عیدالفطر سب دوستوں عزیزوں کو مبارک؟؟؟/ منظور احمد

ابھی ایک صدی بھی نہیں گذری کہ ہم عید، بقر عید پر رشتے داروں، نزدیک کے دوستوں سے عید ملنے ان کے گھر جایا کرتے تھے، وہ لوگ اسی طرح ہمارے ہاں آتے تھے،ابھی یہ دور دور شاندار کالونیاں اور سوسائٹیاں وجود میں نہیں آئی تھیں۔ رمضان کے آخری ہفتے میں ہر گھر میں گہما گہمی شروع ہو جاتی تھی، گو بازاری سویاں دکانوں پر ملتی تھیں، لیکن اس کے باوجود گھر کی سویاں بنانے کے لئے اہتمام پھر بھی ہوتا تھا۔ سویاں بنانے والی ہاتھ کی مشین کو گھوڑی کہا جاتا تھا۔ کیوں؟پتہ نہیں۔ گھوڑی سے سویاں نکالنے کے لئے ان کے ہینڈل کو گھمانے کے لئے ذرا طاقت لگانی پڑتی تھی۔ فیملی کے لڑکے بالوں سے گھوڑی کے ہینڈل کو گھمانے کا کام لیا جاتا تھا۔ ہم لڑکے اپنی پوری طاقت سے مشین کو گھماتے تھے، ہمارے چہرے تمتما اُٹھتے تھے، لیکن اپنی ہار نہیں مانتے تھے۔
پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے عید گھر پر جاکر ملنے کا رواج کم ہوتا گیا۔ مہنگے مہنگے عید کارڈوں کے ذریعے عیدمبارک کہنے کا سنہری دور آیا جو ابھی 90ء، 80ء تک قائم رہا۔ عید کارڈوں کے انتخاب سے آپ کے جمالیاتی اور ادبی ذوقِ کے معیار کا اندازہ آپ کے کارڈ سے ہوتا تھا۔ لیکن ہر عید کارڈ پر ہلال عید کی تصویر ضرور بنی ہوتی تھی اور ساتھ ہی غزالی آنکھوں والی اپنی مخروطی انگلیوں والے ہاتھوں سے دُعا مانگتی ہوئی دوشیزہ کی تصویر بھی ضرور ہوتی تھی۔ عید کارڈ کے ساتھ ساتھ ٹیلیفون پر بھی عید مبارک کے پیغامات بھیجے جانے لگے تھے۔ان دِنوں کالے رنگ کا ٹیلیفون خوش قسمت اور وی آئی پی سمجھے جانے والے گھروں میں ہی ہوتا تھا۔ عید کارڈ والی اور ٹیلیفون کے ذریعے مبارکباد دینے والی روایت ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ سال 2000ء تک عید مبارک کے پیغامات میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل صرف ٹیلیفون کی حد تک محدود تھا۔ دوستوں کی اور اپنے پیاروں کی آواز تو سنی جا سکتی تھی۔ 1970ء سے پہلے long distance فون کال کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا تھا۔ ڈائریکٹ ڈائلنگ نے انتظار کی کوفت تو کم کر دی تھی، لیکن فون کال مہنگی بہت تھی، زیادہ تر خوشحال اولاد ہی ولایت سے ٹیلیفون پر عید مبارک کہ سکتی تھی۔ فون کے اختتام پر یہ گھسا پٹا اور بے روح جملہl love you Mom.Papa کہنے کا رواج ابھی نہیں آیا تھا۔ سمارٹ فون نے ہماری زندگی کو آسان تو بنا دیا۔ رابطے تیز اور بہتر سے بہتر ہوتے گئے، لیکن اس ترقی شرقی میں محبتیں غائب ہوتی چلی گئیں۔ COPY PASTE نے رابطے آسان کر دیئے، لیکن مکالمے، لفظوں کی چاشنی، آوازوں کی شیرینی یہاں تک کہ میکانکی جملہl love you Mama سب ہی تو ختم کر دیئے اس کاپی۔پیسٹ کی آسانی نے۔ اب تو گوروں نے ہمارے غمی، خوشی، نفرت، محبت، حیرت، پسندیدگی، نا پسندیدگی کی علامتوں کےEmoji بنا دیئے ہیں۔ بس آپ چاہیں تو محنت سے لکھی کسی پوسٹ پر انگلی مار کر اپنے دِل کی بات کہ دیں ورنہ آگے گذر جائیں۔
آپ تمام دوستوں کو میری طرف سے عیدالفطر مبارک ہو۔
٭٭٭٭٭



