منتخب کالم
فتحِ مبین کا جشنِ تشکّر/ فضل حسین اعوان….شفق

گزشتہ روز جمعہ سولہ مئی کو قوم نے آپریشن بنیان المرصوص میں فتح مبین پر یوم تشکر منایا۔اس بے مثال کامیابی پر جشن بھی منائے گئے۔ جب کامیابی قدم چوم لیتی ہے تو باشعور اپنی فتح پر ناز کرتی ہے۔
پاکستان نے حالیہ دنوں میں جو کچھ کر دکھایا، وہ محض دفاع نہیں بلکہ جرات، فہم و فراست، اور تدبر کا امتزاج تھا۔ بھارت کی جارحیت کے جواب میں جو دفاع کیا گیا، وہ نہ صرف بروقت تھا بلکہ اس میں وہ عسکری حکمت، مکتبِ فکر اور فیصلہ سازی نظر آئی جو کسی بھی مہذب اور مضبوط ریاست کی پہچان ہے۔
جب بھارت نے نو مقامات پر حملوں کا دعویٰ کیا تو اس کے پیچھے یہ تصور بھی تھا کہ شاید پاکستان کو دفاعی خول سے باہر نکلنے میں وقت لگے گا۔ لیکن اس خول سے ایسا برق رفتار اور فیصلہ کن جواب نکلا کہ نہ صرف حملہ آور حیرت زدہ ہوئے بلکہ ان کے پشت پناہ بھی لرز اٹھے۔
رافیل طیارے جنہیں بھارت نے عسکری فخر کا تاج پہنا رکھا تھا، وہ محض اس لیے ناکام ہوئے کہ انہیں اڑانے والے افراد نہ اس کے اہل تھے اور نہ اس تجربے کے حامل جو جدید جنگی حالات میں درکار ہوتا ہے۔ عالمی دفاعی منڈی میں جب رافیل کے شیئرز گرنے لگے تو دنیا نے جانا کہ ہتھیار کی وقعت اس کے استعمال پر منحصر ہے، خالی دکھاوے پر نہیں۔
اسی طرح اسرائیلی ساختہ ڈرونز، جن پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے، ایک کے بعد ایک پاکستان میں مار گرائے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ دنیا کے کون سے خریدار ان ڈرونز کو لیں گے جو واپسی کا راستہ بھی بھول جائیں؟ روسی ساختہ طیارے بھی بھارت کے لیے رسوائی کا سبب بنے اور S-400 جیسے جدید نظام کو بھی پاک فضائیہ کی مہارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ ترکی روس سے ایس 400 سسٹم خرید رہا تھا۔امریکہ اسکی شدید مخالفت کر رہا تھا۔انڈیا میں اس سسٹم کی بساط الٹنے کے بعد ترکیہ محتاط ہو گیا۔اب اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تلخی ختم ہو چکی ہے۔
انڈیا کے پاس دنیا کا جدید اور بہترین اسلحہ ہے۔مگر اسے استعمال کرنے والے اناڑی سے لگے۔امریکہ نے اپنے جدید ترین ایف 35 طیارے بھارت کو خریدنے کی پیشکش کی۔انڈین پائلٹوں کی نالائقی سامنے آنے پر امریکہ اپنی پیشکش واپس لے سکتاہے۔وہ اپنے جہازوں کی پاکستانی پائلٹوں کے ہاتھوں درگت بنتی نہیں دیکھ سکے گا۔
10 مئی کا دن صرف ایک ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک "پالیسی اسٹیٹمنٹ” تھا، ایک اعلان کہ پاکستان مزید برداشت نہیں کرے گا۔ جب ایئر چیف ظہیر عباس سدھو نے کہا "اب نہیں تو کبھی نہیں”، تو یہ دراصل پوری قوم کے دل کی آواز تھی۔
پاک فضائیہ کو دی جانے والی آزادی کے بعد جس طرح بھارت کے اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، وہ عسکری تاریخ میں ایک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان تو بھارت کو سات مئی کو ہی دس مئی جیسا سخت جواب دینے کی پوزیشن میں تھا۔ اس نے جواب میں تین رافیل جہازوں سمیت پانچ بھارتی جنگی جہاز اور اس کے تمام ڈرونز گرا کر سات مئی کو ہی بھارت کو اپنی دفاعی عسکری قوت کا مشاہدہ کرا دیا تھا مگر بھارت کے برتری کے خناس نے اسے ٹکنے نہ دیا اور اس نے دس مئی کی علی الصبح پاکستان پر شب خون مارنے کی ناکام کوشش کی جس کا اسے عساکر پاکستا کی جانب سے مسکت جواب مل گیا۔
بھارت کو منہ توڑ جواب نہ دیا جاتا تو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا تھا۔پاکستان نے ٹھوس جواب دے کر لازوال کامیابی حاصل کر لی۔
یہ چھوٹی سی جنگ جہاں دنیا کی کئی طاقتوں کی دفاعی صلاحیتوں کے لیے سوالیہ نشان بنی، وہیں پاکستان کے لیے قومی وحدت کا باعث بن گئی۔ سیاسی اختلافات، جو دشمنی اور ذاتیات تک جا پہنچے تھے، یکایک پس منظر میں چلے گئے۔ جس لمحے دشمن کا حملہ ہوا، وہ لمحہ پاکستانی قوم کے لیے اتحاد کا مظہر بن گیا۔ سوشل میڈیا، عوامی اجتماعات ،مساجد، تعلیمی ادارے — ہر جگہ بس ایک آواز تھی: "ہم ایک ہیں”۔
یہ وہ لمحہ تھا جب تمام تر سیاسی، مذہبی اور لسانی تقسیم ختم ہوتی محسوس ہوئی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی قوم میں وہ توانائی اور صلاحیت موجود ہے جو کسی بھی بڑے چیلنج کے وقت اسے ایک جسم و جان بنا دیتی ہے۔۔ شرط صرف قیادت کے اخلاص، اداروں کی بروقت کارکردگی، اور عوامی شعور کی بیداری کی ہے۔
پاکستان نے اپنی سرزمین، فضائی حدود اور قومی غیرت کا دفاع کیا، اور بھرپور انداز میں کیا۔ ہمیں اپنے اداروں، پالیسی سازوں، اور سسٹم پر فخر ہے، فخر کے ساتھ تجزیہ اور شعور ہی ہمیں آنے والے خطرات کے لیے تیار رکھے گا۔یقین ہے، کہ پاکستان صرف آج نہیں بلکہ کل بھی ناقابلِ تسخیر رہے گا۔
پاکستان نے حالیہ دنوں میں جو کچھ کر دکھایا، وہ محض دفاع نہیں بلکہ جرات، فہم و فراست، اور تدبر کا امتزاج تھا۔ بھارت کی جارحیت کے جواب میں جو دفاع کیا گیا، وہ نہ صرف بروقت تھا بلکہ اس میں وہ عسکری حکمت، مکتبِ فکر اور فیصلہ سازی نظر آئی جو کسی بھی مہذب اور مضبوط ریاست کی پہچان ہے۔
جب بھارت نے نو مقامات پر حملوں کا دعویٰ کیا تو اس کے پیچھے یہ تصور بھی تھا کہ شاید پاکستان کو دفاعی خول سے باہر نکلنے میں وقت لگے گا۔ لیکن اس خول سے ایسا برق رفتار اور فیصلہ کن جواب نکلا کہ نہ صرف حملہ آور حیرت زدہ ہوئے بلکہ ان کے پشت پناہ بھی لرز اٹھے۔
رافیل طیارے جنہیں بھارت نے عسکری فخر کا تاج پہنا رکھا تھا، وہ محض اس لیے ناکام ہوئے کہ انہیں اڑانے والے افراد نہ اس کے اہل تھے اور نہ اس تجربے کے حامل جو جدید جنگی حالات میں درکار ہوتا ہے۔ عالمی دفاعی منڈی میں جب رافیل کے شیئرز گرنے لگے تو دنیا نے جانا کہ ہتھیار کی وقعت اس کے استعمال پر منحصر ہے، خالی دکھاوے پر نہیں۔
اسی طرح اسرائیلی ساختہ ڈرونز، جن پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے، ایک کے بعد ایک پاکستان میں مار گرائے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ دنیا کے کون سے خریدار ان ڈرونز کو لیں گے جو واپسی کا راستہ بھی بھول جائیں؟ روسی ساختہ طیارے بھی بھارت کے لیے رسوائی کا سبب بنے اور S-400 جیسے جدید نظام کو بھی پاک فضائیہ کی مہارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ ترکی روس سے ایس 400 سسٹم خرید رہا تھا۔امریکہ اسکی شدید مخالفت کر رہا تھا۔انڈیا میں اس سسٹم کی بساط الٹنے کے بعد ترکیہ محتاط ہو گیا۔اب اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تلخی ختم ہو چکی ہے۔
انڈیا کے پاس دنیا کا جدید اور بہترین اسلحہ ہے۔مگر اسے استعمال کرنے والے اناڑی سے لگے۔امریکہ نے اپنے جدید ترین ایف 35 طیارے بھارت کو خریدنے کی پیشکش کی۔انڈین پائلٹوں کی نالائقی سامنے آنے پر امریکہ اپنی پیشکش واپس لے سکتاہے۔وہ اپنے جہازوں کی پاکستانی پائلٹوں کے ہاتھوں درگت بنتی نہیں دیکھ سکے گا۔
10 مئی کا دن صرف ایک ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک "پالیسی اسٹیٹمنٹ” تھا، ایک اعلان کہ پاکستان مزید برداشت نہیں کرے گا۔ جب ایئر چیف ظہیر عباس سدھو نے کہا "اب نہیں تو کبھی نہیں”، تو یہ دراصل پوری قوم کے دل کی آواز تھی۔
پاک فضائیہ کو دی جانے والی آزادی کے بعد جس طرح بھارت کے اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، وہ عسکری تاریخ میں ایک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان تو بھارت کو سات مئی کو ہی دس مئی جیسا سخت جواب دینے کی پوزیشن میں تھا۔ اس نے جواب میں تین رافیل جہازوں سمیت پانچ بھارتی جنگی جہاز اور اس کے تمام ڈرونز گرا کر سات مئی کو ہی بھارت کو اپنی دفاعی عسکری قوت کا مشاہدہ کرا دیا تھا مگر بھارت کے برتری کے خناس نے اسے ٹکنے نہ دیا اور اس نے دس مئی کی علی الصبح پاکستان پر شب خون مارنے کی ناکام کوشش کی جس کا اسے عساکر پاکستا کی جانب سے مسکت جواب مل گیا۔
بھارت کو منہ توڑ جواب نہ دیا جاتا تو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا تھا۔پاکستان نے ٹھوس جواب دے کر لازوال کامیابی حاصل کر لی۔
یہ چھوٹی سی جنگ جہاں دنیا کی کئی طاقتوں کی دفاعی صلاحیتوں کے لیے سوالیہ نشان بنی، وہیں پاکستان کے لیے قومی وحدت کا باعث بن گئی۔ سیاسی اختلافات، جو دشمنی اور ذاتیات تک جا پہنچے تھے، یکایک پس منظر میں چلے گئے۔ جس لمحے دشمن کا حملہ ہوا، وہ لمحہ پاکستانی قوم کے لیے اتحاد کا مظہر بن گیا۔ سوشل میڈیا، عوامی اجتماعات ،مساجد، تعلیمی ادارے — ہر جگہ بس ایک آواز تھی: "ہم ایک ہیں”۔
یہ وہ لمحہ تھا جب تمام تر سیاسی، مذہبی اور لسانی تقسیم ختم ہوتی محسوس ہوئی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی قوم میں وہ توانائی اور صلاحیت موجود ہے جو کسی بھی بڑے چیلنج کے وقت اسے ایک جسم و جان بنا دیتی ہے۔۔ شرط صرف قیادت کے اخلاص، اداروں کی بروقت کارکردگی، اور عوامی شعور کی بیداری کی ہے۔
پاکستان نے اپنی سرزمین، فضائی حدود اور قومی غیرت کا دفاع کیا، اور بھرپور انداز میں کیا۔ ہمیں اپنے اداروں، پالیسی سازوں، اور سسٹم پر فخر ہے، فخر کے ساتھ تجزیہ اور شعور ہی ہمیں آنے والے خطرات کے لیے تیار رکھے گا۔یقین ہے، کہ پاکستان صرف آج نہیں بلکہ کل بھی ناقابلِ تسخیر رہے گا۔




