سعدیہ قریشی اور ہیلنگ کیٹل / رپورٹ : سیدہ عطرت بتول نقوی

سعدیہ قریشی نے ‘The Healing Kettle‘ کے علامتی نام سے اپنے گھر پر ایک خوبصورت نشست کا اہتمام کیا، جس میں ان کی روزنامہ ‘جنگ’ کی صحافی دوستوں نے شرکت کی۔ سعدیہ قریشی نے کم عمری میں ہی شعبہ صحافت میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔ روزنامہ ‘جنگ’ میں ان کے کالم بہت پسند کیے جاتے ہیں، جن میں ادبی چاشنی اور شاندار اسلوب ہوتا ہے۔ روزنامہ ‘نائنٹی ٹو’ اور ‘دنیا’ سمیت انہوں نے جہاں بھی لکھا، ان کے کالموں کو بے حد پذیرائی ملی۔ وہ سوشل ایشوز اور ملکی مسائل سمیت ہر موضوع پر لگی لپٹی رکھے بغیر بے لاگ رائے دیتی ہیں اور مظلوم طبقات کے لیے بھی انہوں نے ہمیشہ بے خوف و خطر لکھا ہے۔
ان کے گھر ‘The Healing Kettle’ کے حوالے سے منعقدہ اس پہلی نشست میں ان کی وہ سہیلیاں شامل تھیں جن سے روزنامہ ‘جنگ’ میں کام کے دوران دوستی ہوئی اور جنہوں نے وہاں اکٹھے کام کیا۔ ان میں سینئر صحافی فرح وڑائچ، فرح ہاشمی، نومانہ چوہدری، خالدہ انور اور سعدیہ صلاح الدین شامل تھیں۔ میرا تعلق بھی سعدیہ سے روزنامہ ‘جنگ’ کی وساطت سے قائم ہوا تھا اور یہ تعلق بہت پرانا اور مضبوط ہے، اسی لیے میں بھی اس خوبصورت نشست کے شرکاء میں شامل تھی۔
اس محفل میں سلمہ آپا اور کنول بہزاد بھی تشریف لائی تھیں۔ The Healing Kettle کا آئیڈیا بہت خوب تھا؛ ‘A Cup for Your Soul’واقعی ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔ چائے کے ساتھ دل کی باتیں اور کتھارسس، یہ سعدیہ کا ایک اچھوتا خیال ہے جسے انہوں نے بہت خوبصورت رنگ دیا۔ خوبصورت کیتلیوں میں سجے تازہ پھول، بے حد نفاست، سلیقے اور آرٹسٹک انداز سے کی گئی ڈیکوریشن کی ہر چیز بہت اسٹائلش تھی۔
اس پُرسکون ماحول میں پُرتکلف چائے کے ساتھ تمام لوازمات لذیذ اور گھر کے بنے ہوئے تھے۔ بارش کی وجہ سے سلمہ آپا جیسی سینئر ادیبہ اور شفیق ہستی کے آنے کی امید نہیں تھی، لیکن ان کی غیر متوقع آمد سے خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سب بہت خوش ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ ایک بہت مزیدار سویٹ ڈش بھی لائی تھیں۔
سعدیہ کی میزبانی بہترین تھی۔ ہم خیال ‘سول میٹ’ دوست، گرم چائے کا بھاپ اڑاتا کپ اور دل کی باتیں؛ دنیا میں انسان کو اور کیا چاہیے؟ دنیا کی مادیت سے دور، سطحی پن اور بناوٹ سے ماورا ایک الگ دنیا ہونی چاہیے۔ بہت شکریہ سعدیہ! اس تخلیقی سوچ اور شاندار محفل کے لیے۔
**تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی**




