خبریں

ایران سے تمام امور پر باہمی اعتماد کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں: پاکستان


پاکستان کے نگران وفاقی وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے جمعے کو اپنے ایرانی ہم منصب امیرعبداللہیان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ تمام امور پر باہمی اعتماد اور تعاون کی روح کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ایکس پر پوسٹ ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ نے اپنی گفتگو میں سیکورٹی کے معاملات پر قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس سے قبل آج ہی انہوں نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ مزید کشیدگی بڑھانے کی خواہش نہیں رکھتا۔

وزارت خارجہ کے ایکس پر جاری ایک مختصر پیغام میں کہا گیا کہ جلیل عباس جیلانی نے ترک ہم منصب سے گفتگو کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ پیش رفت سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے ’آپریشن مرگ سرمچار کا مقصد ایران کے اندر دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانا تھا اور پاکستان کو کشیدگی میں بڑھانے کوئی دلچسپی یا خواہش نہیں۔‘ 

رواں ہفتے پہلے ایران اور اس کے جواب میں پاکستان نے ایک دوسرے کی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد سے دوطرفہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

وزیراعظم انوار الحق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت مختصر کر کے وطن واپس پہنچے ہیں تاکہ ایران سے کشیدگی کی غیر معمولی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس حوالے سے آج اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رواں ہفتے ایران نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا تھا۔

امریکہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم جیش العدل نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے پاسدان انقلاب نے اس کے ’مجاہدین‘ کے کئی گھروں کو چھ ڈرونز سے نشانہ بنایا، جہاں بچے اور خواتین رہائش پذیر تھیں۔

تنظیم کے مطابق ان حملوں میں دو گھر تباہ ہوئے جہاں مقیم اہلِ خانہ بشمول بچے جان سے جانے والوں اور زخمیوں میں شامل ہیں۔

پاکستان نے اس حملے پر ایران سے شدید احتجاج کرتے ہوئے تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا جبکہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کو، جو اُس وقت اپنے ملک میں موجود تھے، اسلام آباد واپسی سے روک دیا۔

ایرانی حملے کے ایک روز بعد پاکستان فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ اس نے سیستان بلوچستان میں فوجی کارروائی کر کے بلوچ عسکری تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس معلوت کی بنیاد پر ’درست حملے، کلر ڈرونز، راکٹوں، بارودی سرنگوں اور سٹینڈ آف ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کیے گئے جن کے دوران وسیع نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی گئی۔‘

بیان کے مطابق: ’بلوچستان لبریشن آرمی (بی آر اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نامی دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال ٹھکانوں کو انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جس کا کوڈ نام مرگ بر سرمچار تھا۔‘

پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے جمعرات کو کہا کہ ’ہم جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتے اور جانتے ہیں کہ کچھ دن پہلے ہونے والے حملوں کی وجہ سے صورت حال پیچیدہ ہو گئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔ ہم ایران سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘

اسلام آباد کے لیے ایران کے سفیر جو اس وقت اپنے ملک میں ہیں، نے بھی جمعرات کو ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’دونوں پڑوسی، دوست اور برادر ممالک، پاکستان اور ایران نے ماضی میں مشکل حالات میں ہمیشہ ایک دوسرے کی حمات کی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ باہمی خطرات اور مفادات کے تناظر میں دوطرفہ تعلقات تناؤ اور تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ 

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button