
زیتون اور ناریل کے درختوں سے ہوا یوں ٹکراتی گزر رہی تھی جیسے ھمس الظّلال یعنی سایوں کی سرگوشی،اغنیتہ الشجر، یعنی درختوں کے گیتوں میں ڈھل رہی ہو۔ انہیں درختوں کے سائے میں دو کم عمر بچے قسام اور زین کھڑے مسکراتی نظروں سے ان دو نیلی چڑیاؤں کو دیکھ رہے تھے جو چہچہاتی ہوئی ان کی طرف آرہی تھیں۔ قریب آ کر وہ ان دونوں کے کندھوں پر نفاست سے پڑے سفید مفلر پر بیٹھ گئیں۔ اسی لمحے کان پھاڑ دینے والا دھماکہ سنائی دیتا ہے۔ رقیہ بدحواس کر آنکھیں کھول دیتی ہے۔ آہ۔۔۔۔۔ سپنا ختم ہو چکا تھا۔ الحمراء کے محلوں جیسی گلیاں تھیں جو اب غرناطہ کے اجڑے تباہ شدہ ماضی کا نقشہ کھینچ رہی تھیں۔ ریت کا ایک بے کنار سمندر،مٹی کے گھڑے، خشک کھجوروں کے گچّھے، بکریوں کے گلے میں بجتی ہوئی گھنٹیاں، چھوٹے چھوٹے صحن اور ان میں بنے مٹی کے چولہے اور تازہ آٹے اور جلتی لکڑی کی خوشبو۔۔ آہ ۔۔۔۔سب کچھ فنا ہو کے بھی ایک عظمتِ رفتہ پکار پکار کے کہہ رہی تھی: "گھوڑے، رات اور صحرا مجھے پہچانتے ہیں۔
اور تلوار نیزہ, کاغذ اور قلم بھی( المتنبی )
وہ اپنے گھر کے سامنے دل پر ہاتھ رکھے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ تباہ شدہ گھر، ٹوٹی دیواریں، اڑتی مٹی اور اس میں سانس لیتی یادوں کا زخمی ڈھانچہ۔۔ اس کی آنکھوں سے لہو گرانے لگا ۔اس کا شوہر ربیع ایک عرب مجاہد تھا۔ چند سال پہلے کفر و حق کے معرکے میں جامِ شہادت نوش کر چکا تھا۔
یادوں کے قافلے چلتے رہے اور وہ ماتم کرتی رہی۔ اچانک اس کے کندھوں پر کسی ہاتھ کا لمس آ ٹھہرا۔ اس نے لہو برساتی آنکھیں اٹھائیں تو سامنے اس کی پڑوسن ہاجرہ کھڑی تھی۔ وہ فوراً اٹھی۔ اس سے لپٹ گئی۔ ہاجرہ اسے اپنے گھر لے آئی ۔جہاں کا نقشہ اس کے گھر سے کچھ مختلف نہ تھا۔
ہاجرہ نے اس کے ہاتھ میں قہوے کی پیالی پکڑائی تو اس سے اٹھتی خوشبو نے ایک بار پھر یادوں کے رنگ بکھیر دیے۔ کچھ دیر کے بعد رقیہ بوجھل قدموں کے ساتھ گھر سے دور نکل آئی۔ اسے ہر حال میں اپنے بچوں کو ڈھونڈنا تھا ۔ وہ ایک ٹوٹے ہوئے گھر کے سامنے پہنچ کر رک گئی۔ وہاں چند عورتیں جمع ہو رہی تھیں۔ کسی کے پاس آٹا تھا تو کسی کے پاس خشک کھجوریں، کوئی تھوڑا سا اناج لا رہی تھی۔ ایک عورت لکڑیاں سلگا رہی تھی۔ مٹی کا چولہا جب دہک اٹھا تو ایک بڑے برتن میں پانی ڈال کر اس میں ساری چیزوں کو پکنے کے لیے ڈال دیا۔ اب چولہے پر رکھے برتن میں شوربہ ابلنے لگا۔ پتہ نہیں زین اور قسام نے کچھ کھایا ہوگا؟؟ مجھے انہیں ڈھونڈنا چاہیے۔ ایک عورت نے اسے پیالے میں گرم گرم مشروب لا کر دیا۔ اچانک ایک طرف سے شورسا اٹھا۔ سب کی نگاہیں اٹھ گئیں ۔چند بچے کپڑے کی مدد سے علامتی بم بنا کر جنازے کی صورت میں اٹھا کر لا رہے تھے۔ پھر سب نے مل کر گڑھا کھودا اور اس میں بم کو ڈال کر قبر بنا دی۔ اس منظر کو دیکھ کر اور بچوں کی ہتھیاروں سے نفرت کو محسوس کر کے ہر طرف تالیوں کا شور گونجنے لگا۔ بچوں نے دہشت گردی کی قبر بنا کر گویا اپنی فتح کا اعلان کر دیا تھا ۔رات وہ اپنے گھر کے ملبے پر ایک اینٹ کو تکیہ بناۓ تاروں بھرے آسمان کو خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ربیع جب بھی جہاد پر جاتا وہ مولانا رومی کا کلام گنگناتی رہتی،
"سینہ فہم چاک چاک از فراق
تا بگویم شرح درد اشتیاق
یعنی مجھے جدائی سے چھلنی سینہ چاہیے تاکہ میں اپنے شوق ملن کا درد بیان کر سکوں ۔
کوئ آواز سی آئ۔ اس نے گردن ٹیڑھی کر کے دیکھا۔ ایک ننھا سا بے بال وپر چڑیا کا بچہ پھڑپھڑا رہا تھا۔ رقیہ نے لپک کر اسے اٹھا لیا۔ ایکا ایکی اس کے وجود میں خوشی ہلکورے لینے لگی۔ بچے کی چُوں چُوں کو بھی اس کا لمس محسوس کر کے قرار آگیا۔ وہ سارے گھر میں دوڑنے لگی۔ بچے کو کچھ کھلانا تھا۔ آخر ایک طرف اسے اناج کے دو تین دانے نظر آئے جو کہ چیونٹیوں نے وہاں لا کر رکھ دیے تھے۔ اس نے ان دانوں کو اٹھایا، منہ میں ڈال کر نرم کیا پھر بچے کو اپنے منہ سے ہی ذرّہ ذرّہ کر کے کھلانے لگی۔ چڑیا کے بچے کا وجود اس کے اندر مسرت و انبساط کا طاقتور بم بن کر پھٹا۔ اس کے لبوں پہ خود بخود لوری آگئی۔ "سو جاؤ میرے ننّھے، وطن کے ستارے تمہاری آغوش میں ہیں، کل تم نے ایک تیز دھار تلوار کی طرح بڑے ہو کر وطن کی حفاظت کرنی ہے ۔
اندھیرے تو روشنی کے محافظ ہوتے ہیں بارود کی بُو سے لالہ و گل نمو پاتے ہیں۔”
کل ایک انوکھی صبح اس کے منتظر تھی. چڑیا کا بچہ ابھی تک سو رہا تھا۔ اس کا چھوٹا سا مٹکے جیسا پیٹ پھول اور پچک رہا تھا ۔ اس نے جلدی جلدی چند ٹوٹی ہوئی اینٹیں اٹھائیں۔ زمین پر جھلسی ہوئی گھاس رکھی۔ چڑیا کے بچے کو احتیاط سے وہاں لٹایا پھر ایک اینٹ سامنے رکھ کر اس چھوٹے سے آشیانے کو بند کر دیا۔ اس کا ذہن پھرتی سے سوچنے لگا کہ وہ اپنے بچوں کو کیسے ڈھونڈ سکتی ہے؟ سب سے پہلے اس نے ملبہ ہٹانا شروع کیا, اسے وہ باغیچہ بنانا تھا جو تباہی سے پہلے تھا ۔ کافی گھنٹوں کی مشقت کے بعد زمین کا سیاہ چہرہ نظر آنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر آرام کیا۔ خود بھی کھانا کھایا اور چڑیا کے بچے کو بھی دیا جو کہ اب آنکھیں کھولے اپنی مہین سی آواز میں چُوں چُوں کر رہا تھا۔اس نے زمین کی ترائی شروع کی مگر یہ دیکھ کر اس کا دل بیٹھ گیا کہ آگ سے جلی ہوئی زمین پر جتنا پانی وہ ڈالتی جاتی اس میں سے بارود کی بو ابھرتی جاتی مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔
بالآخر چوتھے دن بارود کی بدبو ختم ہوئی۔
جبر سب کچھ مٹا سکتا ہے مگر پتھروں کی دھڑکن اٹل ہوتی ہے۔اس کے اندر ایک نئی توانائی آگئی۔ دوسری طرف اس نے یہ کیا کہ امدادی کیمپوں میں جا جا کے اپنے بچوں کو کھوجتی۔ چڑیا کا بچہ مستقل اس کے ہاتھ میں رہتا۔ اب وہ ذرا بڑا ہو گیا تھا۔ گھر میں بھی اِدھر اُدھر پھدکتا رہتا۔ کہیں سے اس نے اون کے گولے حاصل کیے۔ ان کو ملا کر ایک چھوٹی سی چٹائی بنی پھر کارکنوں کی منت سماجت کر کے لالٹینیں حاصل کیں۔خاص خاص مواقع پر وہ بچوں کے ساتھ مل کر رنگ برنگی اون کی چٹائیوں والے لالٹین اندھیری گذرگاہوں پر رکھتی۔اب بھی اس نے بچوں سے ملنے کی آس میں ایسا ہی کیا۔ اس نے گھر میں کاشت کی ہوئے گندم کی چھوٹی چھوٹی بالیوں کو بیچ کر بہت ساری سفید اور نیلی اون خریدی۔ اب وہ مستقل مزاجی سے سفید مفلر بناتی اور ان پر نیلی چڑیا کشیدہ کرتی۔ دعائیہ انداز میں اس کے دل کی تڑپ ہواؤں میں ڈھل جاتی، "یا رادّ یوسف۔۔ یعقوب رُدَّ علٰی قرۃ عینی”
اے یوسف کو یعقوب سے ملانے والے۔۔ میری آنکھوں کی ٹھنڈک مجھے لوٹا دے”.
اب پناہ گزین کیمپوں میں اس کا انتظار کیا جاتا ۔رمضان آگئے۔
وہ دن کو روزہ رکھتی لالٹینیں اور نیلی چڑیا والے مفلر بانٹتی۔ چڑیا کا بچہ اب بہت شرارتی ہو گیا تھا۔ اکثر وہ کسی کونے کھدرے میں چھپ جاتا۔ وہ بے قراری سے دوڑتی پھرتی پھر اچانک وہ سامنے آ جاتا۔ آج آخری روزہ تھا۔ اجڑی گلیوں میں بھی چہل پہل تھی۔ آج چڑیا کا بچہ بھی بہت خوش تھا۔ صحن میں کونپلوں کی بہار تھی۔ وہ صحن میں لہراتی گندم کی بالیوں کے پاس بیٹھ گئی۔ چڑیا کا بچہ اڑان بھر کے چھت پر جا بیٹھا تھا۔اچانک وہ چہچہانے لگا۔رقیہ دھیمی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی۔چشمِ زدن میں اس نے اڑان بھری اور آسمان کی وسعتوں میں نقطہ بن کر تحلیل ہوگیا۔وہ صدمے سے اپنی جگہ جم کر رہ گئی۔اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتی،اس کے کانوں میں”عصفور ازرق” کے الفاظ چھُو منتر کی طرح ٹکراۓ۔اس کی نگاہوں کے سامنے زین اور قسام اپنے اپنے کندھوں پر نیلی چڑیا والے مفلر سجاۓ اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔





روبینہ بہت عمدہ لکھتی ہیں ۔
منظر نگاری ایسی کہ ہم بھی اس افسانے کا حصہ ہوں ۔
جنگ کی تباہی میں ماں کی امید ، انتظار اور صبر ۔
اپنے دکھ کے باوجود ایک معصوم نحیف چڑیا کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی ۔ یہ امید تھی۔ جو انسان کو کوشش پر اکسائے رکھتی ہے ۔
بنت قمر مفتی