اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے دباؤ کا سامنا

اسرائیل پر غزہ میں سات اکتوبر 2023 سے جاری جارحیت میں چار دن کے وقفے میں مزید توسیع کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے لیکن تل ابیب میں فوجی حکام کو خدشہ ہے کہ طویل فائر بندی سے حماس کو ’کچلنے‘ کی کوششیں دم توڑ دیں گی۔
چار روزہ فائر بندی کے دوران تیسرے مرحلے میں مزید 13 اسرائیلی قیدیوں کو 39 فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا گیا ہے۔
قطر، امریکہ اور مصر کی کوششوں اور ثالثی کے بعد اس فائر بندی کے دوران مجموعی طور پر 15 غیر ملکیوں کو بھی رہا کیا گیا ہے جو کہ سات ہفتوں کی مسلسل جنگ کے بعد پہلی بڑی پیش رفت تھی۔
اس معاہدے کے تحت حماس کی قید میں تقریباً 240 میں سے 50 اسرائیلیوں کو 150 فلسطینی قیدیوں کے بدلے چار دنوں میں رہا کر دیا جائے گا۔ اس عمل کو طول دینے کے لیے ایک توسیعی طریقہ کار بھی ہے جس کے تحت ہر روز کم از کم 10 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توسیعی طریقہ کار سے قیدیوں کی واپسی کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور ایسا کرنے کے لیے اسرائیل پر داخلی دباؤ بھی ہے لیکن یہ حماس کے لیے بھی اپنی دوبارہ صف بندی اور تیاری کے لیے ایک موقع ہو گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب بین الاقوامی برادری کی طرف سے اسرائیل پر سفارتی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے جو غزہ پر مسلسل گولہ باری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر پہلے ہی اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
کنگز کالج لندن کے اینڈریاس کریگ نے فائر بندی کی ممکنہ توسیع کے بارے میں کہا کہ ’وقت ہمیشہ کی طرح اسرائیل کے خلاف اور اس کی فوج کے خلاف جائے گا۔‘
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’ایک طرف آپ تمام قیدیوں کو یہ جانتے ہوئے بھی نکالنا چاہتے ہیں کہ آپ انہیں فوجی طور پر نہیں نکال سکتے اور دوسری طرف آپ اس جنگ کی رفتار کو مکمل طور پر کھونا نہیں چاہتے۔‘
انہوں نے کہا کہ فائر بندی جتنی دیر تک جاری رہے گی، جنگ جاری رہنے سے عالمی برادری کا صبر اتنا ہی زیادہ ختم ہو جائے گا۔
لیکن اسرائیلی فوج حماس کو ’کچلنے‘ کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ہفتہ کو تباہی سے دوچار غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے اصرار کیا کہ جنگ بندی کی ٹائم لائن ’مختصر‘ ہے۔
انہوں نے کہا: ’اس (فائر بندی) میں ہفتے نہیں لگیں گے، اس میں کم و بیش دن لگیں گے۔ مزید کوئی بھی بات چیت بمباری کے سائے تلے ہوگی۔‘
اسرائیل پہلے ہی اپنی جارحیت پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کر چکا ہے جس میں کم از کم 15 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے گئے ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ایرک روڈنٹسکی نے کہا: ’فائر بندی میں توسیع کے حوالے سے اصل دباؤ اسرائیل کے اندر سے آ رہا ہے۔ یہ دباؤ قیدیوں کے خاندانوں کی جانب سے ہے۔‘
ہفتے کو دسیوں ہزار مظاہرین نے تل ابیب کی سڑکوں پر جمع ہو کر قیدیوں کو نکالنے کے حق میں نعرے لگائے۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا کہ ملک زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن انہیں خدشہ ہے کہ فائر بندی جتنی طویل ہوگی حماس کو ’اپنی طاقت کو دوبارہ جمع کرنے اور اسرائیل پر دوبارہ حملہ کرنے کا وقت ملے گا۔‘
لڑائی میں وقفے کے لیے ہونے والی بات چیت میں سرکردہ ثالث قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اے ایف پی کو بتایا کہ دیرپا فائر بندی کے لیے ’رفتار کو برقرار رکھنے‘ کی ضرورت ہے۔
قطری ترجمان نے کہا کہ یہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب اسرائیلیوں اور فلسطینیوں بلکہ دوسرے شراکت داروں کے کے پاس بھی سیاسی عزم ہو۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی جمعے کو کہا تھا کہ فائر بندی میں توسیع کے ’امکانات حقیقی‘ ہیں کیوں کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے ساتھ دو ریاستی حل کے حصول کے لیے وسیع تر کوششوں پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب حماس کے سینیئر اہلکار طاہر النونو نے کہا کہ گروپ نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہے لیکن حماس نے ہفتے کے روز اسرائیل پر معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے قیدیوں کے دوسرے گروپ کی حوالگی میں کئی گھنٹوں کی تاخیر کی تھی۔
اسرائیل کے سابق انٹیلی جنس اہلکار ایوی میلمڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس قیدیوں کے ساتھ لمبا کھیل کھیلے گی تاکہ اس کارڈ کو زیادہ سے زیادہ وقت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔




