"تاریخی واقعات ہماری زندگیوں کی تشکیل کرتے ہیں۔”آمینہ احمد (انٹرویو)
انٹرویور: منیزہ شمسی، اردو ترجمہ : رومانیہ نور

"تاریخی واقعات ہماری زندگیوں کی تشکیل کرتے ہیں۔”آمینہ احمد
اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)
پاکستانی نژاد برطانوی مصنفہ آمنہ احمد نے حال ہی میں اپنے تنقیدی طور پر سراہے جانے والے ابتدائی کام "فراز کی واپسی ” کے لیے بہترین پہلے ناول کا "رائٹرز گلڈ آف گریٹ برطانیہ ایوارڈ جیتا ہے۔”
یہ کہانی مشرقی پاکستان اور دوسری جنگ عظیم کے واقعات کے ساتھ لاہور میں ترتیب دی گئی ہے۔ Eos کے ساتھ اس ای میل انٹرویو میں وہ منیزہ شمسی کے ساتھ اپنی کتاب پر گفتگو کر رہی ہیں۔
” ‘رائٹرز گلڈ ایوارڈ فار دی ریٹرن آف فراز علی’ جیتنے پر بہت بہت مبارک ہو جو لاہور کے شاہی محلہ میں ہونے والے قتل کے گرد گھومنے والا، احتیاط سے ترتیب دیا گیا ناول ہے، لیکن کہانی اس سے کہیں آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ کیسے تخلیق ہوا؟ "
آپ کے مہربان الفاظ کے لئے شکریہ! ناول کی چنگاری لاہور شہر سے ہی پھوٹی۔ مجھے نوئر( جاسوسی فلم یا افسانے کی ایک صنف جس میں مذمومیت، تقدیر پسندی، اور اخلاقی ابہام ہے) ایک صنف کے طور پر پسند ہے اور میں ریمنڈ چاندلر اور پیٹریشیا ہائی اسمتھ جیسے مصنفین کی مداح ہوں۔ جن کے ناول تناؤ سے بھرے ہوتے ہیں اور وہ کہانی کے پلاٹ کو پیچیدہ خطوط پر استوار کرتے ہیں، جس کی میں تقلید کرنا چاہتی تھی۔ سیٹنگ اکثر نوئر ناول میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اور لاہور کا پرانا شہر اپنی ٹیڑھی میڑھی ، تاریک گلیوں کے ساتھ ایک بہترین محل وقوع لگ رہا تھا، ایک پیچیدہ، بھول بھلیا جیسی کہانی کے لیے ایک بہترین علاقہ۔ لیکن جیسا کہ بعض اوقات کتابیں لکھتے ہوئے ایسا ہوتا ہے، کہانی فصیلِ شہر سے آگے بڑھ گئی۔
شروع میں، میں اپنے مرکزی کردار فراز کے پریشر پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی تھی، جو کہ پولیس میں ایک تفتیش کار ہے جسے ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں قتل کی واردات سے نمٹنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس کا پڑوسیوں سے خفیہ تعلق ہے۔ میں نے سوچا کہ وہ جرم اور اپنے ماضی کی چھان بین کرے گا اور یہ کہ کہانی اسی پر مشتمل ہوگی، لیکن یہ غیر متوقع سمتوں میں بڑھنے لگی۔
فراز کو سمجھنے کے لیے میرے لیے ضروری تھا کہ اس کے والدین کو سمجھوں جن کے افعال نے بچپن میں اس کی قسمت کا تعین کیا تھا۔ اور اس طرح میں نے فراز کے والد کی ہسٹری کی طرف رجوع کیا جو ایک طاقتور بیوروکریٹ ، لیکن دوسری عالمی جنگ کے دوران لیبیا میں جنگی قیدی (POW) کے طور پر اپنے تجربے سے شدید خوف زدہ شخص تھے۔ میں سوچتی رہی کہ تاریخی واقعات سے ہماری زندگی کیسے تشکیل پاتی ہے۔ ہماری انفرادی اور ہماری اجتماعی تاریخ کے درمیان تعلق کی اس کھوج کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب اسی طرح تیار ہوئی۔
” ٹائم فریم اور مقامات کا تعین کیا ہے؟"
میں نے کہانی 1960 کی دہائی کے آخر میں ترتیب دی تھی، جب مغرب میں سڑکوں پر تحریکیں پھوٹ رہی تھیں۔
جنرل ایوب خان کی ‘ترقی کی دہائی’ کے اختتام پر پاکستان بھر میں بھی احتجاج کے لیے ایسی جگہوں کی دریافت میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔۔ کہانی میں جب ہم پہلی بار فراز سے ملتے ہیں، تو اسے ایک احتجاج سے نمٹنے کے لیےبھیجا جاتا ہے، جس کی سر کوبی وہ بہت پر تشدد انداز میں کرتا ہے۔ میں ان مظاہروں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی سو ان کے بارے میں مزید دریافت کرنے کے لیے کم معلوم یا بھولی ہوئی تاریخوں کے بارے میں سیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اسی طرح، فراز کے والد کی بطور جنگی قیدی کی تاریخ ایک ایسی کہانی کی نمائندگی کرتی ہے جسے کسی حد تک مٹا دیا گیا ہے – بہت سے لوگ دوسری عالمی جنگ میں ہندوستانی فوجیوں کے اہم کردار کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔ حتی کہ ان کی شمولیت کا مکمل دائرہ کار میں بھی نہیں جانتی تھی ٫ جب تک میں نے لکھنا شروع نہیں کیا۔
بعد ازاں فراز کو لاہور سے ڈھاکہ میں جلاوطن کردیا گیا جو مشرقی پاکستان تھا۔ میں نے 1971 کی جنگ کے بارے میں لکھنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے بنگلہ دیش بنا۔ اس جنگ کے دوران مستقبل کے بنگلہ دیش کے لوگوں نے کرب برداشت کیا۔
پاکستانی افواج کی جانب سے تشدد کا سلسلہ جاری رہا ، لیکن اس تاریخ پر پاکستان میں بڑے پیمانے پر بات نہیں کی جاتی۔ اس طرح کی قطع و برید مجھے بھی اسی طرح متاثر کرتی ہے جیسے ہم سب کے لیے خطرناک ہے. لیکن ہر موڑ پر میں سوچ رہی تھا کہ کرداروں کے ذاتی سفر کا ان تاریخی لمحات سے کیا تعلق ہے۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ یہ لمحات وقت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور اسی طرح ہر کردار کی کہانیاں تھیں۔
"کیا آپ والدین اور بچے کے درمیان بندھن کی تصویر کشی اور یادداشت کی طاقت پر تبصرہ کر سکتی ہیں؟"
مجھے والدین اور بچوں کے رشتوں کی کہانیوں کو دیکھنے میں واقعی دلچسپی تھی جو محبت، فرض اور قربانی کے مسائل کو چھوتی ہیں۔ فردوس، جو فراز کی والدہ ہے، اسے اپنے والد کے خاندان کے حوالے کر دیتی ہے تاکہ اسے ایک بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے اور اپنی سوتیلی بہن، طوائف زادی روزینہ، کو مزید تحفظ اور اختیار فراہم کرنے کے لیے پیش کردہ مالی فوائد کو استعمال کیا جا سکے۔
روزینہ ایک اداکارہ بن جاتی ہے اور پہلے پہل لگتا ہے کہ فردوس کی کوششیں رنگ لائیں، لیکن روزینہ کی حالت مزید نازک ہوتی چلی جاتی ہے۔ بالآخر، سماجی نظام جس میں وہ سب پھنسے ہوئے ہیں انہیں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت دینے کی اجازت نہیں دیتا، حالانکہ تمام کردار اپنی پوری کوشش کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہماری اصل کہانیاں، ہماری ابتدائی یادیں کہ ہماری زندگی کہاں سے شروع ہوئی اور جو ہمیں اپنے والدین سے وراثت میں ملا ہے، شاید اس بات میں بہت اہم ہیں کہ ہم خود کو کیسے سمجھتے ہیں۔جب آپ فراز کی طرح کسی نقصان کا تجربہ کرتے ہیں، جیسا کہ وہ ایک چھوٹے بچے کے طور پر اپنے گھر اور خاندان سے دور تھا، تو میں تصور کرتی ہوں کہ یہ ایک تکلیف دہ تجربہ ہوگا اور یہ اس کھوئے ہوئے ماضی کے ارد گرد اس کا درد ہے جو اس کے اعمال کو حال میں چلاتا ہے.
” آپ کی پیدائش اور پرورش برطانیہ میں ہوئی اور اب آپ لاس اینجلس میں رہتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے، جسے آپ کا ناول بہت واضح طور پر دوبارہ تخلیق کرتا ہے؟"
میں بہت خوش قسمت تھی کہ بچپن میں، میں ہر سال پاکستان جاتی تھی اور وہاں ایک بڑا اور پیار کرنے والا خاندان تھا۔ جب بھی مجھے انگلینڈ میں ایک برطانوی پاکستانی کی حیثیت سے اپنے خلاف دشمنی محسوس ہوتی تھی تو یہ ایک پناہ گاہ کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ بہت سےحوالوں سے، یہ کتاب ایک جگہ کے ساتھ اس طویل تعلق کا ثبوت ہے. یقینا، تمام طویل تعلقات بھی پیچیدہ ہوتے ہیں اور یہاں تک کہ جب میں پاکستان میں اپنے وقت سے سکون حاصل کر رہی تھی تو بہت کچھ تھا جو مجھے سمجھ میں نہیں آیا. وہاں میں اب بھی ایک غیر ملکی شخصیت تھی. ۔
ایک طرح سے یہ کہانی لکھنا پاکستان کو سمجھنے کی میری کوششوں کا ایک حصہ تھا اور تارکین وطن برادری کا حصہ بننے کا میرے لئے کیا مطلب ہے۔ مجھے آپ کی طاقت اور بے اختیاری کی تصویر کشی میں بہت دلچسپی تھی۔ یہ ذات پات، طبقے اور صنف کی بنیاد پر لوگوں پر مسلط کردہ چیلنجوں اور حدود کی کہانی ہے اور کئی طریقوں سے تمام کردار اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر، مجھے اس طاقت میں دلچسپی تھی جو اداروں کو ہماری زندگیوں پر حاصل ہے، چاہے وہ ریاست ہو یا خاندان، اور کرداروں پر جو دباؤ ڈالا جاتا ہے. کتاب میں فراز علی کے اپنے والد سمیت سینئر عہدیداروں نے اسے ایک لڑکی کے قتل پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا ہے۔ پیشہ ورانہ اور ذاتی طور پر ان شخصیات کی اس پر جو گرفت ہے، اس کے پیش نظر، وہ انہیں انکار کرنے سے قاصر محسوس کرتا ہے۔ اسے اس سوال سے لڑنا پڑتا ہے کہ صحیح کام کرنے کا کیا مطلب ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے۔
” آپ کی والدہ معروف مصنفہ رخسانہ احمد ہیں۔ کیا انہوں نے آپ کو لکھنے کی ترغیب دی؟ ”
ایک مصنفہ کے طور پر ایک ہی گھر میں پرورش پانا ایک بہت طاقتور اثر تھا!
اس کے علاوہ میری والدہ کی وجہ سے بھی لکھنے کی دنیا اپنی دسترس میں محسوس ہوئی۔ اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ جب میں بڑی ہو رہی تھی، تو مجھے ان کے ساتھ رہنے اور بات کرنے کا اور ایک دوسری مصنفہ سےہر وقت لکھنے اور ہنر کے بارے میں سیکھنے کا موقع ملا (اور میں اب بھی ایسا کرتی ہوں!). مجموعی طور پر، مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو ہمارے والدین کی طرف سے اپنے جذبات کی پیروی کرنے کی حوصلہ افزائی اور ناقابل یقین حمایت حاصل تھی.
” آپ کے ڈرامے The Dishonored کو 2019 کا اسکرین کرافٹ اسٹیج پلے ایوارڈ ملا۔ کیا چیز آپ کی صنف کا انتخاب طے کرتی ہے؟"
میں نے ایک ڈرامہ لکھا اس لیے کہ میری والدہ ایک ڈرامہ نگارتھیں۔ اور ہم انہیں ڈرامے لکھتے اور پروڈیوس کرتے دیکھ کر بڑے ہوئے اور پروڈکشن میں لوگوں سے ملے، ڈرامہ ایک فطری راستہ کی طرح محسوس ہوا، اور اس لیے میں فکشن میں کافی دیر سے آئی۔ میرے لئے ڈرامہ اور افسانہ لکھنے میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ بحیثیت ناول نگار آپ بجٹ اور پروڈکشن کی رسد کی وجہ سے مجبور نہیں ہیں۔ ایک ناول نگار کے طور پر، آپ کا تخیل اتنا ہی آزادانہ گھوم سکتا ہے جتنا وہ چاہتا ہے۔ میں پروڈکشن کی مشترکہ نوعیت، براہ راست کار کردگی کی توانائی، اور سامعین کے فوری طور پر ردعمل کی کمی محسوس کرتی ہوں۔ لیکن مجھے پسند ہے کہ ناول آپ کو جو کچھ بھی آپ کی دلچسپیاں ہیں ان کی پیروی کرنے کی جگہ فراہم کرتا ہے اور ایک میڈیم کے طور پر یہ واقعی موجود ہے اور اس کی کوئی حد نہیں ہے۔
For Original Text:




