خبریں

70 کی دہائی میں کراچی پرامن مرکز تھا، پاکستان میں بچپن گزارنے والے عرب صحافی


خالد المعینا عرب صحافت کا معروف نام ہے۔ اپنے 25 سالہ صحافتی سفر میں وہ عرب نیوز اور سعودی گزٹ جیسے معروف جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ الشرق الاوسط اور البلاد سے بھی منسلک رہے ہیں۔

1954 میں پیدا ہونے والے خالد المعینا کی برصغیر پاک و ہند کے امور پر پر گہری نگاہ ہے۔ انہوں نے اپنی تعلیم امریکہ، برطانیہ اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں حاصل کی۔

انہوں نے کراچی کے سینٹ پیٹرک کالج میں تعلیم حاصل کی اور جامعہ کراچی سے صحافت میں ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں عرب نیوز کے مدیر کی حیثیت سے بھی وہ پاکستان آتے رہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے جانے والے انٹرویو مین خالد المعینا نے پاکستان میں اپنے کے قیام کی یادیں شیئر کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی اور اپنے طویل صحافتی تجربے کی بنیاد پر عالمی صحافت کو درپیش چیلنجوں پر بھی بات کی۔ ان دنوں وہ متعدد کتابوں پر کام کر رہے ہیں۔

70 کی دہائی میں کراچی کا پرامن، صاف اور ادبی ماحول

خالد المعینا نے اپنے زمانہ طالب علمی کا ذکر کیا اور بتایا کہ کراچی اس وقت پر امن، صاف ستھرا اور علمی و ادبی شہر تھا۔ ’ہم کراچی کے ایک علاقے سے دوسرے تک سائیکل پر بلاخوف و خطر جایا کرتے تھے۔ شاذ ونادر ہی کسی واردات کے متعلق سنتے تھے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں مختلف آرا اور پس منظر رکھنے والے لوگ پرامن طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی کا ماحول سنجیدہ اور علمی تھا، اختلاف رائے کے باجود احترام کا عنصر موجود تھا اور فرقہ واریت اور نسل پرستی کا وجود نہیں تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب میں ترقی کا دور

خالد المعینا نے سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ہونے والی ترقی کو انقلاب کا نام دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں گذشتہ چار دہائیوں میں اتنا کام نہیں ہوا جتنا گذشتہ پانچ سالوں میں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد نے سعودی نوجوانوں کو وہ قیادت فراہم کی جس سے پورا معاشرہ متحرک ہو گیا ہے۔ ’خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت سے لے کر ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے تک، ہر اقدام سے عام سعودی شہری کی زندگی مزید بہتر اور آسان ہو گئی ہے۔‘

پاک سعودی تعلقات کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اب دو طرفہ تعلقات کی بنیاد تاریخی نہیں بلکہ معاشی روابط پر ہو گی اس لیے دونوں ممالک کو اپنے تجارتی تعلقات بڑھانے چاہییں۔

صحافی حقائق جانچنا

اپنے صحافتی تجربے کی بنیاد پر خالد المعینا نے نوجوان صحافیوں کے لیے کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر خبر دیں اور اپنی رپورٹنگ کے ذریعے مثبت افکار کو فروغ دیں۔

انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کے زمانے میں خبریں ذمہ داری کے ساتھ شائع کی جاتی تھی اس ڈر کے ساتھ کہ اگر خبر غلط ثابت ہوئی تو قارئین صحافی کا محاسبہ کریں گے، مگر جدید ذرائع ابلاغ پر اس احساس ذمہ داری کا فقدان ہے۔

حکومت پاکستان نے 2008 میں خالد المعینا کو ملک کے تیسرے سب سے بڑے سول ایوارڈ ستارہ پاکستان سے نوازا تھا۔

المعینا نے اپنے کیریئر کا آغاز 1972 میں سعودی عرب ایئرلائنز (سعودیہ) میں انٹرن کی حیثیت سے کیا۔ انہوں نے ایئر لائن میں متعدد عہدوں پر کام کیا جن میں سعودی ورلڈ میگزین کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔

1982 میں وہ عرب نیوز کے ایڈیٹر انچیف بنے۔ وہ ان چار صحافیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے 1990 میں سعودی عرب اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی کوریج کی۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button