لیکن اہل نظر اور اہل فکر اور دانش کدہ کے مکینوں کے نزدیک آرمی چیف نے جس دبنگ اور واضح انداز میں ملک دشمنوں اور ان کی پراکسیز کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کو جو پیغام دیا ان الفاظ کی گونج آج بھی کانوں میں رس گھول دیتی ہے۔ ان لمحات کی چاشنی کو یہ خاکسار الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا، صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ تقریر سسکتی تکبیروں کو اذانِ حق میں بدل رہی تھی خاص کر جب دمکتے چہرے اور انگاروں بھری آنکھوں سے انھوں نے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ جو لوگ پاکستان کی سالمیت بارے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں ان کے لیے واضح پیغام ہے کہ جب تک اس ملک کی افواج کا ایک سپاہی بھی زندہ ہے اس ملک پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پھر جب اس قوم کے پچیس کروڑ عوام کا ہر فرد اس ملک کا سپاہی ہو تو ایسے کیسے ممکن ہے کہ دشمن میلی آنکھ سے بھی ہمیں دیکھ سکے۔
قارئین، آپ نے دیکھا اور وقت نے ثابت کیا کہ آرمی چیف کی یہ بات صرف الفاظ تک محدود نہ رہی بلکہ 7 مئی سے لے کر 10 مئی کے درمیانی وقفے کے ایک ایک لمحے نے سچ ثابت کر دکھایا کہ صرف پاک فوج کی وردی پہننے والا ہی اس ملک کی حفاظت پر مامور نہیں ہوتا بلکہ جس طرح عوام اپنے ذاتی ہتھیار اٹھائے پاک فوج کے شانہ بشانہ بھارتی ڈرون کو نشانہ بنا رہے تھی اور مسلح افواج کے سپاہیوں کے ہاتھ اور ماتھے چوم رہی تھی اس دن ففتھ جنریشن وار والوں کی تو یقینا ماں تو مر گئی ہو گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس مقام شکر کو ہم مقام شکر تک ہی محدود رکھیں گے یا مقام شکر کو لے کر مقام فکر کی طرف بڑھیں گے؟
سچے سپاہی کی بات چلی تو یہ غالباً 16 اپریل کی بات ہے جب اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں اورسیز پاکستان فاؤنڈیشن نے اپنے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین جناب سید قمر رضا کی سربراہی میں تمام دنیا سے اورسیز پاکستانیوں کا ایک کنونشن بلایا جس میں وزیراعظم پاکستان کے علاوہ خصوصی طور پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر جو اب فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی پا چکے بھی مدعو تھے۔ گو کہ قمر بھائی نے ذاتی طور اس خاکسار کو بہت محبت سے تینوں دن اس کنونشن میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن شومیِ قسمت اپنے ایک جگری یار ملک امتیاز برتھ کی وفات کی وجہ سے پہلے دو دن شرکت سے محروم رہا مگر یقین جانیے خاکسار اسے اپنی زندگی کے اس حسین اتفاق سے تعبیر کرتا ہے جو اسے ہمیشہ یہ یاد دلاتا رہے گا کہ جن کے سینے وطن کی محبت سے پُرنور ہوں جن میں جذبۂ ایمانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اور جو ہر دم وطن پر مر مٹنے کو تیار ہوں وہ جب بولتے ہیں تو پھر ان کے منہ سے کس طرح پھول جھڑتے ہیں اور ان کی باتیں کس طرح فضا کو معطر کر دیتی ہیں کہ سامعین پر ایک وجد کی کفیت طاری ہو جاتی ہے۔
اس دن جب آرمی چیف کی تقریر سن رہا تھا تو اس بات کا احساس ہوا کہ شاعر نے ایسے تو نہیں کہا رنگ باتیں کرے اور باتوں سے خوشبو آئے، جب ایمان کی حرارت موجود ہو تو ایسے معجزے ہو کر رہتے ہیں۔ آرمی چیف کی اس دن کی تقریر نے بلاشبہ عوامی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کی لیکن اہل نظر اور اہل فکر اور دانش کدہ کے مکینوں کے نزدیک آرمی چیف نے جس دبنگ اور واضح انداز میں ملک دشمنوں اور ان کی پراکسیز کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کو جو پیغام دیا ان الفاظ کی گونج آج بھی کانوں میں رس گھول دیتی ہے۔ ان لمحات کی چاشنی کو یہ خاکسار الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا، صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ تقریر سسکتی تکبیروں کو اذانِ حق میں بدل رہی تھی خاص کر جب دمکتے چہرے اور انگاروں بھری آنکھوں سے انھوں نے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ جو لوگ پاکستان کی سالمیت بارے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں ان کے لیے واضح پیغام ہے کہ جب تک اس ملک کی افواج کا ایک سپاہی بھی زندہ ہے اس ملک پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پھر جب اس قوم کے پچیس کروڑ عوام کا ہر فرد اس ملک کا سپاہی ہو تو ایسے کیسے ممکن ہے کہ دشمن میلی آنکھ سے بھی ہمیں دیکھ سکے۔
قارئین، آپ نے دیکھا اور وقت نے ثابت کیا کہ آرمی چیف کی یہ بات صرف الفاظ تک محدود نہ رہی بلکہ 7 مئی سے لے کر 10 مئی کے درمیانی وقفے کے ایک ایک لمحے نے سچ ثابت کر دکھایا کہ صرف پاک فوج کی وردی پہننے والا ہی اس ملک کی حفاظت پر مامور نہیں ہوتا بلکہ جس طرح عوام اپنے ذاتی ہتھیار اٹھائے پاک فوج کے شانہ بشانہ بھارتی ڈرون کو نشانہ بنا رہے تھی اور مسلح افواج کے سپاہیوں کے ہاتھ اور ماتھے چوم رہی تھی اس دن ففتھ جنریشن وار والوں کی تو یقینا ماں تو مر گئی ہو گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس مقام شکر کو ہم مقام شکر تک ہی محدود رکھیں گے یا مقام شکر کو لے کر مقام فکر کی طرف بڑھیں گے؟




