نظم

یوفوربیا / نورین علی

یوفوربیا

نورین علی

خزاں اور بہار کے درمیان کسی اُداس صبح
چُپکے سے سرکتی دوپہر
اور خاموش شام میں
جب مَیں تمہیں کہیں نہ ملوں
تو تم آنکھیں موند کر
ہوا کے نرم جھونکوں میں
میری باقی رہ جانے والی آواز کو محسوس کرنا
جو محبت کی اَدھ پَڑھی نظموں کی صورت
تمہاری سماعتوں کو چُھو کر گزرے گی
اورجب خُنک مہینوں کی پُراِسرار شاموں میں
دِیواروں پہ بنتے سائے
تمہیں ایک ایسی کہانی سنائیں گے
جس کے ایک کردار نے
اپنی چھڑی کے اشاروں سے
کسی قدیم جرمن آرکیسٹرا کی
کلاسیکل دُھنیں بَجا کر
دنیا کو مسحور کرنا تھا
تَب تُم اپنی آنکھوں کی نَمی میں مجھے محسوس کرنا,
اور جَب مَیں تمہیں کہیں بھی نہ ملوں تو
تُم فروری کے مہینے میں

گملوں میں پُھوٹتے نئے شگوفوں کی
مُسکان میں مُجھے کھوجنا,
مَیں تمہیں دو پَتیوں والے دو رنگی پھولوں کی بہار میں
اِنتظار کرتی ملوں گی…!

 

Author

Related Articles

Back to top button