سر گیری سوبرز موجودہ کرکٹ میں ہوتے تو؟

کرکٹ کی 150 سالہ تاریخ میں یوں تو بڑے بڑے کرکٹر گزرے ہیں مگر سر گیری سوبرز سب سے جگمگاتا نام ہے جن کے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔
آج دنیا میں کرکٹ کے کئی فارمیٹ رائج ہیں جن میں ٹیسٹ کے علاوہ ون ڈے اور موجودہ دور کا مقبول ترین فارمیٹ ٹی 20 کرکٹ بھی شامل ہے۔ ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے گار فیلڈ سوبرز (سر گیری فیلڈ سوبرز) نے صرف ٹیسٹ کرکٹ ہی کھیلی اور کھیل سے ریٹائرمنٹ لیے ہوئے بھی نصف صدی ہونے کو ہے لیکن ان کے کرکٹ کارناموں کی وجہ سے وہ آج بھی کرکٹ کے محبت کرنے والوں کے ذہنوں اور دلوں پر راج کر رہے ہیں۔
موجودہ دور میں سب سے مقبول فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہے اور اگر گیری سوبرز موجودہ دور میں کرکٹ کھیل رہے ہوتے تو ٹی ٹوئنٹی میں راج کر رہے ہوتے۔ یہ ہم نہیں کہتے بلکہ کرکٹ ماہرین کی رائے ہے۔ کرکٹ کوئی بھی روپ اختیار کر لے، اس میں رنگ بھرنے کے لیے گیری سوبرز کی طرح کے عظیم کھلاڑی کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔
ماضی کے کھلاڑیوں پر مبنی ٹی20 کی ایک تصوراتی ورلڈ الیون بنائی جائے تو اس میں گیری سوبرز ضرور شامل ہوں گے جو بہترین اور جارح مزاج بلے باز، عمدہ بولر، باکمال فیلڈر، بے مثال فٹنس، قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال، غرض ایسا ہمہ جہت کرکٹر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا۔ ان کا میدان میں ہونا شرط تھا وہ کسی بھی حیثیت سے شائقین کو محظوظ کر سکتے تھے۔
ٹی ٹوئنٹی چھکوں چوکوں کی کرکٹ ہے لیکن سوبرز نے 1968 میں ناٹنگھم شائر کی طرف سے کھیلتے ہوئے گلیمورگن کے میلکم ناش کے اوور کی چھ کی چھ گیندوں کو باؤنڈری لائن سے باہر پھینک کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اوور کی تمام گیندوں پر چھکے مارنے والے پہلے کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
کرک انفو نے 2020 میں کرکٹ ماہرین کا چار رکنی پینل بنا کر ماضی کے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹی 20 کی ڈریم ٹیم بنائی۔ اس کے لیے اینڈریو ملر، شامیا داس گپتا، احمر نقوی اور رونق کپور نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا۔ ان میں خاصی رد وکد اور اختلاف رائے بھی ہوا تاہم دلچسپ بات یہ تھی کہ گیری سوبرز وہ واحد کھلاڑی تھے جن کو تمام پینلسٹ نے متفقہ نے ٹیم کے لیے چنا تھا۔ صرف کھلاڑی ہی نہیں ٹیم کی کپتانی کے لیے بھی انہی کا انتخاب ہوا۔




