
عید کی آمد کی آہٹ تھی.
فضا میں خوشیوں کے ہلکے ہلکے چراغ جلنے لگے تھے۔ کہیں چہرے مسکراہٹوں سے روشن ہو رہے تھے، تو کہیں اداسی اپنے قدم اور مضبوطی سے جما رہی تھی۔
اداسی…
اگر کسی سبب سے ہو تو وقت کے ساتھ بہہ جاتی ہے، جیسے بارش کے بعد مٹی کی نمی خشک ہو جاتی ہے۔
لیکن جب اداسی بے سبب ہو… تو وہ روح کے کسی اندھیرے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتی ہے—اور پھر وہاں چراغ نہیں جلتے۔
اس کے اندر بھی ایسی ہی ایک اداسی بسی ہوئی تھی…
خاموش، گہری، اور ضدی۔
کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے دنیا بھر کی اداس شاعری اسی کے نام وقف کی گئی ہو۔
ایک شعر اس کے ذہن کے دریچوں پر بار بار دستک دیتا:
میرے گھر کی در و دیوار پر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
وہ اس شعر کو نہیں پڑھتی تھی… وہ اسے جیتی تھی۔
گھر کی دیواروں پر ابھرتی ہوئی سیم اسے یوں لگتی جیسے نمی نہیں، آنسو رس رہے ہوں۔
اکھڑا ہوا پلستر—گویا کسی نے اپنے دکھ کو دیواروں میں سر دے کر دفن کرنے کی کوشش کی ہو۔
آسمان پر بکھرے بادل اسے یوں محسوس ہوتے جیسے کوئی خاموش مجلسِ ماتم سجی ہو، جہاں ہر بادل سر جھکائے بیٹھا ہو۔
اور کوئی آوارہ بادل—
ایسا جیسے کسی اجڑی ہوئی سہاگن کے بکھرے بال، جنہیں ہوا بے رحمی سے الجھا رہی ہو۔
حتیٰ کہ فرش پر گرا ہوا پانی بھی اسے ایک تصویر دکھاتا—
ایک ایسی تصویر، جس میں کوئی چہرہ آسمان کی طرف اٹھا ہوا ہو… اور لبوں پر شکوہ، آنکھوں میں سوال۔
لوگ اسے دیکھتے تو حیران ہوتے—
کبھی وہ آسمان کو یوں تکتی جیسے وہاں کوئی جواب لکھا ہو۔
کبھی دیواروں کے زخموں میں نظریں گاڑ دیتی، جیسے وہی اس کا آئینہ ہوں۔
اور پھر…
بغیر کسی وجہ کے آنکھیں بھیگ جاتیں۔
پوچھا جاتا تو وہ مسکرا کر کہہ دیتی:
“بس… دل اداس ہے۔”
مگر اسے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ اداسی کب اس کے وجود میں اُتری تھی—
شاید اس دن…
جب وہ پہلی بار پانچ برس کی عمر میں عید پر سرخ کانچ کی چوڑیوں کی ضد پر اڑ گئی تھی۔
اور اس کی ماں نے محبت بھرے خوف کے ساتھ کہا تھا:
“اگر گر گئی تو کانچ تمہیں زخمی کر دے گا۔”
چوڑیوں کی جگہ اسے پلاسٹک کی چوڑیاں مل گئیں—
رنگ تو وہی تھا… مگر آواز نہیں تھی۔
اور بعض چیزیں…
صرف دیکھی نہیں جاتیں، سنی بھی جاتی ہیں۔
عید کے دن جب اس نے اپنی سہیلیوں کے ہاتھوں میں کھنکتی ہوئی چوڑیاں دیکھیں تو اس نے معصومیت سے پوچھا تھا:
“کیا یہ سب نہیں گر سکتیں؟”
ماں نے جواب دیا تھا:
“گر سکتی ہیں… زخمی بھی ہو سکتی ہیں…
لیکن فرق یہ ہے کہ ان کی ماؤں کو ڈر نہیں لگتا…
مجھے لگتا ہے…”
وہ ماں کے خوف کے سائے میں پروان چڑھتی رہی—
مگر اس سائے نے روشنی کو راستہ نہیں دیا۔
اور یوں…
ہر نئے خوف نے ایک نئی خواہش کا گلا گھونٹا—
اور وہ انیس برس کی عمر میں خزاں جیسی بہاریں دیکھ چکی تھی۔
اس شام چاند نظر آنے کی امید تھی۔
لوگوں کی نظریں آسمان پر تھیں… اور دل مسجد کے اعلان پر۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
“حوا…! دروازہ دیکھو!”
اپنے نام پر اسے ہمیشہ کوفت ہوتی تھی—
“حوا…”
گویا ایک نام نہیں، ایک الزام ہو۔
وہ دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ ماں کی آواز آئی:
“پہلے دوپٹہ ٹھیک کرو!”
وہ رک گئی—
جیسے زندگی نے ایک بار پھر اسے روک لیا ہو۔
دروازہ کھولا تو سامنے عصمت بوا تھیں—
اور ان کے پیچھے… آدم۔
عصمت بوا بہار کی طرح آتی تھیں،
اور آدم… شاید وہ ہوا تھا جس میں بہار کی خوشبو ہوتی ہے۔
کچھ دیر بعد…
جب وہ برآمدے میں مصروف تھی—
آدم اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
اس کے ہاتھ میں کاغذ میں لپٹی ہوئی کوئی چیز تھی۔
اس نے آہستگی سے وہ اس کی طرف بڑھائی—
شوخ سرخ کانچ کی چوڑیاں۔
ایک لمحہ…
صرف ایک لمحہ کے لیے اس کا دل بچپن بن گیا۔
مگر اگلے ہی لمحے—
وہ پھر بڑی ہو گئی۔
اس نے چوڑیاں لینے سے انکار کر دیا۔
کیوں کہ بعض اوقات…احتیاط کی مٹھی میں قید کئے ہوے امید کے جگنو اڑ جانے کا خوف ہوتا ہے۔اور بہت سارے دوسرے خوف بھی۔۔۔جن میں سر فہرست ہوتا ہے چوٹ لگنے کا خوف۔۔۔۔
چوٹ لگنے کا خوف، خوشی حاصل کرنے کی خواہش سے بڑا ہو جاتا ہے۔
آدم نے اسے پکارا:
“حوا…”
اور پہلی بار۔۔۔
اسے اپنا نام پانی کی طرح شفاف، اور آبشار کی طرح زندہ محسوس ہوا۔
وہ رک گئی…
مگر ٹھہری نہیں۔
کیوں کہ کچھ آوازیں دل تک پہنچتی ہیں،
مگر زندگی تک نہیں۔
“آدم آخری بار آیا ہے…”
باپ کی آواز نے اس کے قدموں سے زمین کھینچ لی۔وہ جانتی تھی کہ مولوی بشارت ۔۔۔اس کا باپ۔۔۔یہ کبھی نہیں سننا گوارا کرے گا کہ ۔۔۔مولوی صاحب کی بیٹی کا نکاح اس کی پسند سے ہوا ہے۔
اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔
چوڑیاں آدم کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ چکی تھیں۔
کانچ کے ٹکڑے…
جیسے خواب کے بکھرے ہوئے حصے ہوں۔۔۔
اور آدم کی آنکھوں کے جگنو…
بجھ چکے تھے۔
وہ آہستہ سے اس کے قریب آئی اور کہا:
“تم پہلے بھی آئے تھے…
تب بھی یہی کہا گیا تھا… آخری بار…”
ایک لمحہ رکی… پھر بولی:
“محبت… میرے لیے شجرِ ممنوعہ ہے۔
اگر میں نے اس کا پھل چکھ لیا…
تو اپنے باپ کی جنت سے نکال دی جاؤں گی…”
وہ پلٹنے لگی—
مگر آدم کی آواز نے اسے روک لیا:
“میں وہ پھل ضرور کھاؤں گا…
چاہے چالیس سال معافی مانگنی پڑے…”
وہ مسکرا بھی نہ سکی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی۔۔۔
کچھ جنگیں جیتی نہیں جاتیں، صرف ٹالی جاتی ہیں۔
کمرے میں آ کر اس نے ڈائری کھولی اور
لکھا:
اس کی آخری نگاہ میں عجب درد تھا، منیر
اس کے جانے کا غم مجھے عمر بھر رہا…
پھر کچھ دیر رکی…
اور ایک اور جملہ لکھا:
“ماں کا خوف… ہمیشہ جیت گیا۔
اور میں… ہر بار ہار گئی۔”
مگر وہ یہ نہ لکھ سکی ۔۔
کہ بعض اوقات
ہارنے والے… دراصل جیتنے کی قیمت چکا رہے ہوتے ہیں ۔




