غزل
غزل / جواز ہوتے ہوئے بھی وہ در نہیں چھوڑا / حارث بلال
غزل
جواز ہوتے ہوئے بھی وہ در نہیں چھوڑا
شجر سے ٹوٹے ہوؤں نے شجر نہیں چھوڑا
ستارگی میں سہے ہیں ہزار شمس و قمر
ترے افق پہ چمکنا مگر نہیں چھوڑا
فقط زمانوں کی سمتیں بنا کے آتے ہیں
بہت دنوں کے لیے ہم نے گھر نہیں چھوڑا
اس احتیاط سے ان کی گلی سے گزرا ہوں
کسی بھی چیز پہ کوئی اثر نہیں چھوڑا
بس آگیا تھا یونہی خود پہ اعتبار اک دن
وہ ہاتھ میں نے بہت سوچ کر نہیں چھوڑا
درخت کٹتے ہی دریا میں بہہ گئے حارث
فنا ہوئے بھی تو ہم نے سفر نہیں چھوڑا



