خبریں

امریکہ میں پراسرار مخلوق ’بگ فٹ‘ کی مبینہ ویڈیو سامنے آ گئی


امریکی ریاست کولوراڈو کے دیہی علاقے میں ریل گاڑی میں سوار ایک جوڑے نے پہاڑوں کے درمیان سے گزرنے والی  پراسرار مخلوق کی فوٹیج آن لائن پوسٹ کر کے ’بِگ فٹ‘ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو جوش میں مبتلا کر دیا ہے۔

بہت سے لوگوں نے قیاس آرائی کی ہے کہ اس پراسرار مخلوق کا وجود حقیقت ہو سکتا ہے۔

شینن پارکر اور سٹیٹسن ٹائلر، ڈیورانگو سے سلورٹن جانے والی چھوٹی پٹڑی والی ٹرین پر سفر کر رہے تھے کہ انہوں نے پہاڑوں کے قریب کسی کو حرکت کرتے دیکھا تو ان کی نظروں نے ’بگ فٹ کو تلاش کرنا‘ شروع کر دیا۔

ایک ساتھی مسافر کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بڑی دو پیروں والی مخلوق پہاڑی درے سے گزر رہی ہے جو بعد میں رک کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتی ہے۔

شینن پارکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر لکھا کہ ’سلورٹن سے روانگی اور ڈورانگو واپس جاتے ہوئے میں نے سٹیٹسن سے پہاڑوں میں پراسرار مخلوق کی تلاش میں اپنی مدد کرنے کے لیے کہا۔ جب ہم پہاڑوں سے گزر رہے تھے تو سٹیٹسن نے کسی چیز حرکت کرتے ہوئے دیکھا اور کہا کہ مجھے لگتا ہے یہ بگ فٹ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’ٹرین میں سٹیٹسن کے بغل میں بیٹھے لڑکے برینڈن نے ان کا فون لے کر ریکارڈنگ شروع کر دی۔ ٹرین میں موجود سینکڑوں لوگوں میں سے ہم تین یا چار لوگوں نے درحقیقت وہ مخلوق دیکھی جب کہ ویڈیو میں سٹیٹسن کہتے ہیں کہ یہ پراسرار بگ فٹ ہے!

’میں آپ سب کے بارے میں تو نہیں جانتا لیکن ہم ہمارا ماننا ہے کہ (بگ فٹ موجود ہے۔)‘

بعد ازاں پارکر نے اخبار نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ اس ’مخلوق کا قد کم از کم چھ، سات فٹ یا اس سے بھی زیادہ‘ تھا اور اس کا حلیہ پہاڑی سادھو جیسا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرین کے کنڈکٹر نے جوڑے کو اسی طرح نظر آنے والی غیر انسانی مخلوق کے بارے میں بتایا۔

پارکر کے مطابق: ’انہوں (کنڈکٹر) نے کہا کہ اس سے قبل وہ ان پہاڑوں پر پڑی برف پر چلنے کے لیے گئے اور انہیں وہاں قدموں کے نشانات دکھائی دیے جو برفانی جوتوں سے زیادہ بڑے تھے اور قدموں کا درمیان فاصلہ کہیں زیادہ تھا۔ انہوں نے ناقابل وضاحت چیزیں بھی دیکھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیس بک پر پارکر کی پوسٹ پر ملے جلا رد عمل سامنے آیا۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی بگ فٹ کے وجود کو ’مانتے‘ رکھتے ہیں۔ دوسرے صارفین شکوک وشبہات کا اظہار کیا۔

ریزرو ملٹری فورس نیشنل گارڈ کے مطابق بگ فٹ کی کہانیاں لکھی ہوئی تاریخ سے آگے کی ہیں اور ان کا تعلق دنیا بھر سے ہے جن میں ’جسم پر بالوں سے بھرے سات فٹ کے مردوں کی کہانیاں شامل ہیں جو جنگل میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں کبھی کبھار کیمپنگ کرنے، درخت کاٹنے اور ہائیکنگ کرنے والوں کو ڈراتے ہیں۔‘

1800 کی صدی کے اواخر اور 1900 کے شروع میں شمالی امریکی آباد کاروں نے اس مخلوق کو دیکھنے کے بارے میں بتایا جسے دیگر ثقافتوں میں ’ساسکویچ‘ یا ’ویٹیکو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس طرح کی مخلوق کے مبینہ قدموں کے نشانات، لوگوں کا انہیں دیکھنا اور یہاں تک کہ کچھ غیر معیاری تصاویر بھی اس ضمن میں افسانے کو ہوا دے رہی ہیں اگرچہ اس حوالے سے بحث اور تحقیق جاری ہے۔

آج کل بگ فٹ پر تحقیق کرنے اور اس کا وجود ثابت کرنے لیے پوری تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ اس کام کے لیے وقف شدہ گروہ اس ضمن میں حتمی ثبوت پانے کے لیے باقاعدگی سے شمال مغربی جنگلوں میں اسے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button