غزل
غزل | اک مسلسل تهكن محبت ہے | ساجد رحیم

غزل
اک مسلسل تهكن محبت ہے
پھر بھی میرا چلن محبت ہے
خوب پہچانتا ہے دستک کو
کہہ رہا ہے بدن ، محبت ہے
وہ کسی اور کا نہیں ہو گا
یہ نہیں حسنِ ظن ،محبت ہے
ہم نے چارہ گری میں یہ سیکھا
زخم کا پیرہن محبت ہے
مجھ میں کچھ خاص تو نہیں ایسا
اس کو بس عادتاً محبت ہے
چھوڑ مڑ کر نہ دیکھ ! جانے دے
یار پاگل نہ بن ! محبت ہے




