
چند روز قبل ایک ماں سے بات ہوئی جو اپنے بیٹے کے تعلیمی مسائل پر پریشان تھی۔ وہ بچہ کم گو تھا، فوجی یونیفارم پسند کرتا تھا، مگر تعلیمی لحاظ سے پیچھے تھا۔ وقت کی کمی کے باعث میں نے تفصیلی بات چیت کے لیے واپسی پر رابطے کا وعدہ کیا، لیکن جب دوبارہ فون کیا تو دوسری طرف ایک ماں کی سسکیاں سنائی دیں—”میرے حامد نے خودکشی کر لی، سب اسے پاگل اور بے وقوف سمجھتے تھے، وہ تنگ آ کر چلا گیا!”
یہ سن کر دل دہل گیا۔ ہمارے تعلیمی ادارے اور معاشرہ ایسے بچوں کو سمجھنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟ حامد جیسے ہزاروں بچے محض اس لیے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں وقت پر شناخت اور مدد نہیں ملتی۔ ہمارا تعلیمی نظام اور معاشرتی رویے ایسے بچوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا، لیکن ہم سب کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ بچے کم عمری میں ہی زندگی سے ہار مان لیتے ہیں۔
ڈسلیکسیا ایک نیورولوجیکل کنڈیشن ہے جس میں متاثرہ بچے کو پڑھنے، لکھنے اور الفاظ پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کو اکثر نالائق سمجھا جاتا ہے، حالانکہ دنیا کے کئی ذہین افراد، بشمول البرٹ آئن سٹائن، سٹیو جابز اور ٹام کروز، اسی کیفیت کا شکار تھے۔ اگر ان کے اس مسئلے کو وقت پر سمجھ کر مدد فراہم نہ کی جاتی تو شاید وہ بھی زندگی کے کسی موڑ پر حامد کی طرح ہار مان لیتے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں ایسے بچوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، انہیں الگ بٹھایا جاتا ہے، اور اساتذہ بھی انہیں کمزور سمجھ کر خاص توجہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ بچے تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور پھر یا تو خود کو مکمل طور پر الگ تھلگ کر لیتے ہیں یا پھر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے بچوں کی جلد شناخت کریں اور انہیں خصوصی مدد فراہم کریں۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اساتذہ کی اکثریت کو خود بھی ان مسائل کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں ہوتی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر اضافی دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی مدد کریں، ان کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ بغیر خوف کے اپنی مشکلات بیان کر سکیں۔ زیادہ تر والدین نادانی میں اپنے بچوں کی مشکلات کو ان کی "کاہلی” یا "ذہنی کمزوری” سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ کسی خاص مسئلے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں ایسے بچوں کو اکثر مذاق اور طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس سے ان کی خود اعتمادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ انہیں بار بار احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ دوسرے بچوں کی طرح "قابل” نہیں ہیں، اور یہی احساس ان کے دل میں ایک گہرا زخم بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے، اساتذہ، اور والدین سب کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بچہ اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے منفرد ہوتا ہے۔ کچھ بچے ریاضی میں اچھے ہوتے ہیں، کچھ زبان میں، کچھ کھیل میں، اور کچھ تخلیقی صلاحیتوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایک ہی معیار پر سب کو پرکھا جاتا ہے، اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے، اسے "نالائق” کہہ دیا جاتا ہے۔
یہ رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکولوں میں ایسے بچوں کے لیے خصوصی مددگار پروگرام ہونے چاہییں، والدین کو مشاورت فراہم کی جانی چاہیے، اور اساتذہ کی تربیت ہونی چاہیے تاکہ وہ ڈسلیکسیا جیسے مسائل کو پہچان کر بچوں کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایسے بچوں کے لیے خصوصی کلاسز اور لرننگ سپورٹ فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ عام بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔ ہمیں بھی اسی ماڈل کو اپنانا ہوگا۔
معاشرہ کب سمجھے گا کہ ہر بچہ مختلف ہوتا ہے؟ حامد کی زندگی بچائی جا سکتی تھی، اگر اس کے والدین، اساتذہ اور اردگرد کے لوگ اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھتے۔ ہمیں اس حقیقت کو اپنانا ہوگا کہ ہر "نالائق” بچہ حقیقت میں نالائق نہیں ہوتا، بس اسے صحیح راہنمائی درکار ہوتی ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ آئندہ کسی اور حامد کو اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔




