اُردو ادباُردو شاعرینظم

چُپ گلی میں سسکیوں کی بازگشت / عادل وِرد

چُپ گلی میں سسکیوں کی بازگشت

‎ سفید اور سرخ ساڑھیوں میں لپٹی لڑکیو!

‎ سن لو

‎مقدس راتوں کی تاریخوں میں

‎ملاوٹ کر دی گئی ہے

‎تمہاری مومی دعائیں،

‎ پہلے اسمان سے ہی واپس پلٹا دی گئی ہیں

‎تمہیں مسافروں، سپاہیوں اور شاعروں سے محبت کا مشورہ

‎ضرور کسی پاگل نے دیا ہوگا

‎ بانجھ برگد پہ رنگین دھاگے

‎وقت کی بارشوں سے بے رنگ ہو جائیں گے

‎اپنی ہتھیلیوں سے

‎کتھئی سورج کھرچ ڈالو

‎جو روز تمہیں شام ڈھل جانے کا دھوکہ دیتا ہے

‎اس اندھے انتظار میں محبت کی شمعیں

‎کب تک روشن کرتی رہو گی

‎اٹھو، وقت کی کترن سے

‎خوشی کی پوٹلیاں سی لو 

‎زندگی کی پگڈنڈی کی دو اطراف

‎جو سرسبز کھیت نظر اتے ہیں

‎( تمہاری قسم)

‎سراب نہیں ہیں

‎ اس سے پہلے

‎کہ محبت کرنا بھی، 

‎نئے قانون کی زد میں اجائے

‎ اپنے گھر بساؤ

‎دستیاب کو عادت بناؤ

‎ہنستے ہوئے رونے کی بھڑاس نکالو

‎خوابوں سے لذت کی بھیک لو

‎ اور بچوں کو محبت کی کہانیاں سنانے سے گریز کرو

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x