خبریں

آف یہ گاؤن حصہ دوم /ملک اسلم ہمشیرا، احمد پور شرقیہ

چنانچہ بیگم عالیہ کمالیہ نے کمال فیاضی کا مظاہرہ فرماتے ہوئے اپنی جہیز والی پیٹی کا ڈَھک اُٹھایا اور اس میں سے کپڑے ایسے برآمد کرنے لگی جیسے پٹھان نیا نویلا لنڈے کا بورا کھولتا ھے ۔۔۔
آخر کار جان پر کھیل کر بیگم صاحبہ نے صندوق کے تَل سے ایک بن مانس کی کھال نما عمرو عیار کا چغہ باہر گھسیٹ لائی۔۔۔۔فرمانِ عالی جان ہوا کہ یہ برقعہ مُٰلکِ عُمان سے مجھےہدّیتا ً تُحفتاً ملا تھا اب آپ کے کام آتا ھے تو یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی ۔۔۔بس اس کے بدلے مجھے آپ عید کے صرف دو سوٹ لے دینا۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے بیگم صاحبہ نے وہ کالی اوجھری اٹھائی اور میرے سینے کے ساتھ لگا کر چیک کرنے لگی پھر اس کے بعد ماشاءاللہ٫ سبحان اللہ کا ورد کرتے ہوئے فرمایا کہ حسن اتفاق دیکھئے یہ تو اپ کے سائز کا ہی نکلا ۔….

چنانچہ انکار کا خطرہ مول لیے بغیر میں نے وہ چُغہ سلیمانی قبول کیا کیونکہ ٹھکرائے جانے کی صورت میں صندوق کا ڈھکنا میرے اوپر آ گرنا تھا ۔۔۔۔آخرکار اس کو لے کر کھانے کی میز پر لے ایا سیدھا کیا، پوسٹ مارٹم کیا ۔۔۔۔گلے سے دامن تک قینچی چلائی اور گاؤن تیار ہو گیا۔۔۔۔۔چنانچہ بیگم مجھے ایسے پہنانے لگی جیسے افغانی مُل٘ا کسی بھولے شاگرد کو خود کُش جیکٹ پہنا کر خود کش حملے کے لیے روانہ کر رھا ہو ۔۔۔۔۔۔
چنانچہ کم خرچ بالا نشئی کی عملی تصویر وہ نایاب۔۔۔چغہ پہن کر میں نے برآمدے کے دو تین چکر لگائے تو مجھے آنجہانی ایرانی سپریم لیڈر جیسی فیلنگز آنے لگیں۔۔۔۔اور یکدم مڑ کر دیکھا تو بیگم صاحبہ معنی خیز انداز میں مسکرا رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو کہ
اج کالا چولا پا۔۔۔۔ میڈی فرمائش تے۔۔۔۔۔۔

اگلے دن علی الصبح وہ سیاہ گاؤن زیب تن فرمایا اور سکول جا پہنچا۔۔۔رئیس مدرسہ سے داد و تحسین وصول کرنے کے بعد تمام معلمین کے معصوم سوالات مثلاً ۔۔۔
اے کتھوں لبھیا ای؟
اےہامون جادوگر دا کھس آئیں کیا؟؟

سے بچنے کیلئے میں
اپنی کلاس "کچی شریف” میں آ دھمکا۔۔۔۔۔ سبھی بچوں نے ایک نعرہ مستانہ بلند کیا کچھ نے تو میری خلافت کو قبول کر لیا چند ایک کو ٹافیاں دے کر چپ کروایا گیا۔۔۔۔۔۔۔
خیر سارا دن سکول میں میرے گاؤن کا ذکر خیر چلتا رہا۔۔۔
بقول شاعر ۔۔۔۔
بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا ۔۔۔۔
ورنہ بھرے سماج میں معلم کی آبرو کیا ہے۔۔۔۔۔
۔گاؤن کی عزت و تکریم، فیوض و برکات کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں سکول سے گھر کی طرف آتے ہوئے سودا سلف لینے بازار گیا تو مرغی والے نے ناقابل یقین ریٹ پر گوشت دیا کریانہ والے نے مناسب ریٹ پر سامان دیا انہوں نے سمجھا کہ شاید اساتذہ کو چیف جسٹس کے اختیارات دیے گئے ہیں اور یہ کہیں جرمانے نا لگانے شروع کر دیں ۔۔۔۔
چنانچہ عزت افزائی کی گٹھری سر پر رکھے موٹر سائیکل کو ایڑ لگائی اور گھر روانہ ہوا مگر محبت کا ایک کڑا امتحان ابھی باقی تھا گلی کی موڑ سے چند فرلانگ پہلے میرے سلیمانی چغے کا ایک لہراتا پلو میرے جنگی جیٹ موٹرسائیکل کی چین میں آ گیا ایک زوردار جھٹکا لگا اور ایک چرڑڑڑڑڑ کی اواز سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔۔پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔۔۔۔۔۔۔
مورخین لکھتے ہیں کہ جب عوام نے چغہ کاٹ کراستاد محترم کو موٹر سائیکل کے نیچے سے برآمد کیا تو مدرس مذکور میں زندگی کی رمق ابھی باقی تھی۔۔۔اور مری مری آواز میں پوچھ رھے تھے ۔۔۔۔
میرا گوشت والا شاپر پھٹا تے نئیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اُف یہ گاؤن (حصہ اول)/ ملک اسلم ہمشیرا, احمد پور شرقیہ

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x