خبریں

بلوچستان اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، حلف برداری، سپیکر کا انتخاب ہوگا


پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس۔

  • قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو بلایا جائے گا
  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس آج ہوں گے

28 فروری صبح 07 بجکر10 منٹ

یبر پختونخوا اسمبلی اجلاس:سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب آج ہوگا

پشاور کے نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق پاکستان میں آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کا پہلا اجلاس گورنر خیبر پختونخوا نے آج (بدھ) کو طلب کر لیا ہے جس میں وزیراعلیٰ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر منتخب کیے جائیں گے جبکہ اجلاس میں نو منتخب اراکین اسمبلی حلف بھی اٹھائیں گے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں نو منتخب اراکین اور سات مخصوص نشستوں سمیت مجموعی طور پر 118 اراکین حلف اٹھائیں گے جبکہ اجلاس کے حوالے سے جاری ایجنڈے کے مطابق اجلاس کے پہلے دن نو منتخب اراکین کے حلف کے بعد شام پانچ بجے سپیکر اور ڈپٹی سپکر کے انتخاب کے لیے کاغذات جمع کرائے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی تعداد 83 ہے جبکہ مجموعی طور پر صوبائی اسمبلی کے115 میں سے 113 نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے جس میں سنی اتحاد کونسل کے اراکین کو واضح برتری حاصل ہے اور بظاہر وزارت اعلیٰ سنی اتحاد کونسل کے حصے میں آئے گی۔

دیگر جماعتوں کی بات کی جائے تو اسمبلی میں جمیعت علمائے اسلام کے سات نو منتخب اراکین، پاکستان مسلم لیگ ن کے پانچ، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے چار، پاکستان تحریک انصاف پارلیمیٹرین کے دو جبکہ عوامی نیشنل کا ایک نو منتخب رکن حلف اٹھائے گا۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نو منتخب رکن علی امین گنڈاپور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے نامزد امیداور ہیں جبکہ سپیکر کے عہدے کے لیے سنی اتحاد کونسل کے رکن صوبائی سے نومنتخب رکن عقیب اللہ امیداور ہوں گے۔

تاہم دیگر جماعتوں کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے منصب کے لیے ابھی تک کسی کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ اعدادوشمار سے واضح ہے کہ وزیر اعلیٰ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے ہوگا تاہم اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کوئی نام ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

پنجاب اور سندھ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اسمبلی کے اندر اور باہر بھی احتجاج ریکارڈ کیا گیا تھا اور پشاور میں بھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج متوقع ہے۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین نے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اس کے بعد وہی آزاد اراکین خیبر پختونخوا، پنجاب اور قومی قومی اسملبی میں سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوگئے تھے۔

آج ہونے والے اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے 50 فیصد سے زائد یعنی تقریباً 64 اراکین پہلی مرتبہ اسمبلی مییں جائیں گے اور عوامی نمائندگی کریں گے جبکہ اس مرتبہ پہلی مرتبہ چترال سے جنرل نشست پر کامیاب سنی اتحاد کونسل کی رکن ثریا بی بی بھی اسمبلی میں نظر آئیں گی۔


28 فروری صبح 06 بجکر50 منٹ

بارہویں بلوچستان اسمبلی کے 65 اراکین آج حلف اٹھائیں گے

بلوچستان اسمبلی کے نو منتخب 65 رکنی ایوان میں 16 نئے چہروں کے ساتھ 35 سینیئرپارلیمنٹریز آج بدھ  کو اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھائیں گے۔

کوئٹہ کے صحافی اعظم الفت کے مطابق گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑنے آج 12 ویں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔

اجلاس میں نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔ رکنیت کی حلف برداری کے بعد سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہونا ہے جس کے بعد قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

سپیکر کی حلف برداری کے بعد قائد ایوان کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال اس ہی دن مکمل کی جائے گی۔

بلوچستان کے 51 حلقوں سے منتخب ہو کر ایوان میں نمائندگی کرنے والوں میں 16 نئے چہرے شامل ہیں جبکہ دیگر 35 ارکان ایسے ہیں جو ایوان میں اپنے اپنے علاقوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔

خواتین کی 11 مخصوص نشستوں پر چھ خواتین پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ بنیں گی جبکہ پانچ خواتین پہلے بھی ریزرو سیٹس پر ایوان تک پہنچنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔

مجموعی طور پر 65 رکنی ایوان میں 24 نئے ارکان کے ساتھ 41 عوامی نمائندے مختلف ادوار میں صوبے کی پارلیمانی سیاست میں سرگرم رہے۔

1988 سے پارلیمانی سیاست میں متحرک چیف آف جھالاوان اور سینیئر ترین پارلیمینٹیرین نواب ثنا اللہ زہری آٹھویں مرتبہ خضدار سے صوبے کے نمائندے کے طور پر ایوان میں پہنچیں گے۔

نواب اسلم رئیسانی ساتویں مرتبہ جبکہ میر صادق عمرانی چوتھی مرتبہ ایوان کا حصہ بنیں گے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، میر اسد بلوچ، سردار عبدالرحمٰن کیتھران، زمرک خان اچکزئی، سردار مسعود لونی، نوابزادہ طارق مگسی، عاصم کرد گیلو انتخاب جیت کر تیسری مرتبہ ایوان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی، رحمت بلوچ، میر ضیا لانگو، اصغر ترین، مولوی نور اللہ، علی مدد جتک، میر ظفر زہری، غلام دستگیر بادینی، میر شعیب نوشیروانی، میر زابد ریکی، طور اتمان خیل، میر سلیم کھوسہ، محمد خان لہڑی، ملک نعیم بازئی اور اسفند یار کاکڑ دوسری مرتبہ ایوان میں پہنچیں گے۔

خواتین کی مخصوص نشستوں پر راحیلہ درانی چوتھی جبکہ غزالہ گولہ، ڈاکٹر ربابہ بلیدی، شاہدہ رؤف اور فرح عظیم شاہ دوسری دوسری مرتبہ مقننہ کا حصہ بنیں گی۔ اقلیتی تینوں نشستوں پر کوئی بھی نمائندہ پہلے ایوان کا حصہ نہیں رہا۔

اسمبلی سیکریٹریٹ کا کہنا ہے ارکان کی حلف برداری کے بعد قائد ایوان کے انتخاب کا شیڈول جاری ہوگا۔ سپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائد ایوان کی حلف برداری کا عمل توقع ہے چار روز کی مدت میں مکمل ہوجائے گا۔

خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں کے الیکشن کمیشن سے جاری نوٹی فکیشن کے بعد 65 رکنی ایوان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل ن 17، 17 نشستوں کے ساتھ ایوان کی سب سے بڑی جماعتیں بن گئی ہیں۔

جے یو آئی کی کل نشستیں 13، بی اے پی کی پانچ، نیشنل پارٹی کی چار جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی نشستیں تین ہوگئی ہیں۔

جماعت اسلامی، حق دو تحریک، بی این پی مینگل اور  بی این پی عوامی کی ایک ایک نشست ہے۔

ایک رکن کی حلف برداری آزاد حیثیت سے ہوگی جبکہ پی بی سات زیارت ہرنائی میں سنجاوی کے 11 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ 29 فروری 2024 کو ہوگی۔


27 فروری شام 9 بجکر 29 منٹ

صوبہ سندھ کی نگران حکومت تحلیل کر دی گئی

حکومت سندھ کی جانب سے بدھ کی شام جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے کی 11 نگران وزرا پر مشتمل نگران صوبائی حکومت تحلیل کر دی گئی ہے۔


27 فروری شام 6 بجکر 01 منٹ

29 فروری کو تمام اسمبلیاں وجود میں آ جائیں گی: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے منگل کو جاری بیان میں کہا ہے کہ ’29 فروری 2024 کو تمام اسمبلیاں وجود میں آجائیں گی۔‘

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 91 اور 130 کے تحت تمام اسمبلیوں کی پہلی نشست انتخابات کے بعد 21 ایام کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔

’آئین کے آرٹیکل 41 (4) کے تحت صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 ایام کے اندر کروانا لازم ہے۔‘

الیکشن کمیشن یکم مارچ 2024 کو صدر کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کرے گا۔ آئین کے تحت کا غذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے ایک دن مقرر کیا جائیگا۔ ’مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00 بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button