منتخب کالم

  سی آئی اے کا خاتمہکرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ فعال کردیا گیا / یونس باٹھ



وزیر اعلی پنجاب نے سی سی یو کو مکمل فعال کر دیا ہے۔پنجاب حکومت کی یہ کوشش ہے کہ جس طرح دیگر اداروں میں ریفارمز کا سلسلہ شروع ہے اسی طرح پنجاب پولیس میں بھی اصلاحات کی جائیں تاکہ عوام کو براہ راست فائدہ ہو سکے۔سی سی یو کے قیام اور طریقہ کار کو لیکر کافی تنقید کی جارہی تھی لیکن وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ نے ہر قسم کی تنقید کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنایا۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی تبدیلی کی خبروں نے مکمل طور پر دم توڑ دیا ہے اور وہ اس وقت سی سی یو کے بڑھتے ہوئے اختیارات کو لیکر کافی پریشان ہیں۔ظاہر ہے جب ضلعی پولیس کے اختیارات کم ہوجائیں گے تو آئی جی پنجاب کے اختیارات میں عملاً کمی ہوجائے گی۔اب یہ باتیں تو ڈاکٹر عثمان انور کو پہلے سوچنی چاہئیں تھیں ان کو پرانی سی آئی اے کو سپورٹ کرنا چاہئے تھا اگر کوئی اصلاحات کرنا تھیں ان میں کر دیتے پرانے سیٹ اپ کو مکمل ختم کرنا یہ سسٹم کے ساتھ زیادتی ہے۔ پنجاب بھر کے آر پی اوز،سی پی اوز اور ڈی پی اوز کے اجلاس میں آئی جی پنجاب نے پالیسی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی پولیس سنگین قسم کے تمام مقدمات فوری طور سی سی یو کو بھیج دیں۔پہلے مرحلے میں سنگین نوعیت کے تمام مقدمات فوری طور پر سی سی یو کو بھیج دئیے جائیں گے۔دوسرے مرحلے میں سی سی یو کی ذاتی عمارتوں کو تعمیر کیا جائے گا جو تھانہ سسٹم سے بالکل مختلف ہونگی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سی سی یو پر باقاعدہ قانون سازی کیلئے مجودہ بل بنا کر اسمبلی میں پیش کرنے کیلئے بھیج دیا ہے اب آئندہ اجلاس میں سی سی یو قانون کی باقاعدہ منظوری ہوجائے گی اور یہ ایکٹ کا حصہ بن جائے گا۔ پھر سی سی ڈی اختیارات میں حاصل سنگین دفعات کے مقدمات بھی درج کرے گی۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وزیراعلی پنجاب کی نیت میں کوئی شک ہے لیکن اس شتر بے مہار سسٹم کے لاگو ہونے سے کرپٹ پولیس افسران کی موجیں لگ جائیں گی۔جو کرپٹ پولیس اہلکاران اتنا سخت سسٹم ہونے کے بعد بھی کرپشن سے باز نہیں آتے وہ سی سی یو میں کس طرح باز آئیں گے۔ یعنی پہلے کسی بھی شکایت پر متعلقہ ضلع کا ڈی پی او ایکشن لیتا ہے لوگ اپنی داد رسی کرنے کیلئے ان سے رابطہ کر لیتے ہیں لیکن اس سسٹم کے نافذ ہونے کے بعد ڈی پی او کی طاقت بالکل ختم ہوجائے گی۔اصل سوال یہ ہے کہ ضلعی پولیس کا سربراہ صرف پٹرولنگ یونٹ کی کمان کرے گا یا ضلع میں بڑھتے ہوئے کرائم پر بھی کوئی ایکشن لے سکے گا۔کیونکہ جب ساری طاقت ریکوری یونٹ کے پاس ہوگی تو آپریشنل پولیس کی یہی کوشش ہوگی کہ اگر کوئی واردات ہو جاتی ہے تو ہو جائے بعد میں سارا بوجھ سی سی یو ہی اٹھائے گی۔اس طرح یہ الگ قسم کی لڑائی اور بحث بن جائے گی۔اس کا ماڈل سی ٹی ڈی سے لیا گیا ہے جبکہ سی ٹی ڈی کی ڈومین ہی بالکل مختلف ہے۔ان کا کام دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔باوجود اس کے وہ بھی اپنی کمانڈ سے احکامات لینے کے بعد متعلقہ ڈی پی او سے لازمی رجوع کرتے ہیں۔سہیل ظفر چٹھہ ایک پروفیشنل پولیس آفیسر ہیں ان کا کرائم کنٹرول میں بہت تجربہ ہے اور وہ اسی تجربے کی بنا پر ہی ایڈیشنل آئی جی سی سی یو تعینات ہوئے ہیں لیکن ایک دم سے سارے نظام کو لپیٹ کر نیا نظام لانے میں تھوڑی مشکل ہوگی۔اس کا حل یہی تھا کہ پہلے یہ منصوبہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت صوبہ بھر میں کسی بھی 10اضلاع میں لانچ کرتے۔اس پائلٹ پراجیکٹ میں جو بھی چیزیں سامنے آتیں ان پر کام کیا جاتا اور جو کوئی خرابی یا مشکل آتی اس کا بھی حل نکل آتا۔اس کے بعد دس مزید اضلاع کو اس پروگرام کا حصہ بنا دیا جاتا۔اب جبکہ کنٹرول کرائم ڈیپارٹمنٹ کو سنگین مقدمات میں ملوث ملذمان کی گرفتاری کا ٹاسک سونپا گیا ہے اس سے مقامی ڈی پی اوز اور سی سی ڈی ونگ میں اختیارات کے اعتبار سے سر د جنگ جاری رہنے کا امکان ہے اور ساتھ ہی اس ونگ کو صوبہ بھر میں وسیع اختیارات دینے سے کرپشن کے بڑھنے کے بھی کافی امکانات موجود ہیں جس سے ادارے کا مورال ڈاون ہونے کے ساتھ یہ حکومت کی بیڈ گورننس کا باعث ب بھی بن سکتا ہے۔اس بارے میں سابق آئی جی عہدے کے افسران کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا ہے اس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہوسکتے ہیں۔





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button