کے ایف سی کے ساتھ شراکت داری پر پی ایس ایل کے بائیکاٹ کا مطالبہ
جہاں پاکستان میں ملکی سیاست کا میدان گرم ہے وہیں پی ایس ایل نائن کا آغاز بھی ہو چکا ہے لیکن سوشل میڈیا پر اس کرکٹ ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ ٹرینڈ کر رہا ہے، جس کی وجہ پی کے ایف سی کا PSL 9 کے سپانسرز کی فہرست میں موجودگی ہے۔
اکتوبر 2023 سے غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں کئی برینڈز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا، جن میں میکڈونلڈ کے علاوہ کے ایف سی بھی شامل ہیں، اور اب پی ایس ایل کی جانب سے کے ایف سی کو شراکت دار بنانا صارفین کو ناگوار گزرا ہے۔
پاکستان کی مشہور ڈیزائنر ماریہ بی نے اس سلسلے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پی ایس ایل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ پوری دنیا میں یہ تحریک چل رہی ہے، پانچ ماہ سے فلسطین میں جو نسل کشی ہو رہی ہے اور ہماری پوری دنیا کے حکمران خاموش ہیں۔ ہم عوام نے یہ تحریک چلائی تھی، جس میں بہت بڑی بڑی کمپنیز جن میں کے ایف سی، میکڈونلڈ، کوک، پیپسی جو اسرائیل کے غیر قانونیت کو فنڈ کرتی ہیں، کو ہمارا بچہ بچہ بائیکاٹ کر رہا تھا۔ پاکستان میں یہ تحریک چل رہی تھی لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پی ایس ایل کو شراکت داری کے لیے صرف کے ایف سی ہی ملا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ پوری دنیا ان کمپنیز کا بائیکاٹ کر کے بیٹھی ہے اور ہم پاکستان میں جشن منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کیا کہ ’نسل کشی مذاق نہیں ہے۔ پاکستانی عوام پی ایس ایل کا بائیکاٹ کریں۔‘
اسی طرح سوشل میڈیا پر کئی دوسرے صارفین نے بھی اس شراکت داری پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔
ایکس پر شکیل احمد نامی صارف نے حکومت پاکستان اور پی ایس ایل کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فی الفور یہ معاہدہ ختم کیا جائے۔
ہم حکومتِ پاکستان اور @thePSLt20 انتظامیہ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فی الفور یہ معاہدہ ختم کیا جائے، ورنہ غیور پاکستانی نوجوان PSL کا بھی ایسے ہی بائیکاٹ کریں گے جیسے KFC کا کیا گیا ہے۔#NoKFCinPSL pic.twitter.com/Fxd00LEsE6
— Shakeel Ahmed (@PresidentIJT) February 16, 2024
اینکر محمد اسامہ غازی نے لکھا کہ ’ غزہ میں جاری نسل کشی کی وجہ سے غیر مسلموں نے بھی کے ایف سی کا بائیکاٹ کیا جبکہ ہمارے پیارے ملک نے انہیں پی ایس ایل میں شراکت دار بنا لیا۔
زینب نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ کے ایف سی کو پی ایس ایل پارٹنرز کے طور پر کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم فلسطین کی خاطر مہینوں سے اس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں اور وہ ہمارے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہر اس چیز کو ہمارا نا ہے جو بچوں کے قاتلوں اور ان کے قتل کی حمایت کرتا ہے۔ ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
Why would they use KFC as PSL partners. We have been boycotting this crap for months for the sake of Palestine and they are playing with our sentiments.
No to anything that supports child killers and murders.
We stand with Palestine#BoycottPSL pic.twitter.com/TeKKtyqZZT— zaynub (@Heydontfrown) February 17, 2024
ولی خان نے پوسٹ میں پی سی بی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ غزہ میں مصیبت زدہ بچوں اور لوگوں کی خاطر پی ایس ایل کا بائیکاٹ کریں‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عاصم عدیل نے کہا کہ کے ایف سی پاکستان سپر لیگ کے ذریعے اپنی مقبولیت دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن نوجوان فلسطینیوں کے خون پر اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
KFC wants to regain it’s popularity through the Youth Favourite Brand of Pakistan Super League but even now, Youth isn’t ready to accept it over the blood of Palestinian.
We demand #NoKFCinPSL from Pakistan Cricket Team otherwise PSL will be boycotted likewise the KFC in Pakistan pic.twitter.com/OhEI7lK5yh— Asim Adeel (@AsimAdeelAwan) February 17, 2024
حسنین نے بھی اسے ناقابل قبول عمل قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ بچے مر رہے ہیں، اور کے ایف سی منافع کما رہا ہے ۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ پی ایس ایل کو کے ایف سی کو چھوڑنا ہو گا۔‘
اس سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا موقف جاننے کے لیے دو دن تک مسلسل ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم پی سی بی جی ایم میڈیا رضا راشد کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اس بارے میں پی ایس ایل منیجمنٹ سے بات کرنے کے بعد ہی کوئی ردعمل دے سکیں گے۔




