بلوچ مظاہرین سے وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے مذاکرات جاری: سیکریٹری داخلہ

پاکستان کے وفاقی سیکریٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی نے اتوار کو کہا ہے کہ اسلام آباد میں ’بلوچ یکجہتی کمیٹی‘ کے دھرنے میں شامل مظاہرین سے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے مذاکرات جاری ہیں۔
وفاقی سیکریٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پر امن احتجاج کا ہر پاکستانی شہری کو حق حاصل ہے اور نگران وزیر اعظم کی ہدایت پر اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ مظاہرین کو کسی بھی قسم کے تشدد یا ہراسگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے گی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔‘
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ’جبری گمشدگیوں‘ اور ’ماورائے عدالت قتل‘ کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
بلوچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی علاقائی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ کی قیادت کرنے والی ماہ رنگ بلوچ نے ہفتے کو کہا تھا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ورکنگ کمیٹی غیر جانبدارانہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ماہ رنگ بلوچ نے دھرنے کے مقام پر ہفتے کو انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ تحریک بالاچ بلوچ کے قتل سے شروع ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس مارچ کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ جب ایک پرامن موومنٹ شروع ہوئی تو ریاست نے شرکا کو روکنے کے لیے کیا نہیں کیا۔‘
23 نومبر 2023 کو بلوچستان سے شروع ہونے والے اس احتجاج کو، جو اس وقت نیشنل پریس کلب کے باہر جاری ہے، اب 30 روز گزر چکے ہیں۔
پاکستان کے نگران وزیر اعظمانوار الحق کاکڑ نے گذشتہ روز ہم نیوز ٹی وی کو دیے جانے والے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہر کو احتجاج کا حق ہے اور بلوچ مظاہرین کو احتجاج کرنے سے کسی نے نہیں روکا تھا البتہ ان کے مطالبات صوبائی نوعیت کے ہیں۔ میں نے اس پر ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بے شک وہ (مظاہرین) اسلام آباد پریس کلب آئین لیکن روڈز بلاک نہ ہوں۔ ہم ان کے جائز مطالبات کو تسلیم بھی کریں گے اور ان کو حل کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔‘
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

.jpg?itok=bJX3-8R8&w=390&resize=390,220&ssl=1)


