ترکیہ اور پاکستان دو دل ایک دھڑکن / بصیرت فاطمہ
دو بھائیوں کی محبت اور حسد میں جلتا بھارت

جب بھی امتِ مسلمہ کی وحدت اور اخوت کی بات ہوتی ہے تو پاکستان اور ترکی کی مثال ضرور دی جاتی ہے۔ یہ دو ممالک محض جغرافیائی حدود کے نام نہیں بلکہ دو ایسے دل ہیں جو ایک ہی دھڑکن پر دھڑکتے ہیں۔ ان کی دوستی نہ مفادات پر مبنی ہے نہ وقتی مصلحتوں پر، بلکہ ایک ایسے رشتے کی عکاسی کرتی ہے جس کی بنیاد محبت، قربانی، اور تاریخ میں پیوست ہے۔
ترک قوم سے برصغیر کے مسلمانوں کی محبت کوئی نئی بات نہیں۔ خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے خلاف جب تحریک خلافت کا آغاز ہوا تو برصغیر کے علماء، عوام، حتیٰ کہ خواتین تک نے ترکوں کے لیے قربانیاں دیں۔ بیگمات نے اپنے زیور بیچ کر عثمانی خلافت کے تحفظ کے لیے چندہ دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کے دل ترکوں کے لیے دھڑکتے تھے۔ ان جذبوں کی صداقت کا اعتراف ترک قوم نے نہ صرف اُس وقت کیا بلکہ آج تک اسے دل سے یاد رکھا ہے۔ یہ سب لکھتے میرا دل ترک قوم کے لیے محبت اور نرمی سے بھر گیا۔ یہ محبت مجھے سکھائی تو نہیں گئی۔ یہ محبت ہے جو پاکستان اور ترکیہ کی عوام کے خون میں شامل ہے اور نسل در نسل منتقل ہوگی۔
قیامِ پاکستان کے بعد ترکی ان چند اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ہر قدم پر ساتھ نبھایا۔ دونوں اقوام نے سفارتی تعلقات سے بڑھ کر ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا رشتہ قائم کیا۔ ہر قدرتی آفت، ہر مشکل گھڑی میں ترک بھائی سب سے پہلے مدد کو پہنچے۔ 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب میں ترک عوام اور حکومت نے جو فراخدلانہ امداد کی، وہ پاکستانی قوم کبھی نہیں بھلا سکتی۔
ترکی نے پاکستان کے تعلیمی، صنعتی، اور دفاعی شعبے میں بے شمار خدمات انجام دی ہیں۔ لاہور کی سڑکوں پر چلنے والی میٹرو بس ہو، یا ترکی کی تعمیراتی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری، ہر شعبہ اس دوستی کا گواہ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا مؤقف بے باکی سے بیان کیا، اور اسلامو فوبیا کے خلاف مشترکہ آواز اٹھانے کی تجویز دی۔
یہ ہی وہ بات ہے جو بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ بھارت، جو خطے میں اپنے آپ کو واحد طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے، ترکی کے مسلم دنیا میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور پاکستان سے محبت کو برداشت نہیں کر پا رہا۔ ترکی کے کشمیر پر واضح مؤقف، اور بھارتی مظالم کی مذمت دہلی کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دیتی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت نے ترکی کے خلاف سفارتی محاذ پر محاذ آرائی تیز کر دی ہے، یہاں تک کہ ترک مصنوعات کے بائیکاٹ اور سفارتی سطح پر سرد مہری اختیار کی جا رہی ہے۔

ترکی نے نہ صرف کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی بلکہ فلسطینیوں، روہنگیا مسلمانوں اور شام کے مظلوموں کے لیے بھی عالمی فورمز پر جرات مندانہ مؤقف اپنایا۔ یہی وہ اصولی سیاست ہے جو ترکی کو مسلم دنیا کا قابلِ اعتماد لیڈر بناتی ہے اور بھارت جیسے ہندوتوا نظریے کے حامل ممالک کو چبھتی ہے۔
پاکستان اور ترکی کی دوستی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے جسے وقت کے ساتھ مزید مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی بساط پر مسلم اُمہ کی بقا اور ترقی کے لیے ایسے اتحاد ناگزیر ہو چکے ہیں جو خلوص اور باہمی اعتماد پر مبنی ہوں۔ ترک قوم کی محبت، ان کا خلوص، اور پاکستان کے لیے ان کا جذباتی رشتہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے، اور دشمنوں کے لیے ہمیشہ ایک ناقابلِ برداشت حقیقت۔




