مکالم

میجیکل رئیلزم: جادوئی حقیقت پسندی کیا ہے؟ / مکالم

ادبی تیکنیک میجیکل رئیلزم پر یہ گفتگو یقیناً مفید ہو سکتی ہے۔ عمران شاہد بھنڈر فلسفے پر کئی شان دار کتابوں کے مصنف ہیں۔ ادبی تنقید پر بھی ان ایک کتاب آنے والی ہے۔ شاعر اور افسانہ نگار عاکف محمود ادبی تنقید پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔

میجیکل رئیلزم: جادوئی حقیقت پسندی کیا ہے؟

 

  • عمران شاہد بھنڈر 
  • رفیع اللہ میاں 
  • عاکف محمود

عمران شاہد بھنڈر:
مغربی دنیا میں جادوئی حقیقت نگاری کی جڑیں لاطینی امریکہ اور بیسویں صدی کے آرٹ میں تلاش کی گئی ہیں، جبکہ میرا یہ خیال ہے کہ اس کا حقیقی تعلق قدیم اساطیر، مذاہب، دیومالا وغیرہ سے بآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اور کسی حد تک اس طرح کی کوششیں ہو بھی چکی ہیں۔
جادوئی حقیقت نگاری ایک ایسی ادبی صنف ہے کہ جس میں دو چیزوں کو شامل کیا جاتا ہے: ایک حقیقت نگاری، جس کہ تحت ناول یا افسانہ وغیرہ میں موجود ہر کردار، واقعہ کی جڑیں حقیقی دنیا میں موجود ہوتی ہیں۔ جیسے اگر کوئی شخص محمد علی جناح پر ناول لکھ دے تو اس میں محمد علی جناح ایک حقیقی کردار ہوں گے۔
اس کا دوسرا پہلو ہے اس کا جادوئی ہونا، اس کے لیے انگریزی میں جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے اسے ’’فینٹسی‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی ایک ایسی دنیا جو حقیقت میں موجود نہیں بلکہ صرف تخیل میں موجود ہوتی ہے۔ اسے واہمہ، فرضی، تخیلی بھی کہا جا سکتا ہے۔ جادوئیت اس کو اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں حقیقی کرداوں کو ان کی حقیقت سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ناول وغیرہ میں یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں مذہبی شخص کو مرگی کے دورے پڑتے تھے اور انہیں آسیب ڈرایا کرتے تھے۔ یا اگر کسی حقیقی کردار کو ایسے پیش کیا جائے کہ فلاں شخص کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کی پشت پر دُم نکل آتی ہے۔ تو یہ دونوں فقرے جادوئی حقیقت نگاری کے زمرے میں آئیں گے۔
سلمان رشدی نے حقیقی مذہبی شخصیات کو جیسے پیش کیا وہ حقیقت نگاری کے برعکس جادوئیت یا فینٹسی دنیا کے تابع تھا۔ ذہن میں رہے کہ فینٹسی ورلڈ میں حقیقی کرداروں سے جو منسوب کیا جاتا ہے، جیسا کہ میں اوپر مثال دے چکا ہوں، وہ بذاتِ خود حقیقی نہیں ہوتا۔ حقیقت نگاری میں عقلیت، تنقید، اور واقعات کا حقیقی اور معروضی بیان ہوتا ہے، یعنی اس میں معروضی سچ کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ حقیقی مذہبی یا غیر مذہبی کرداروں کا مذاق اڑانے والی بات ہے۔ جادوئی حقیقت کے عظیم ناموں میں گارشیا مارکیز، بورخیس، کافکا وغیرہ سمیت کئی بڑے نام ہیں، لیکن ان کی تخلیق کی گئی فینٹسی، امیجری حقیقت سے فاصلے پر نہیں تھی۔ یہی وہ پہلو ہے جس کا سلمان رشدی کے ہاں فقدان تھا۔ بلکہ ان دونوں کا امتزاج تھا۔ مغرب میں اس کی بہترین مثال ’’ہیری پورٹر‘‘ کی پیش کی جاتی ہے۔ مذہب کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ مثال کے طور پر ہندوازم میں ہنومان کا کردار بیک وقت مذہبی اور جادوئیت کی عکاسی کرتا ہے۔

عاکف محمود:
مارکیز کے ہاں بالکل درست مثال ہے ۔ مارکیز کے حقیقی کردار زمان ومکان اور معروضیت کی بندشوں سے آزاد جادوئی فضا میں ” پلے ” کرتے ہیں ۔
اس طرح کے بیانیہ کی ٹھوس نفسیاتی وجوہات بھی موجود ہیں ۔ اردو ادب میں اس کی بھونڈی نقالی مستنصر حسین تارڑ نے کی ۔ جس نے درخت پر جادوئی حقیقت نگاری کا غلاف چڑھایا ۔ لیکن دنیا میں اس کی اس سے بری مثال کم ہی ملے گی ۔
ممتاز مفتی کے ہاں اس کی اچھی مثالیں ہیں بہ حوالہ لبیک اور اس کی ایک اور عمدہ مثال بابا یحیی کا بیانیہ ہے۔

عمران شاہد بھنڈر:
جادوئی حقیقت نگاری میں جادوئیت اور فینٹسی ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، لیکن یہ وہ میجیکل نہیں جسے لوگ جادو سمجھتے ہیں، جس کی طرف عاکف بھائی نے بھی اشارہ کیا ہے۔

رفیع اللہ میاں:
فینٹسی اور حقیقت نگاری میں فرق تو پہلے ہی سے عیاں ہے۔ لیکن عرض یہ ہے کہ فینٹسی اور جادوئی حقیقت نگاری ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ آپ انھیں ایک دوسرے کے متبادل کہہ رہے ہیں۔ یعنی تنہائی کے سو سال اور ہیری پوٹر اس طرح ایک ہی تکنیک کے حامل ہوئے۔ کیا یہ تباہ کن خیال نہیں ہے؟

بھنڈر:
میاں صاحب، میجیکل ریئلزم میں موجود میجیکل کو میں نے فینٹسی کے متبادل کہا ہے۔ چونکہ یہ رئیل ازم بھی نہیں بلکہ ریئل کرداروں کو فینٹسی کی سطح تک لے جانا ہے، لیکن روایتی معنوں میں یہ فینٹسی بھی نہیں ہے۔
کافکا کی کہانی میٹافورفوسز کی لوکاش جیسے عظیم نقاد کو بھی پریشان کر رہی تھی کہ آیا یہ ریئل ازم ہے یا کچھ اور۔ حالانکہ اسے میجیکل ریئل ازم کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہاں فینٹسی کا وہ مفہوم نہیں جو کہ فینٹسی کا مفہوم ہوتا ہے۔ اور نہ ہی جادوئیت کا وہ معنی ہے کہ جو جادوئیت کا معنی لیا جاتا ہے۔ میں اس سلسلے میں کئی کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ سب کی مختلف تعبیرات ہیں۔ اور پھر میجیکل ریئل ازم بھی اب وہ نہیں جو لاطینی امریکیوں نے پیش کیا۔ یہ انتہائی پیچیدہ تصور ہے۔
فی الوقت یہی کہ یہ فینٹسی اور حقیقت نگاری کا امتزاج ہے۔ لیکن نہ یہ فینٹسی ہے، اور نہ حقیقت نگاری۔ میں آپ کا نکتہ سننے کے بعد مزید وضاحت کرتا ہوں۔

رفیع:
معذرت بھنڈر صاحب، میں نے ’میجیکل اور فینٹسی کے متبال ہونے‘ کو غلط پڑھ لیا۔ میں ایک اور نکتہ پیش کرتا ہوں۔ ایک تو اصطلاحاً دونوں میں خاصا فرق ہے۔ دوم، میجک اور فینٹسی میں سبجیکٹ کی فعالیت اور مفعولیت کا قضیہ بھی ہے۔ آپ نے ٹھیک کہا کہ میجیکل ریئلزم اب انتہائی پیچیدہ تصور ہے۔ اس کی پیچیدگی کی بڑی وجہ مختلف چیزوں کی غیر واضح آمیزش ہے۔ میں مغربی ذہن کے اس پاگل پن پر حیران ہوتا ہوں جب وہ فینٹسی اور میجک میں واضح تفریق نہیں کر پاتے۔ کافکا کا میٹامورفوسز ایک واضح فینٹسی ہے۔ مغربی نقاد کے کنفیوژ ذہن سے لکھتے ہوئے بار بار یہ نکتہ اسکیپ کرتا ہے کہ میجک محض ذہن کی سطح پر کارفرما نہیں ہوتا، بلکہ یہ حقیقی گراؤنڈ پر پلے ہوتا ہے۔ ایک شخص صبح اٹھتا ہے اور وہ چھپکلی بن گیا ہے۔ یہ ہے فینٹسی۔ کیوں کہ اس نے حقیقت کو ایک دم، اور یک سر منہا کر دیا ہے۔ لیکن ایک ادھیڑ عمر شخص کمرے میں اپنے پاس کسی اور کا وجود بھی محسوس کرتا ہے۔ یہ وہ فینٹسائز نہیں کر رہا۔ بلکہ اعصابی سطح کی چینجز کی وجہ سے اس کے احساسات کی سطح مختلف ہو گئی ہے۔ یہاں اب غیر حقیقی اور حقیقی دونوں ایک یکساں سطح پر موجود ہیں۔ پیچیدگی کے اس قضیے کو، میرا ماننا ہے کہ جزیاتی سطح پر دیکھے بغیر حل کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ میں دریدا کی فکر اور میجیکل رئیلزم کے موضوعات پر مغربی رائٹرز سے سخت مایوس ہوں۔ وہ اس معاملے میں آبجیکٹیولی دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ بجائے کہ ٹیکسٹ کے ساتھ چلیں، وہ پل بھر میں سبجیکٹیولی دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ جہاں عجیب یا محیرالعقل چیز دیکھتے ہیں، کنفیوژ ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ ہیری پوٹر تو ہے جادو کی کہانی۔ لیکن وہ فینٹسی کے دائرے کا میجک ہے۔۔۔ ’حقیقی میجک‘ نہیں۔ حقیقی میجک میں انسانی کمزوریاں، جیسا کہ الیوژن کارفرما ہوتا ہے۔ اب تک جتنی واضح تعریفات سامنے آئی ہیں، اسی لیے ان میں فوک اور سائنس کے عناصر بھی نمایاں کیے گئے ہیں۔ آسیب بھی انسانی بدن پر ’محسوس‘ کی جانے والی ’چیز‘ ہے۔
آپ کا یہ نتیجہ:
’’فی الوقت یہی کہ یہ فینٹسی اور حقیقت نگاری کا امتزاج ہے۔ لیکن نہ یہ فینٹسی ہے، اور نہ حقیقت نگاری۔‘‘
بالکل درست ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ چاہے اردو کے ہوں، یا انگریزی کے؛ اتائی نقادوں نے جہاں تھوڑی سی فینٹسی دیکھی، تھوڑا سا سررئیل اسٹائل دیکھا، کچھ آسیبی معاملات دیکھے، رئیل سیٹنگز میں فینٹسی کارفرما دیکھی، حکایات دیکھیں، مجازیہ دیکھا، اور آخر میں اسطورہ ۔۔۔۔۔ بس فوراً میجیکل رئیلزم کی تہمت لگا دی۔

بھنڈر:
میاں صاحب، مجھے لگ رہا ہے کہ لفظ جادو مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ مثال کے طور موسی نے ڈنڈا پھینکا اور وہ سانپ بن گیا۔ ادبی سطح پر جادوئیت وہ نہیں ہے۔ یہ فینٹسی اور رئیل کے امتزاج سے جو اثرات پیدا کرتی ہے، اسے ہی میجیکل کہا جاتا ہے۔ جیسے کچھ عجیب چیز ہو جائے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ تو میجیکل ہے۔ فینٹسی میں البتہ ایسے عوامل موجود ہوتے ہیں جن میں انسانی سیلف کے دو لخت ہونے کا تصور، پراسراریت، اساطیر، ریئل اور امیجنری میں علیحدگی وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ میں کوشش کرتا ہوں اس پر ایک مزید پوسٹ لگاوں۔

رفیع:
میں نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ جادو لفظ گم راہی کا سبب ہے اب ہر سطح پر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ میجک کی تعریف میں کہیں کسی کونے میں بھی فینٹسی کا معنیٰ موجود ہے، یا نہیں؟ مغرب کی یہ خوبی ہے کہ اس نے میجک کو بہت واضح کر دیا ہے لغت کی سطح پر۔ اسی لیے عصاے موسیٰ اور کسی اسٹیج پر میجسشن کا الیوژن پیدا کرنے والا ٹرک یکساں جادو ہے۔ (میں یہاں موسیٰ کو جادوگر نہیں کہہ رہا، بس ضرورت کے تحت ایسے کسی بھی ایکٹ کو موجود وقت کے میجک ٹرک کی سطح پر رکھ کر ایک اور بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔) جس میجک میں فینٹسی ہے، میرے نزدیک وہ رئیل میجک نہیں ہے۔ اور جس فینٹسی میں میجک ہے، وہ میجیکل رئیلزم نہیں ہے۔

بھنڈر:
جی میاں صاحب۔ میجکل رئیلزم کے بارے تو واضح ہے کہ وہ حقیقی کرداروں کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے، جبکہ فینٹسی امیجنری ہے۔ لیکن حقیقی کردار کو فینٹسائز کرنا ہی میجکل رئیلزم ہے۔ اور فینٹسائز بھی اس تکنیک میں کرنا کہ وہ حقیقی بھی رہے اور فینٹسی بھی ہو جائے۔ آپ نے اوپر بہت اچھی مثال پیش کی ہے۔
اب نکتہ یہ ہے کہ کافکا کی کہانی میٹامورفوسز کو آپ نے فینٹسی کہا ہے۔ مجھے وہ میجکل رئیل ازم لگتی ہے۔ جیسا کہ رشدی کے کردار، واقعات سبھی حقیقی تھے، لیکن انہیں جس اسلوب میں پیش کیا گیا وہ حقیقی نہیں رہتا۔ اگر آپ کو وقت ملے تو اس پر ایک پوسٹ چسپاں کیجیے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ "خالص” فینٹسی اس لیے مشکل ہے کہ اس کے پس منظر بھی سماجی، سیاسی، معاشی اور مختلف متون کے باہمی امتزاج (بین المتونیت) کا نتیجہ ہے۔
اگر آپ کے پاس ٹوڈوروو کا مضمون بعنوان "فینٹاسٹک” ہو تو ایک نظر اسے دیکھ کر بتائیے کہ یہ کیا کہتا ہے۔ میجک اور میجیکل کے الفاظ پر نظر رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ میجک گمراہ کن ہے، جبکہ میجیکل کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

رفیع:
اب بھنڈر صاحب، یہ سوال سامنے ہے کہ کیا مکمل فینٹسی کی موجودی میجیکل رئیلزم ہے؟ کیوں کہ میٹامورفوسس میں مکمل فینٹسی موجود ہے۔ مکمل فینٹسی سے یہ مراد لیا جا سکتا ہے کہ جہاں سے حقیقت بالکل ہی منہا ہو جاتی ہے۔ محض انسانی کردار کی موجودی فینٹسی کی ڈگری کو متاثر نہیں کرتی، جیسا کہ آپ نے اشارہ کیا کہ سیلف دولخت ہو جاتا ہے۔ ایک حقیقی وجود ایک پوائنٹ پر جا کر مکمل طور پر امیجنری ہو جاتا ہے۔ اب اس میں جتنا بھی سیلف موجود ہے، وہ امیجنری ہے۔ اب یہاں پیش کش (پریزنٹیشن) کے نوشن کو بھی مدنظر رکھیں تو، پس منظر کا قضیہ کسی حد تک حل ہو سکتا ہے کہ، مصنف اسے اپنی امیجنیشن کی صلاحیت سے تشکیل دیتا ہے یا کہیں فوک سے، حکایت، یا کسی اسطورہ سے لے رہا ہے۔ یعنی مظہر کی پریزنٹیشن کس نوع کی ہے۔ پیش کش اگر سیلف کو دو لخت نہیں‌ کر رہی، بلکہ کسی حد تک مدغم کر دیتی ہے، تو یہ میجیکل رئیلزم ہے، بہ صورت دیگر فینٹسی کی اصطلاح کارآمد ہے۔ ورنہ ہر فینٹسی کو میجیکل رئیلزم کہہ کر اصطلاحات کی تفریق ہی ختم ہو جاتی ہے، بلکہ ان کی موجودی ہی بے معنی ہو جاتی ہے۔
ٹوڈوروو بھی فنٹاسٹک میں ان جزیات پر زور دے رہا ہے، جو اصناف یا ٹیکنیکس کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ الیوژن وہ اہم نکتہ ہے جو کسی صنف کو حتمی طور پر شناخت کرنے سے روکتا ہے، نہ صرف کہانی کا کردار بلکہ قاری بھی اس شش و پنج میں رہتا ہے کہ مظہر حقیقی ہے یا تصوراتی۔ اب جیسا کہ کافکا کا کردار واضح طور پر ایک طرف ہو چکا ہے، اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں کوئی تذبذب واقع نہیں ہوتا، اس لیے وہ صریح فینٹسی کے زمرے میں جا گرتا ہے۔ ٹوڈوروو کہتا ہے کہ فطری اسباب اور غیر فطری اسباب کے درمیان تذبذب کا امکان فنٹاسٹک کے تاثر کی تشکیل کرتا ہے۔

بھنڈر:
بہترین تبصرہ ہے میاں صاحب۔

عاکف:
میجیکل رئیل ازم میں یہ بہت بڑا نکتہ مغربی تنقید نے بیان کیا ہے کہ اسے ایک طرف تو حقیقی سمجھا جاتا ہے ۔ جیسے سائینسی ترقی کے سبب وائرلیس چارجنگ ۔۔۔ اور دوسری طرف اسے جادو سمجھا جائے جیسے بغیر مس کے موبائل یا بیٹری کا چارج ہو جانا ۔ میں یہ نکتہ اس لیے اٹھا رہا ہوں کہ ہمیں اس نکتے کی وضاحت کی اشد ضرورت ہے ۔
ایک تو اس میں استعاراتی سطح کی فعالیت ہے ۔ لیکن دوسری طرف اس کی شرح میں استعارہ سے کہیں زیادہ پیچیدہ مسائل موجود ہیں۔ اگر دوست اس موضوع پر بات کریں تو ادب کا بہتیرا فایدہ ممکن ہے ۔

رفیع:
عاکف، اوپر اپنی گفتگو میں، میں نے سائنس کا نکتہ بھی پیش کیا ہے، تم نے اب اسے بریکٹ کر کے مزید وضاحت کا راستہ کھولا ہے۔ جو مثال پیش کی، وہ بھی بہت شان دار ہے۔ بھنڈر صاحب، دیکھا جائے تو اس میں بھی وہی گومگو کی کیفیت والا نکتہ ہے۔ الیوژن۔ سائنس ہے یا جادو۔ اس سطح کو مس کرنے پر ہی ادبی جادوئیت بھی جنم لیتی ہے۔ کہ آپ کی نگاہ کتنی گہرائی سے ثقافت کے اندر سے کوئی مظہر لا کر اسے گلوریفائی کرتی ہے ۔۔۔۔ ہم کبھی کبھی کسی ناول ہی کو جادو کہہ دیتے ہیں، کیوں کہ وہ بہت پرقوت بھی ہوتا ہے اور اپنی تخلیقی بُنت اور تمام تر تفصیلات میں وہ حیرت انگیز ہوتا ہے، ہم کہہ اٹھتے ہیں کہ ایسا لکھا جانا ممکن نہیں، یعنی یہ خود ادبی معجزہ یا ادبی جادوئیت ہے۔

بھنڈر:
جادو والا نکتہ میں نے شروع میں اٹھایا تھا، لیکن میاں صاحب نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ پھر میں ادبی جادوئیت پر آ گیا۔

عاکف:
یہ بات ۔جادوئی حقیقت نگاری اس تفاوت کو کھول کر دکھاتی ہے جو مغربی / یوروپ کے ذہن اور روایتی زرعی سماج کی تشریحات میں ہے ۔ جہاں ایک ہی صورتحال کے دو مختلف معنی ضرور موجود ہیں۔
یہ انتہائی سریع الاثر بیانیہ ہے ۔ اس کی وجہ اس کا زمین پر موجود ہونا ہے ۔ کاش ہم بھی ان باریکیوں کو سمجھ کر لکھا کریں تا کہ تحریر میں جان پڑے ہمارا کام ترقی یافتہ دنیا میں بھی پڑھا جائے ۔ سلمان رشدی ایسی ایک مثال ہے جس نے اس بیانیہ کو برصغیر میں اچھی طرح سمجھ کر بخوبی استعمال کیا ہے۔

بھنڈر:
میاں صاحب، روسی ناول نگار نکولائی گوگل کی مختصر کہانی (The Nose) میجک ریئلزم کے مباحث میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسے اگر پہلے نہیں دیکھا تو پلیز آج دیکھیے۔

رفیع:
بھنڈر صاحب، نکولائی گوگول کے افسانے ’ناک‘ کے بارے میں روسی نقادوں کے ہاں کوئی کنفیوژن نہیں تھا، کہ یہ ہر حوالے سے علامتی افسانہ ہے۔ انسانی جسم کے حصے کے طور پر ناک، اور خود ایک مکمل وجود (افسانوی کیریکٹر) کے طور پر بھی؛ یہاں تک کے طبقاتی حوالے بھی موجود ہیں۔ ناک نہ صرف انسانی شخصیت کی علامت ہے بلکہ یہ ادب میں طنز و مزاح اور کرب کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ تب ہوا جب، ادبی نقادوں میں میجیکل رئیلزم سے متعلق گفتگو ہونے لگی، اور عین اسی طرح، جیسا کہ ہمارے ہاں ہر فلسفے کو پہلے سے ہندوستانی اساطیر میں موجود دکھایا جاتا ہے، کچھ نقادوں نے افسانہ ’ناک‘ کو اس نئی ادبی تیکنیک کی پیش رو قرار دے دیا۔ یہ افسانہ دو اہم کیٹیگریز میں بغیر کسی تنازع کے شمار کیا جاتا ہے؛ ایک علامتی اور دوم ابزرڈٹی یعنی مہملیت۔ ناک ایک اتنی واضح اور بڑی علامت ہے، کہ اس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے۔ اور اس متن کی مہملیت یہ ہے کہ بغیر کسی وجہ کے ناک کبھی ایک عضو ہے اور کبھی پورا انسانی وجود۔ دونوں صورتوں میں اس کی قرآت میں کوئی تذبذب، کوئی الیوژن، گومگوں کی کوئی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ، اگر اس متن کو خواب سمجھا جائے، اور اگر نہ سمجھا جائے؛ بہ ہر صورت ٹوڈوروو کا فنٹاسٹک افیکٹ پیدا نہیں ہو پاتا۔ اس لیے میری بہت مضبوط رائے ہے کہ اس افسانے کو میجیکل رئیلزم کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا۔ نقاد اس سلسلے میں بڑی غلطی کر رہے ہیں۔

بھنڈر:
جادوئی حقیقت نگاری پر میں اپنی فہم کے مطابق تبصرہ کر چکا ہوں، لیکن دوبارہ مختصراََ اس کے چند بنیادی پہلوؤں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔
جادوئی حقیقت نگاری کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ اس کے کردار حقیقی ہوتے ہیں، یعنی ان کی جڑیں سماجی، سیاسی، معاشی اور تاریخی حالات میں پیوست ہوتی ہیں۔ انہی کی بنیاد پر انہیں حقیقت نگاری کے زمرے میں لایا جاتا ہے۔ دوسرا پہلو اس میں موجود فینٹسی ہے، جسے کہ جادو کے متماثل گردانا جاتا ہے،اس کی جڑیں سماج میں نہیں بلکہ ماورائے فطرت، اساطیری اورمذہبی توہمات وغیرہ میں ہوتی ہیں اور انہی کی بنیاد پر جادوئی حقیقت نگاری ایک Satire کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کی ایک مثال انیسویں صدی میں روسی ناول نگار نکولائی گوگل کی لکھی ہوئی کہانی The Nose ہے، جس پر میں بعد میں تبصرہ کروں گا۔
جادوئی حقیقت نگاری میں موجود فینٹسی کو جادو کے متماثل اس لیے گردانا جاتا ہے کہ جس طرح جادو گر مختلف کرتب دکھاتا ہے، اور چیزوں کی ماہیت کو تبدیل کرنے کا واہمہ پیدا کرتا ہے، ادبی سطح پر ایک ادیب وہی ”کرتب“ دکھاتا ہے اور حقیقت میں موجود کرداروں کی ماہیت کو تبدیل کر دیتا ہے۔ جو کچھ جادوگر سماج میں کرتا ہے، وہی کچھ ادیب اپنے فن پارے میں کرتا ہے۔
مثال کے طور پر نکولائی گوگل کی کہانی ”ناک“ میں وہ دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک حقیقی فوجی افسر جب دن کو اٹھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کہ منہ پر ناک نہیں ہے۔ اب یہاں فینسٹسی جادو میں بدل جاتی ہے۔ یعنی ناک کا چہرے سے غائب ہو جانا۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی جادوگر کسی شے کو غائب کرنے کا واہمہ پیدا کرتا ہے۔ ناک صرف غائب ہی نہیں ہوتا بلکہ ایک خود مختار زندگی بھی اختیار کر لیتا ہے۔ یہ دراصل افسر شاہی پر طنز ہے۔
کہانی کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اگرچہ میں تینوں حصہ کا تجزیہ نہیں کروں گا، چونکہ مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ کہانی میں حقیقی کرداروں میں فینٹسی یا جادوئی تبدیلی کیسے پیدا ہوتی ہے۔
ایک حجام ییکولیوچ دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی نے روٹی بنائی ہے اور اس روٹی میں ایک ناک موجود ہے جو کہ ایک فوجی افسر کا ہے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ وہ ناک کو کہیں پھینک دے۔ جب وہ ناک کو پھینکنے کے لیے نکلتا ہے تو اسے ایک پولیس افسر پکڑ لیتا ہے۔ وہ پولیس افسر کو رشوت دینے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔
ذرا غور کرنے سے عیاں ہوتا ہے کہ ناک کا روٹی میں گرنا فینٹسی یا جادوئی عمل ہے، جبکہ پولیس والے کا اس کو پکڑنا اوراس کا پولیس والے کو شوت دینا ایک حقیقی عمل ہے، جو کہ روسی معاشرے کی جڑوں میں موجود تھا۔ ان معنوں میں جادوئی حقیقت نگاری کو ایک اعلیٰ قسم کی Satire بھی کہا جا سکتا ہے اور بیک وقت ایک علامتی کہانی بھی!
کافکا کی کہانی ”میٹامورفسز“ میں بھی گریگری سامسا جب صبح اٹھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ کھٹمل بنا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ کافکا کی کہانی انیس سو پندرہ میں لکھی گئی تھی، جبکہ پہلی جنگِ عظیم انیس سو چودہ میں شروع ہو چکی تھی۔ کہانی یہ بتاتی ہے کہ اس بھیانک جنگ کے بعد انسان صرف کھٹمل ہی کہلا سکتا ہے۔
اس مختصر تحریرسے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ جادوئی حقیقت نگاری کیا ہوتی ہے۔

رفیع:
بھنڈر صاحب، یہاں جادوئی حقیقت نگاری اور علامت نگاری کے درمیان لطیف لکیر مٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس پر بھی کچھ عرض کریں۔

عاکف:
میری محدود علم کے مطابق جادوئی حقیقت نگاری کے ساختی و ارتقائی مباحث فی الوقت موجود نہیں ہیں ۔ اگر اس سمت میں بحث کی جائے تو یہ پہلی بار ہو گی کہ اس دقیق نکتے پر سوچ بچار کی جائے ۔
مغرب بھی تاثیر کی سطح پر بات کر رہا ہے ۔ کم از کم چھ سال پہلے کی کتب تک رسائی کے مطابق بات کر رہا ہوں ۔
بہت الجھا ہوا موضوع ہے ۔ بہر حال جادوئی حقیقت نگاری کاغالب جزو تجریدی ہے ۔ جبکہ علامت نگاری زیادہ صورتوں میں اپنے ہی ایک نظام فہم کے تابع ہوتی ہے ۔
علامت نگاری سے جادوئی حقیقت نگاری کو کیسے ممیز کیا جائے رفیع بھائی اس کا کوئی معیار ہونا چاہیئے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ جادوئی بیانیہ کو علامت نگاری سے اناٹومی اور فزیالوجی دونوں سطوح پر الگ کرنا۔ممکن ہے ۔

بھنڈر:
میاں صاحب، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک علامتی افسانے کے اندر میجیکل ریئلزم کے اثرات ملتے ہیں۔ "شیطانی آیات” کو بھی تو علامتی کہہ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں علامتی کا مفہوم بہت وسیع ہے، اور یقین کریں کہ بیسویں صدی میں بہت سے ادبی رجحانات کی کھچڑی پک چکی تھی۔

رفیع:
’’علامتی افسانے کے اندر میجیکل ریئلزم کے اثرات ملتے ہیں۔‘‘
میرے خیال میں بھنڈر صاحب، اب تک کی ساری گفتگو میں یہ جملہ وہ ’نتیجہ‘ ہے، جو واضح اہمیت کا حامل ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں، تو اس کی مزید تشریح ہو سکتی ہے۔ بہ شمول یہ اہم ترین سوال کہ: کیا یہ نتیجہ دونوں اصناف کے درمیان خط امتیاز مٹا دیتا ہے؟

بھنڈر:
خط امتیاز نہیں ختم کرتا میاں صاحب۔ میرے خیال میں تو سارے ادب کو بھی علامتی کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال افسانے کے اندر کرداروں کی ایسی تبدیلی جس کی نوعیت جادوئی ہے، ان کو الگ طریقے سے پڑھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ بیسویں صدی کے پوسٹ ماڈرن لٹریچر، تعمیرات، وغرہ پر ڈی کنسٹرکشن کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں۔ لیکن پڑھا وہ لٹریچر ہی جائے گا نہ کہ ڈی کنسٹرکشن۔
گارشیا کے ہاں آپ کو ایسی بے شمار چیزیں ملیں گی جو اس کہانی میں ہیں۔ ویسے بھی ہم لٹریچر کو ایک ہی خانے میں کیوں بند کر دیں، یہ سوچ کر کہ اب اس کی دوسری تشریح ممکن نہیں ہے۔

رفیع:
بھنڈر صاحب، ٹوڈوروو کے فنٹاسٹک ایفکٹ پر اگر غور کیا جائے تو ہمیں ’ایفکٹس‘ کو ممیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یعنی کہ کسی افسانے کے اندر کردار میں ہونے والی یا کی جانے والی تبدیلی کی نوعیت جادوئی ہے یا وہ مصنف کی فینٹسی کی مرہون منت ہے۔ جادوئی ایفکٹ ایک الیوژن پیدا کرتا ہے، جب کہ فینٹسی کردار کو دو لخت (آپ ہی سے مستعار لیا گیا اشارہ) کر دیتا ہے۔ جس طرح میں یہاں جادو اور فینٹسی میں امتیاز پر زور دے رہا ہوں، ویسے ہی وہاں علامت نگاری اور جادوئی حقیقت نگاری کے مابین امتیاز کو واضح کرنا چاہتا ہوں؛ ایک ایسے پس منظر میں کہ علامت نگاری اور حقیقت نگاری خود ایک سطح پر ایک دوسرے سے مخالف سمت میں کھڑے ہوں۔ اب اہم یہ ہے کہ ادبی تنقید میں، کسی متن میں انسانی چہرے سے ناک کا اچانک غیوب، کس سطح پر دیکھا جا رہا ہے؟ کیا ایسا کوئی ’عمل‘ کوئی ثقافتی اور اساطیری حوالہ رکھتا ہے؟ جیسا کہ بہ قول دریدا اسطورہ کا اوریجن نامعلوم ہے، یہ ادب میں ایک الیوژنری ایفکٹ پیدا کرتا ہے۔ جسے ٹوڈوروو نے فنٹاسٹک ایفکٹ کہا۔ تو اہم سوال یہ ہے کہ کیا کوئی معروف علامت ایسا کوئی ایفکٹ پیدا کرتی ہے؟ گوگول نے ایسا کوئی ایفکٹ پیدا نہیں کیا۔ (بلکہ میں نے ایک جگہ پڑھا کہ یہ افسانہ گوگول نے یہ اپنی ناک کے ساتھ شیونگ کے دوران ہونے والی گڑبڑ پر لکھا تھا، اور اس طرح اس نے ابزرڈٹی اور طنز و مزاح سے کام لیا) یہ نکتہ بھی نگاہوں کے سامنے رہے کہ ابزرڈٹی علامتیت کے نہایت قریب ہے، بہ نسبت جادوئی حقیقت نگاری کے۔ اگر ہم کسی افسانے پر میجیکل رئیلزم کی تکنیک کا ٹیگ چسپاں کرتے ہیں، تو اس کا واضح مطلب ہوتا ہے کہ ہم بہرحال اسے علامت نگاری اور حقیقت نگاری وغیرہ سے الگ کر کے دیکھ رہے ہیں۔ کیوں جادوئی حقیقت نگاری میں اگر کوئی علامت تشکیل پا رہی ہے، تو اسے لازمی ہے کہ وہ میجیکل رئیلزم کے اپنے لوازمات کے دائرے میں ہو۔

بھنڈر:
میاں صاحب، میں آپکی بات سمجھ رہا ہوں۔ ناک کا الگ ہونا اور جگہ جگہ پہنچنا، حتیٰ کہ ایک آزادانہ زندگی اختیار کر جانا، اسے ہم ماورائے فطرت کیوں نہیں پڑھ سکتے؟ اسے ہم الیوژن کیوں نہیں کہہ سکتے؟ اسے ہم فینٹسی کیوں نہیں کہہ سکتے؟ امپاسیبیلیٹی یا عدم امکان جو کہ فینٹسی کی بنیادی صفت ہے کیا وہ ناک کے اس سارے متحرک عمل میں نظر نہیں آتے؟ کیا یہ کہانی ماورائے فطرت تبدیلیوں کا مسلسل عمل نہیں ہے؟ یہ سبھی اوصاف میجیکل ریئل ازم کا حصہ ہیں۔
میاں صاحب، مجھے لگتا ہے کہ آپ ہر شے کو الگ کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ یہ حقیقت نگار افسانہ ہے، یا یہ علامت نگار ہے۔ میرے خیال میں حقیقت نگاری کے اندر بھی علامت نگاری موجود ہوتی ہے۔ نیکولائی گوگگل کا شمار روس کے بڑے ’’حقیقت نگاروں‘‘ میں ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ حقیقی کرداروں سے جڑا ہوا ہے۔ اب حقیقی کردار کیا کیا شکلیں اختیار کرتے ہیں، کن علامتوں کو اختیار کرتے ہیں، یا کیا میجک بروئے کار لاتے ہیں، میرا خیال ہے اس پر توجہ مرکوز کرنی ضروری ہے۔
بیسویں صدی کے اہم نقادوں نے گوگل کی کہانی ’ناک‘ کو میجک ریئل ازم کے تحت پڑھا ہے، اور انکی تشریحات پڑھ کر مجھے کہیں محسوس نہیں ہوا کہ ان کی قرات غلط ہے۔ غلط کہنے کے لیے بالکل اسی طرح ان مخصوص تصورات کو رد کرنا پڑے گا۔ میں نے جو تعبیر کی ہے وہ مختلف ہے۔ ہاں اگر وہ کہیں غلط ہے تو ظاہر ہے وہ بھی سامنے آنی چاہیے۔
اہم بات میاں صاحب، فینٹسی، الیوژن وغیرہ پر نقادوں میں گہرے اختلافات موجود ہیں۔ اس کی آسان تشریح تو یہی ہے کہ ناممکن یا ماورائے فطرت کو تخیل میں لایا جائے۔ اب یہ ادب میں تو ممکن ہے لیکن حقیقت میں نہیں۔ گوگل کی کہانی میں ناک کی تبدیلی کا استعارہ ناممکنات کا ایک پہلو ہے۔

بھنڈر:
"میرا موقف یہ ہے کہ یہ سبھی اوصاف میجیکل ریئلزم کے اپنے امتیازی جوہر کے تحت ہی میجیکل ریئلزم کے اوصاف ہیں۔”
کوئی شک نہیں میاں صاحب۔ مکمل اتفاق میاں صاحب۔ ان سبھی اوصاف کا ریئل میں ادغام ہی میجیکل ریئلزم ہے۔ جیسا کہ ناک ریئل انسان کا ہے، لیکن ناک کا خود مختار ہو جانا، یا ایک انسان کا ناک دوسرے انسان کو لگ جانا الیوژن ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے کہ جہاں ناک کا میٹافور میجیکل میں ڈھلتا ہے۔ اور اس کو خود مختار سمجھنا یا کرنا محض فینٹسی ہے۔

رفیع:
بھنڈر صاحب، بہ ظاہر اب یہ گفتگو رک گئی ہے، بجائے آگے بڑھنے۔ اس لیے میں آپ کے نکات سے کہیں اتفاق اور کہیں وضاحت پر چھٹی پر چلا جاتا ہوں۔
آپ نے کہا: ’حقیقت نگاری کے اندر بھی علامت نگاری موجود ہوتی ہے‘
اس سے اتفاق ہے، میری گفتگو میں اس کا اثبات موجود ہے کئی جگہ۔ جیسا کہ میں نے آپ کے ’’علامتی افسانے کے اندر میجیکل ریئلزم کے اثرات ملتے ہیں۔‘‘ والے جملے پر رسپانس دیا تھا۔
آپ نے کہا: ’امپاسیبیلیٹی یا عدم امکان فینٹسی کی بنیادی صفت ہے‘
مکمل اتفاق ہے۔ میں نے بھی گفتگو میں اسی کی طرف اشارے کیے ہیں۔ (لیکن آگے جا کر میرا مؤقف یہ ہے کہ یہ صفت جادو کی نہیں ہے، اس لیے امتیاز کے نوشن کو مذکور کیے بغیر کوئی چارہ نہیں)
آپ نے گوگول کے کردار کی ناک کے غیوب کے حوالے سے لکھا: ’اسے ماورائے فطرت کیوں نہیں پڑھ سکتے، اور اسے ہم فینٹسی کیوں نہیں کہہ سکتے؟‘
میرا بھی یہی کہنا ہے کہ ہم اسے ایسے پڑھ سکتے ہیں (بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر میرا مؤقف ہے کہ ایسا ہی پڑھنا چاہیے)
آپ نے میجیکل رئیلزم کے اوصاف گنوائے: ماورائے فطرت، الیوژن، فینٹسی، اور عدم امکان
میرا مؤقف ہے کہ یہ سبھی اوصاف میجیکل رئیلزم کے اپنے امتیازی جوہر کے تحت ہی میجیکل رئیلزم کے اوصاف ہیں، بہ صورت دیگر ماورائے فطرت ماورائے فطرت ہے، فینٹسی فینٹسی ہے۔
اور میرا یہ بھی مؤقف ہے کہ بیسویں صدی کے نقادوں نے مختلف ادبی عناصر کو خلط ملط کر کے میجیکل رئیلزم پر کنفیوژن پھیلائی ہے۔
اور آخری نکتہ یہ کہ جہاں ناممکنات کا پہلو آ جاتا ہے، وہاں چیزیں اسٹیبلش ہو جاتی ہیں، اور الیوژن کا عنصر غائب ہو جاتا ہے۔

بھنڈر:
آپ کا ایک تبصرہ ابھی میں نے غور سے پڑھنا ہے، ٹوڈوروو والا۔ وہیں سے بات شروع کریں گے۔ دوسرا آپ نے کل "مدغم” کا لفظ استعمال کیا تھا، اس پر بھی بات کرنی ہے۔ نکات بہرحال آپ نے کمال کے اٹھائے ہیں۔ تنقید کا دائرہ تو وسیع ہو رہا ہے، یہ ہے اصل بات۔

بھنڈر:
"میرا موقف یہ ہے کہ یہ سبھی اوصاف میجیکل ریئلزم کے اپنے امتیازی جوہر کے تحت ہی میجیکل ریئلزم کے اوصاف ہیں۔”
کوئی شک نہیں میاں صاحب۔ مکمل اتفاق میاں صاحب۔ ان سبھی اوصاف کا ریئل میں ادغام ہی میجیکل ریئلزم ہے۔ جیسا کہ ناک ریئل انسان کا ہے، لیکن ناک کا خود مختار ہو جانا، یا ایک انسان کا ناک دوسرے انسان کو لگ جانا الیوژن ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے کہ جہاں ناک کا میٹافور میجیکل میں ڈھلتا ہے۔ اور اس کو خود مختار سمجھنا یا کرنا محض فینٹسی ہے۔

رفیع:
اب یہاں الیوژن کی ساخت اور پریزنٹیشن کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ آپ نے کہا: ’’ایک انسان کی ناک دوسرے انسان کو لگ جانا الیوژن ہے۔‘‘ مسئلہ یہ ہے کہ ہم محض اسٹیٹمنٹس ہی پر گفتگو نہیں کر رہے ہیں، بلکہ باقاعدہ عملی تنقید کے تحت ایک افسانے کے متن کے کردار کو زیر بحث لا رہے ہیں۔ گوگول نے ایسا کوئی الیوژن پیدا نہیں کیا۔ پیش کش کو مد نظر رکھے بغیر عملی تنقید کیسے ممکن ہے؟

بھنڈر:
میاں صاحب، میں ابھی تک اندازوں پر ہی اکتفا کر رہا ہوں کہ آپ جادوئی حقیقت نگاری کس کو سمجھتے ہیں۔ ?
آپ پلیز تھوڑی وضاحت کیجیے کہ آپ کے نزدیک جادوئی حقیقت نگاری کیا ہے؟
میرے نزدیک علامتیں، استعارے، تشبیہات کا استعمال اگر کسی کردار، واقعہ وغیرہ کی جادوئی تقلیب کے لیے ہو تو وہی جادوئی حقیقت نگاری ہو گی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی جادوگر کہتا ہے کہ "میں انسان کی ناک غائب کر دیتا ہوں۔” اور اس کے برعکس اگر ادیب کسی حقیقی کردار کی ناک غائب کر کے دکھا دیتا ہے تو وہ جادوئی حقیقت نگارئی کے زمرے میں آئے گا، خواہ اس کے لیے وہ علامت، استعارہ وغیرہ کا استعمال کرے۔ کیونکہ یہی کام کسی قدر شدت سے گارشیا مارکیز، رشدی وغیرہ کرتے رہے ہیں۔
آپ تھوڑی وضاحت کیجیے۔

رفیع:
آخر کار آپ اس سوال کی طرف آ ہی گئے بھنڈر صاحب ? میرے نزدیک کسی واقعے کی جادوئی تقلیب کے لیے استعارہ، تشبیہہ اور علامت کافی نہیں ہے۔ جو زمین علامت، استعارے اور تشبیہہ سے تشکیل پاتی ہے، اس زمین میں لوک ورثے کا پانی بھی شامل ہونا چاہیے۔ اس کی تہذیبی اور اسطوری سطح محسوس ہونی چاہیے۔ کیوں کہ متن میں صرف جادو یا فینٹسی مطلوب نہیں ہے۔ نہ ہی حقیقت نگاری مطلوب ہے۔ جو تین عناصر آپ نے مذکور کیے ہیں، جادو اور حقیقت نگاری؛ دونوں میں ان کی انفرادی حیثیت میں یہ عناصر اپنا بھرپور اظہار کر سکتے ہیں۔ لیکن ان دونوں (یعنی جادو اور حقیقت نگاری) کو ایک ساتھ ملانے کے لیے یہ تین عناصر کافی نہیں ہیں۔ اس (جادوئی حقیقت نگاری) کی ساخت (اسٹرکچر) کی تشکیل میں لوک ورثہ، تہذیبی اور اسطوری حوالے شامل ہیں۔ کیوں کہ ان کے بغیر جادو اور حقیقت نگاری کے ملاپ کا شائبہ (الیوژن) وجود میں نہیں آتا۔ اسی لیے میری رائے ہے کہ ادیب کا کسی حقیقی کردار کی ناک غائب کرنا محض فینٹسی ہے۔ لیکن یہ اس کا کمال ضرور ہے کہ اس فینٹسی کی مدد سے وہ ناک کو اعلیٰ علامتی اظہار میں تبدیل کر دیتا ہے۔

بھنڈر:
"آخر کار آپ اس سوال کی طرف آ ہی گئے بھنڈر صاحب۔”
میاں صاحب، میں اس سوال کی طرف آ ہی نہیں گیا، بلکہ میں نے اپنی پوسٹ کا آغاز ہی اس سوال سے کیا تھا کہ میجک ریئلزم کیا ہے۔
میری جس پوسٹ پر آپ نے گفتگو کا آغاز کیا تھا اس میں اساطیر، دیومالا اور مذہب وغیرہ کا ذکر بہت واضح الفاظ میں ہے۔ اسی تھریڈ کی پہلی پوسٹ کی پہلی چند سطریں پڑھ لیں۔ کیونکہ آپ علامت نگاری کی بات کر رہے تھے، اس لیے مجھے یہ کہنا پڑا کہ علامت، استعارہ اور تشبیہ کو بھی جادوئی حقیقت نگاری میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ کسی کہانی کے علامتی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ جادوئی حقیقت نگاری سے خارج کر دی گئی ہے۔ میں نے تبصروں میں بھی یہ کہا کہ نیکولائی گوگل ایک حقیقت نگار ادیب ہے۔ علامتی افسانہ کہنا ناکافی ہے، افسانے کی داخلی ساخت میں جادوئی اثرات یا تقلیب کو دیکھنا بالکل ایک الگ چیز ہے۔
خیر آپ پلیز میری وہ پوسٹ ایک بار ضرور دیکھ لیں۔ آپ نے تو میری ساری پوسٹ کو بھلا کر میری تفہیم کو محض علامت اور استعارے تک محدود کر دیا ہے۔ ?
تبصرے پہ تبصرہ اس تبصرے تک ہوتا ہے۔ بحیثیت مجموعی میری تفہیم میری پوسٹ میں موجود ہے۔ باقی اسطورہ، لوک ورثہ وغیرہ کی موجودگی جادوئی حقیقت نگاری کی کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔ کردار، واقعہ حقیقی ہونا چاہیے، خواہ اس کی جڑیں اکیسویں صدی کی مابعدجدید سوسائیٹی میں ہی کیوں نہ ہوں۔
آپ نے صرف دو اعتراضات کیے تھے: ایک یہ کہ آپ کو اسے جادو کہنے پر اعتراض تھا۔ دوسرا آپ نے یہ اعتراض کیا کہ گوگل کی کہانی علامتی ہے۔ ان دونوں پر میں اپنی پوزیشن واضح کر چکا ہوں۔
باقی آپ پلیز میری پوسٹ کو ایک بار ضرور پڑھ لیں جس سے آپ نے گفتگو کا آغاز کیا تھا۔

رفیع:
تو بھنڈر صاحب، تعریف کے ضمن میں ہم ایک سی باتیں کر چکے۔ گوگول علامتی کے ساتھ حقیقت نگار بھی ہے، اس سے بھی میں اختلاف نہیں کرنا چاہوں گا۔ تاہم گوگول کے حوالے سے میری پوزیشن بھی واضح ہو چکی ہے۔ اس کے افسانے ناک میں ناک کا غائب ہونا جادوئی ایفکٹ نہیں بلکہ فینٹسی ہے، اور یہ پریزنٹیشن علامتی طرز نگارش ہے۔ اس نے علامت کو فینٹسی کے ساتھ بلینڈ کیا ہے۔ جس میں کوئی الیوژن نہیں ہے۔ آآبجیکٹ کے تناظر میں سیگنیفائیڈ واضح اور متعین ہے۔ مختصر یہ افسانہ جادوئی حقیقت پسندی کے زمرے میں شامل ہی نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس میں حقیقت پسندی کے ساتھ علامتی اظہار سے کام لیا گیا ہے، اور فینٹسی سے کام کے کر اپنی پسندیدہ ابزرڈٹی کا ایفکٹ پیدا کیا ہے۔ یہ تینوں مل کر بھی جادوئی حقیقت پسندی کو جنم نہیں دیتے۔

بھنڈر:
درست میاں صاحب۔ میرے نزدیک جادوئی حقیقت نگاری میں جادوئی اثرات فینٹسی سے الگ نہیں ہیں، کیونکہ میں فینٹسی کی متعین تعریف کا قائل نہیں ہے، اور جہاں تک الیوژن کی بات ہے تو اس سے میری مراد فلسفیانہ سطح کا التباس ہے، جیسا کہ کوئی صوفی کہے کہ اس نے خدا کا علم حاصل کر لیا ہے، لیکن کانٹ کہے گا کہ یہ فقط التباس تھا۔

Author

Back to top button