نظم

محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

محبت کی شمشان گھاٹ

میں نے چاہا

لفظوں سے تمہاری مانگ بھر دوں،

مگر محبت

ایک خالی رسم بن چکی تھی

 

ہم دونوں

ایک مردہ کہانی کے کردار تھے،

جو خود ہی

اپنا اختتام لکھ رہے تھے

 

آج

ہماری محبت کی لاش

یادوں کے لکڑیوں پر رکھی ہے،

اور ایک چنگاری

کافی ہے

سب کچھ راکھ کرنے کو

 

پھر ہم

اس راکھ کو

جدائی کے دریا میں بہا دیں گے،

اور یوں

ہم ہمیشہ کے لیے

ایک دوسرے سے آزاد ہو جائیں گے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x