غزل
غزل/سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں/عرفان صادق

غزل
عرفان صادق
مسخ مسخ دیکھی ہیں صورتیں چراغوں کی
کس قدر ہیں ترشیدہ مورتیں چراغوں کی
سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں
جب سے ہم نے دیکھی ہیں میتیں چراغوں کی
راستے بدلنے میں عافیت سمجتی ہیں
جب ہوا پہ کھلتی ہیں سیرتیں چراغوں کی
اس لیے جلا ہوں میں آندھیوں کی آنکھوں میں
یاد ہیں مجھے ساری آیتیں چراغوں کی
اس کے گھر کی چوکھٹ پر تیرگی نہیں ہوتی
جو بھی آ کے کرتا ہے بیعتیں چراغوں کی
ہر گھڑی ہواوں کی زد پہ ہم کو رہنا ہے
اس لیے گرہ میں ہیں نسبتیں چراغوں کی




