اسلامک بلاگ

لیلتہ القدر ، قدرت کا فیصلہ یا آپ کا فیصلہ ؟ / تحریر : راحت فاطمہ ظفر

 

قرآن مجید میں لیلۃالقدر کی فضیلت کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ الدخان میں فرمایا گیا:
"بے شک ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔”
سورۃ القدر میں مزید وضاحت کی گئی:
"بے شک ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے خیروبرکت کے ہر حکم کے ساتھ اترتے ہیں۔ یہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے۔”

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اس رات کی عظمت کا بنیادی سبب قرآن کا نزول ہے۔ جس رات کو قرآن نے شرف بخشا، وہ رات ہزار مہینوں سے افضل قرار پائی۔ اس سے قرآن کی فضیلت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس رات میں نازل ہوا، وہ رات دیگر تمام راتوں سے بلند تر ہو گئی۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ لیلۃ القدر میں عبادت کرنے سے ایک ہزار مہینوں کی عبادت کا ثواب ملتا ہے اور ساری بخشش ہو جاتی ہے۔ مگر غور کریں، کیا واقعی سب کو یہ رات نصیب ہوتی ہے؟

اپنے اردگرد دیکھیں، کتنے لوگوں کو حقیقی معنوں میں لیلۃ القدر ملی؟ اگر عبادت کے دوران ملنے والا سکون ہی اس رات کے حصول کی علامت ہوتا، تو پھر عام دنوں میں بھی ذکر الٰہی سے ملنے والا سکون لیلۃ القدر کی علامت قرار پاتا، کیونکہ قرآن میں فرمایا گیا:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
(بے شک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے)

اگر نوافل اور اذکار کی کثرت سے اس رات کا حصول ممکن ہوتا، تو سال بھر گناہوں میں مشغول شخص محض اس رات عبادت کر کے بخشا جاتا، مگر ایسا نہیں ہے۔ مختلف روایات میں جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں، جیسے موسم معتدل ہوگا، سکون بخش ہوا چلے گی، اور سورج کی روشنی نرم ہوگی، وہ صرف رات کے تعین کے لیے ہیں، نہ کہ اس کے حقیقی حصول کی ضمانت۔حدیث میں آتا ہے:
"جو شخص لیلۃ القدر میں قیام کرے اور اسے پالے، اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔”
یہاں "پالے” کا مطلب کیا ہے؟ لیلۃ القدر تو خود موجود ہے، پھر اسے پانے کا مفہوم کیا ہے؟ اس حدیث کے دوسرے حصے میں وضاحت ہے:
"ایمان اور ثواب کی نیت سے جس نے عبادت کی۔”
یعنی یہ رات انہیں نصیب ہوتی ہے جو ایمان کی شرائط پر پورا اتریں اور ثواب کی نیت سے عبادت کریں۔

ایک صحابی نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! فلاں شخص ایمان لے آیا ہے۔”
آپﷺ نے پوچھا: "کیسے؟”
صحابی نے جواب دیا: "اس نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔”
آپﷺ نے فرمایا: "پھر کہو کہ وہ اسلام لے آیا ہے، ایمان نہیں لایا۔”

یعنی مسلمان ہونا اور مومن ہونا دو مختلف درجات ہیں۔ اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ایک بزرگ نے کہا:
"مسلمان اللہ کو مانتا ہے، جبکہ مومن اللہ کی مانتا ہے۔”
پس یہ رات مومنین کے لیے ہزار مہینوں سے افضل ہے، نہ کہ صرف رسمی عبادات کرنے والوں کے لیے۔

سال بھر اللہ کے احکامات کو نظر انداز کر کے، حقوق العباد کی پامالی کر کے، نمازوں میں کوتاہی برت کر، اور صرف ایک رات عبادت کر کے اللہ کو راضی کرنا ممکن نہیں۔ اللہ ناعادل نہیں کہ ظالم کے آنسو دیکھ کر مظلوم کے حق کو بھول جائے۔

نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
"جو شخص لیلۃ القدر کی خیر سے محروم کر دیا گیا، وہ درحقیقت ہر خیر سے محروم کر دیا گیا۔”
یہاں "ہر خیر سے محروم ہونے” کا مطلب ہے وہ شخص جو نیکی، اچھے اعمال اور قرآن کے احکامات کو نظر انداز کرتا رہا، وہی اس رات کی خیر سے بھی محروم رہتا ہے۔

لیلۃ القدر کی برکات رسمی عبادات سے نہیں بلکہ سال بھر کی نیکیوں اور اللہ کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہیں۔ قرآن ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اسی غور و فکر سے ہمارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں حقیقی ایمان اور اعمالِ صالح کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اس رات کی برکتوں کو حاصل کر سکیں۔ آمین۔

Author

Related Articles

Back to top button