غزل

غزل /احباب کے ہجوم میں تنہا ہے آدمی /فرح خان

غزل

فرح خان 

اپنی صلیب خود لئے پھرتا ہے آدمی

احباب کے ہجوم میں تنہا ہے آدمی

 

خالی شکم کے ساتھ لبوں پر ہنسی لئے

 اپنا بھرم بھی آپ ہی رکھتا ہے آدمی

 

تیرہ شبی کے سامنے امید کا دیا

اپنے لہو سے روز جلاتا ہے آدمی

 

 اتری ہے چاند رات تو ہر صحن میں مگر

جھولی کے چھید دیکھ کے روتا ہے آدمی

 

 فرعون وقت ظلم کی حد سے گزر گیا

موسی کے انتظار میں بیٹھا ہے آدمی

 

پیتا ہے روز سیٹھ یہاں خون۔ ناتواں

اور روز خوں کے گھونٹ بھی پیتا ہے آدمی

 

 دریا کے تند و تیز بہائو کے سامنے

مثل۔ حباب بن کے ابھرتا ہے آدمی

 

جنگل بنا دیا ہے مرا مسکراتا شہر

اک دوسرے کے خون کا پیاسا ہے آدمی

 

شیشے کے گھر میں بیٹھ کے پتھر سے دوستی

یعنی کہ ایک طرفہ تماشا ہے آدمی

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x