خبریں

روس: ’اسرائیل سے آنے والی پرواز کی تلاش‘ مظاہرین رن وے میں داخل


سینکڑوں مظاہرین روس کے ایک ہوائی اڈے میں مبینہ طور پر اسرائیل سے آنے والی پرواز کی تلاش میں داخل ہوگئے۔

اتوار کی شام مکھاچکلا ہوائی اڈے کے لینڈنگ فیلڈ اور رن وے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے مظاہرین میں شامل نوجوانوں نے فلسطین کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔

فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ہجوم میں سے کچھ (افراد) پولیس کی گاڑی الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہود مخالف نعرے بازی بھی سنی جا سکتی ہے اور ہجوم میں سے کچھ نے آنے والے مسافروں کے پاسپورٹ بھی چیک کیے۔

روسی میڈیا نے دکھایا ہے کہ ایک گروہ رن وے پر ایک طیارے کے قریب جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مسافر بحفاظت جہاز میں بیٹھے رہے۔

فلائٹ ریڈار 24 فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق طیارے کی دم پر موجود شناختی نمبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل سے آیا تھا۔

شمالی قفقاز کے متعدد علاقوں میں سے ایک داغستان میں حکام نے اس واقعے کی وجہ سے ہوائی اڈے کو بند کر دیا اور پروازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔

روسی ایوی ایشن اتھارٹی روزاویاتشیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 20 منٹ پر ہٹا دیا گیا تھا تاہم صورت حال معمول پر آنے تک ایئرپورٹ بند رہے گا۔

بعد ازاں محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اس واقعے کے دوران تقریباً 20 افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے مجرمانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

دی گارڈین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ گردش کر رہی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ تل ابیب سے پروازیں اتوار کی شام اسرائیل سے آنے والے پناہ گزینوں کو لے کر پہنچیں گی۔

مقامی یہودی برادری کے حکومتی نمائندے اوودیا عیسیٰ کوف نے پوڈیوم نیوز آؤٹ لیٹ کو بتایا ہے کہ ’داغستان میں صورت حال بہت مشکل ہے، کمیونٹی کے لوگ خوفزدہ ہیں، وہ فون کرتے ہیں اور مجھے نہیں پتہ کہ کیا مشورہ دوں۔‘

ان رپورٹس کے بعد اسرائیل نے روسی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلیوں اور یہودیوں کو اپنی حدود میں تحفظ فراہم کریں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقبوضہ بیت المقدس میں وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو میں اسرائیلی سفیر روسی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’اسرائیلی شہریوں اور یہودیوں کو کسی بھی جگہ نقصان پہنچانے کی کوششوں کو اسرائیلی ریاست سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔‘

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل روسی قانون نافذ کرنے والے حکام سے توقع کرتا ہے کہ وہ تمام اسرائیلی شہریوں اور یہودیوں کی حفاظت کریں گے اور فسادیوں اور یہودیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف وحشیانہ اشتعال انگیزی کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے۔‘

غزہ پر اسرائیلی بمباری میں جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے علاقائی داغستانی حکومت نے شہریوں سے پرامن رہنے اور اس طرح کے مظاہروں میں شرکت نہ کرنے کی اپیل کی۔

داغستانی حکومت نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’ہم جمہوریہ کے باشندوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ دنیا کی موجودہ صورت حال میں عقل سے کام لیں۔ وفاقی حکام اور بین الاقوامی تنظیمیں غزہ کے شہریوں کے خلاف جنگ بندی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں- ہم جمہوریہ کے باشندوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ خطرناک گروہوں کی اشتعال انگیزیوں میں نہ آئیں اور معاشرے میں خوف و ہراس پیدا نہ کریں۔‘

داغستان کے سپریم مفتی شیخ احمد آفندی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہوائی اڈے پر بدامنی بند کریں۔

انہوں نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’آپ غلطی کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کو ایسے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم آپ کے غصے کو بہت تکلیف دہ انداز میں سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ ہم اس مسئلے کو مختلف طریقے سے حل کریں گے۔ ریلیوں کے ساتھ نہیں، بلکہ مناسب طریقے سے۔‘





Source link

Author

Related Articles

Back to top button