خبریں

اسلام آباد انتظامیہ نے غزہ ریلی کی تیاریوں سے روک دیا: جماعت اسلامی


جماعت اسلامی نے الزام لگایا ہے کہ اسے اتوار کو اسلام آباد میں غزہ کے حق میں ریلی کی تیاریوں سے روک دیا گیا ہے۔

ترجمان جماعت اسلامی راشد اولاکھ نے ہفتے کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ وہ اتوار کو بڑا مارچ کرنا چاہتے تھے جس کے انتظامات کے لیے آج جماعت کے ضلعی امیر اور کارکنوں نے تیاریوں کا آغاز کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پنڈال میں کرسیاں اور دیگر سامان لے کر پہنچے تو انتظامیہ نے دھاوا بول دیا۔

تاہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے بتایا کہ انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو ریلی کے انعقاد کی اجازت نہیں دی۔

راشد اولاکھ نے کہا: ’پولیس نے جماعت اسلامی کے ضلعی امیر ناصر رندھاوا، نائب امیر طاہر فاروق، کاشف چوہدری اور 10 سے زیادہ کارکنان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا اور نہ صرف ہمارا کیمپ اکھاڑ دیا گیا بلکہ سامان ضبط کر کے پولیس ساتھ لے گئی۔‘

انہوں نے پولیس کی مبینہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’جماعت اسلامی غزہ کے ساتھ بطور پاکستانی کھڑی ہونے والی واحد جماعت ہے اور اسرائیل کے ظلم اور فسطائیت پر مسلسل آواز اٹھا رہی ہے۔‘

انہوں نے جماعت اسلامی کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نگران حکومت اس مارچ کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ہفتے کو اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر غزہ مارچ کی تیاریاں روکنے اور جماعت کے اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا اور تاجر رہنما کاشف چوہدری کی مبینہ گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’نگران حکومت اور ادارے کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’امریکہ کے بعد کیا اب اسرائیل نوازی بھی ان کے لیے کوئی قابل شرم بات نہیں رہی؟ کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔‘

اسلام آباد پولیس نے اس معاملے پر کہا ہے کہ کسی سیاسی تنظیم یا کسی دوسرے کو شہر میں سڑک اور راستے بند کرنے کی اجازت نہیں۔ 

ترجمان اسلام آباد پولیس تقی جواد نے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے بیان میں کہا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے شہر میں جلسے جلوس کی اجازت نہیں اور پر امن احتجاج کا انعقاد باقاعدہ اجازت کے بعد ممکن ہے۔ 

’اظہار رائے اور پر امن احتجاج کے لیے مناسب وقت اور مقام کا تعین کیا جائے تاکہ عوام کے لیے مشکلاتکا باعث نہ بنے۔ ذمہ دار تنظیمی عہدے داران کو ہدایت ہے کہ پولیس سے رابطہ کریں تاکہ عوامی آمدورفت میں خلل نہ پڑے۔‘

اسلام آباد پولیس نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا: ’سری نگر ہائی وے بین الصوبائی رابطہ شاہراہ ہے، راستے مسدود کرنے سے عوام کےلیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ پر امن احتجاج کے لیے مروجہ طریقہ اختیار کریں اور پولیس سے رابطہ کریں۔‘





Source link

Author

Related Articles

Back to top button