قلی اور وزن/ تنویر احمد نازی

دو دن پہلے کراچی سے آئے کچھ مہمانوں کو لینے ریلوے سٹیشن دیئے گئے وقت کے مطابق پہنچ گئے۔وہاں معلوم ہوا گاڑی ایک گھنٹے لیٹ ہے،یہ سن کر افسوس ہو ا کہ ابھی تک ہما ری گاڑیوں کو اپنی منزل وقت پر پہنچنے کی عادت نہیں ہو سکی۔ دوبارہ اعلان سے علم ہو گا کہ کب تک اسٹیشن پہنچ پائے گی۔پلیٹ فارم میں کچھ مسافر اپنی اگلی منزل کے لئے اپنے سامان کے اوپر بیٹھے گاڑی کے انتظار میں دائیں بائیں دیکھ رہے تھے اور کبھی کبھار اپنے سامان کو آنکھوں سے گنتے بھی تھے کہ تمام سامان پورا ہے۔کچھ مسافر بہت تھوڑے سامان کے ساتھ تسلی سے گاڑی کے انتظار میں اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے اور کچھ مسافر زیادہ سامان کی وجہ سے پریشان اور تشویش میں نظر آ رہے تھے کہ یہ سارا سامان کسی قلی کے بغیر گاڑی کے اندر نہ جا سکے گا۔گاڑی کے آنے کا اعلان ہوتے ہی مخصوص لباس میں ملبوس”قلی“ایک لاؤلشکر کے ساتھ پلیٹ فارم پر اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو گئے۔وہ مسافر جو اپنی منزل پر پہنچ گئے گھروں کو روانہ ہونے لگے اور اگلی منزل کے مسافر اپنے قلی کے ساتھ گاڑی میں سوار ہونے کے لئے دھکم پیل کرنے لگے،جن کے پاس سامان کم تھا وہ آرام سے گاڑی میں سوار ہوتے گئے ان کو ”قلی“ کی بھی ضرورت نہ پڑی اور زیادہ سامان ساتھ رکھنے والے کبھی کسی قلی اور کبھی کسی اور سے سامان اُٹھانے اور اُجرت کے لئے تکرار میں وقت ضائع کرتے رہے۔ہم اپنے مہمانوں کو لے کر پلیٹ فارم سے روانہ تو ہو گئے، مگر دل بے چین ہو نے لگا۔ یہ سوال دل نے ہم سے پوچھ لیا کہ ہم نے بھی اس عارضی زندگی کو گزارنے کے لئے کچھ زیادہ سامان تو اکٹھا نہیں کر لیا وہ سب کچھ جو ہما رے پاس ہے وہ ضرورت سے زیادہ تو نہیں۔کچھ چیزیں تو حقیقت میں ضرورت کی نظر آئیں، مگر بہت ساری اشیاء صرف خواہش پر مبنی تھیں اور سچ پوچھو تو زیادہ وزن ان چیزوں کا تھا جو کم از کم ضرورت کی نہیں تھیں، بلکہ انہیں خواہش کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان میں بے شمار تو وہ تھیں جو نہ تو کبھی استعمال ہو سکیں اور نہ ہو سکیں گی،ان میں سے زیادہ صرف اور صرف لوگوں کو اپنی شانوں شوکت دکھانے کے لئے اکٹھی ہوتی رہیں۔
ہم اپنی زندگی کو آسان اور اسے مزید آرام دینے کے لئے خود کو ”بے آرام“ کرتے جا رہے ہیں۔ہما ری گاڑی کو آنے میں بھی زیادہ وقت باقی نہیں،کیا ہم نے اپنا وہ سامان، جس کی آگے ضرورت ہے وہی اکٹھا کیا اور ساتھ رکھا ہے یا کچھ فالتو چیزوں کو جمع کر لیا ہے۔ یہ سارا سامان ہم نے اپنے کندھے پر خود ہی اُٹھانا ہے،کیا ہما رے کندھے یہ وزنی سامان برداشت کر سکیں گے۔ہمارے سامان میں وہ بوجھ بھی ہے جو کسی کا تھا مگر ہم نے اسے اٹھانا ہے یہ حق کسی کا تھا اور ذمہ داری بھی اسی کی تھی مگر ہم نے اسے بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے اپنے سامان میں شامل کر لیا ہے۔حقوق، احساسات اور مکرو فریب کا بوجھ یہ کاندھے نہ تو برداشت کر سکیں گے نہ ہی اُٹھا سکیں گے۔ اس سارے سامان کے لئے کوئی ”قلی“ ہما ری مدد نہ کر سکے گا۔ یہ سارا وزن ہمیں خود اٹھانا ہو گا اس دنیا کے پلیٹ فارم میں سارا سامان اگر ہما رے کندھے پر ڈال دیا گیا تو ایک قدم بھی نہ اٹھا سکیں گے۔آج بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے کما یا چھینے ہوئے وزن کے انبار کو دیکھ کر خوش نہیں ہونا چاہئے،یہ اٹھایا نہ جا سکے گا اور اگر کسی اور کا وزن ہما رے کندھے پر ڈال دیا گیا تو کون ہے جو اسے ہلکا کر سکے، جس منزل کے ہم مسافر ہیں وہاں یہ سب کچھ نہیں چلے گا وہاں کے ترازو اور تولنے کے اوزان کچھ اور ہوں گے۔اس دنیا کے پلیٹ فارم میں ہم سب”قلی“ سے زیادہ نہیں،ہم روزانہ کوئی پریشانی، ضرورت یا کسی خواہش کا بوجھ لئے اپنی اپنی گاڑی کے منتظر ہیں۔اپنی جان مال اور وجود کا بوجھ بھی ہما را نہیں۔کسی قلی کے سر پر رکھا سامان اس کا نہیں ہو تا ”قلی“کے سر پر صرف وزن ہوتا ہے اور بس۔
٭٭٭٭٭




