اُردو ادبتبصرہ کتب

کتاب: شیتل/محمدضیاالمصطفٰی ، تبصرہ: محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

زیرِ نظر کتاب کا عنوان "شیتل” ہے۔ افسانوی مجموعہ "شیتل” میں عشقیہ اللے تللے نہیں ہیں۔ ایک افسانہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جس میں ہیرو ہیروئن چونچ لڑا رہے ہوں یا پیار کے سمندر میں غوطہ زن نظر آ رہے ہوں۔ پیار، عشق، محبت، ٹھنڈی آہیں، ہجر میں مر گئے، وصل میں جی اٹھے، یہ کتاب اس جیسے مواد سے مبرا ہے اور بالاتر ہے۔ کیونکہ یہ خالصتاً مقصدی ادب ہے۔ حقیقت نگاری اور بولڈ افسانہ نگاری کے نام پر فحش قصے کہانیاں مرتب کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ قرینے سے، سلیقے سے، ہر بات شائستہ الفاظ اور مہذب انداز میں پیش کی جا سکتی ہے۔ اول تو "شیتل” میں ایسی کوئی ایک بات بھی سرے سے نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کتاب گھر کے ہر فرد کے لیے ہے۔

معیاری اردو ادب سے شناسائی اور تعارف کرانے کے واسطے، یہ کتاب نو عمر بچے بچیوں کو اور بڑوں کو بطور تحفہ پیش کی جائے تو یہ ایک شاندار تحفہ ہے۔ موضوعاتی اعتبار سے کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مذہبی منافقت، وڈیرا شاہی، تانیثیت، افلاس اور والدین کے حقوق۔ جبکہ افسانہ "منافع” اور افسانہ "منبر نشین” موضوعاتی تنوع میں ان سے الگ ہیں۔ اس کا اندازہ آپ تمام افسانوں پر پیش کیے گئے جائزوں اور تبصروں سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔

شیتل ہندی زبان کا لفظ ہے۔ لفظ شیتل اردو زبان میں بتدریج مستعمل اور ضم ہوتا جا رہا ہے۔ شیتل کے معنی، خوش گوار ہے، سہانا ہے۔ افسانوی مجموعہ شیتل کے خالق افسانہ نگار ڈاکٹر محمد ضیاء المصطفیٰ صاحب شعبہ اردو گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ ڈاکٹر آف فلاسفی ہیں، لیکن اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے۔ ہر چند کہ ہمارے ترقی پذیر معاشرے کے کمرشل سے کمرشل تر ہوتے ہوئے اردو ادب میں، افسانے کو اس کی ہیئت میں لکھ کر، مقصدی ادب مرتب کرنے والے چند ہی رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر محمد ضیاء المصطفیٰ ان چند ایک میں سے ایک ہیں جو افسانے کو اس کی ہیئت میں لکھ کر مقصدی ادب مرتب کر رہے ہیں۔ دیگر دو تصانیف کے بعد یہ آپ کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ جو اردو ادب کے کئی زینے طے کر رہا ہے۔

کتاب شیتل انیس افسانوں کا مجموعہ ہے جبکہ کتاب ایک سو پینتیس صفحات پر مشتمل ہے۔ بے سروپا اور طویل منظر نگاری، مطالعہ کے دوران قارئین کے لیے بے زاری کا باعث بنتی ہے۔ لیکن کتاب شیتل میں اس کے بر عکس ہے۔ تمام افسانوں میں نہایت نپی تلی منظر نگاری دلچسپی کا باعث بن رہی ہے۔ ہر انسان اپنے آپ میں، ایک دوسرے سے الگ اور مکمل کائنات ہے۔ بالکل اسی طرح کوئی تخلیق کار بھی کسی دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتا۔ محض کتاب شیتل کا حسن بیان کرنے کی خاطر اگر یہ کہا جائے کہ امجد حسین (چیف رپورٹر دی پاکستان ٹائمز) کے مضامین جیسا رواں اسلوب اور غلام عبّاس کے افسانوں جیسا دلچسپ انداز، شیتل میں یکجا ہے۔ تو یہ غلط نہ ہوگا۔ شیتل میں شامل با صواب افسانوں کی انفرادیت اور افادیت مد نظر رکھتے ہوئے قوی امید کی جا سکتی ہے کہ آج نہیں تو کل، جلد یا بدیر، شیتل کے مزید ایڈیشن شائع ہوں گے یا پھر شیتل کے افسانے تالیف ہوتے رہیں گے۔ مختصراً یہ کہ موضوعاتی تنوع کے ساتھ گونا گوں افسانے قابلِ ذکر ہیں۔ روز مرہ معمولات زندگی میں ہم یہ افسانے براہِ راست دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ لیکن دھیان نہیں دیتے۔ شیتل کے ذریعے ان افسانوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ چند ایک جگہوں پر پنجابی اور سرائیکی زبان کے ملے جلے الفاظ پڑھنے کو ملتے ہیں۔  یہ ٹھیٹھ پنجابی اور سرائیکی کے خوبصورت الفاظ ہیں۔ جہاں جہاں یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہاں صفحے کے اختتام پر حاشیہ لگا کر ان الفاظ کے اُردو معنی لکھ دیے جاتے تو! ایسا کرنا سبھی کے لیے الفاظ سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتا۔

کتاب کا آخری افسانہ ٹائٹل سٹوری ہے۔ یہ افسانہ حقیقت نگاری کی عمدہ مثال ہے۔ اس افسانے کو اگر کتاب میں شامل تمام افسانوں کا مرکزی خیال کہا جائے یا کتاب میں شامل تمام افسانوں کا خلاصہ کہا جائے تو عین درست ہوگا۔ افسانہ شیتل پڑھنے کا لطف اسی صورت آ سکتا ہے جب آپ دیگر اٹھارہ افسانے پڑھ چکے ہوں۔ یہی اس افسانے کا خاصہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس افسانے کے عنوان پر کتاب کا عنوان رکھا گیا ہے۔ یہ افسانہ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ پہلا حصہ قارئین کے ہمراہ بالخصوص لکھنے والوں کے لیے دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے۔ ایک افسانہ نگار، افسانہ رقم کرتے وقت کن کیفیات میں سے گزر کر حتمی مراحل طے کرتا ہے۔ لکھنے کے دوران تصورات، خیالات، خدشات، واقعات کا طوفان کیسے چلتا ہے۔ پہلے حصے میں یہ مناظر اسی مہارت سے رقم کئے گئے ہیں کہ جو مہارت ہر افسانہ نگار اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اس افسانے کا دوسرا حصہ آنکھیں نم کر دینے والا اور رقت طاری کر دینے والا ہے۔ افسانے کا دوسرا حصہ تانیثی ادب کی بہترین مثال ہے۔ میڈیا پر ہائی لائٹ ہونے والے وقائع اور وہ وقائع جو گلی کوچوں میں پیش آتے ہیں، ان دونوں میں ربط دکھایا گیا ہے۔ ان واقعات میں ربط و تسلسل کا احاطہ کیا جائے تو یہ صدیوں پر محیط ہے۔ افسانے کے دوسرے حصے میں یہی باور کرایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مردوں کا معاشرہ ہے۔ افسانے میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ ایسا صحیح کہا جاتا ہے۔ بہن کی محبت بھائی کے ساتھ اور بھائی کا رویہ بہن کے ساتھ، افسانے کا موضوع ہے۔ اس افسانے کے ذریعے ہنرمندی کے ساتھ، بھائیوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور بھائیوں کو پیغام دیا گیا ہے۔

کتاب کا پہلا افسانہ "توفیق” پڑھنے کے بعد یہی مشہور ضرب المثل ذہن میں آتی ہے کہ مایا تیرے کتنے نام، پرسو، پرسا، پرس رام۔ افسانے میں امام مسجد کی مسکراہٹ حاصلِ مطالعہ ہے۔ کیا مسکراہٹ قبیحہ ہو سکتی ہے؟ مسکرانے کی تعریف بالعموم کچھ یوں کی جاتی ہے کہ "مسکرانا، چہرے سے خوشی اور مسرت کے اظہار کا ایک خاموش اور پروقار طریقہ ہے۔ جس میں آواز کے بغیر ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوتا ہے۔” مسکرانا کئی طرح سے ہو سکتا ہے۔ طنزیہ مسکرانا، بے بسی سے مسکرانا وغیرہ۔ افسانہ "توفیق” میں ایک امام مسجد کو دو بار مسکراتے دکھایا گیا ہے۔ کمالِ فن یہ ہے کہ جزیات نگاری کی مدد سے امام مسجد کی مسکراہٹ واضح قبیح فعل دکھائی دیتی ہے۔ کتاب کا پہلا پر اثر افسانہ پڑھنے کے بعد دیگر افسانوں میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ افسانہ "توفیق” چاپلوسی، مکاری اور منافقت کا بہترین تمثیلی قصہ ہے۔ افسانے کے دونوں کردار ہم سبھی کے گلی محلوں میں پائے جاتے ہیں۔ افسانے کا موضوع منافقت ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ افسانے میں محض دو کردار ہیں اور دونوں ہی منافق ہیں۔

افسانہ "چاندی کا تمغہ” یہ شیتل کا دوسرا رنگ ہے۔ "روشنی کے لیے اندھیرے کا وجود لازمی تھا۔” یہ افسانہ اس طرح کے شاندار جملوں سے مزین ہے۔ ٹھوس چاندی یا چاندی کا زیور اگر چند ہفتے یوں ہی پڑا رہے، چاندی کا رنگ سیاہ پڑ جاتا ہے۔ جسے پھر سے چمکانے کے لیے گھسنا، رگڑنا، پڑتا ہے۔ چاندی کے تمغوں میں شاید چاندی ہوتی ہی نہیں ہے، اسی لیے سالہاسال بعد بھی چمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ افسانے میں ایک ایسا ہی چاندی کا تمغہ دکھایا گیا ہے۔ افسانے میں یہ بھی دیکھایا گیا ہے کہ چاندی کے تمغے میں چاندی ہو یا نہ ہو، اس کی قدر و قیمت جاننے والا اسے سنبھال کر رکھتا ہے یا شو کیس میں آویزاں کرتا ہے۔ یکسانیت، پر سکون زندگی بے کیف بنا دیتی ہے۔ موضوعاتی تنوع اس افسانے کا خاصہ ہے کہ گونا گوں مسائل زیر بحث لائے گئے ہیں۔ خوشحالی کی یکسانیت کچھ اور نوعیت کی ہوتی ہے اور غریب کی یکسانیت اس سے یکسر مختلف ہوتی ہے، یہ بھی افسانے کا موضوع ہے۔ افلاس میں فنکارانہ صلاحیتیں کسی کام نہیں آتیں، یہ بھی افسانے کا موضوع ہے۔ دور افتادہ علاقوں میں کیسے کیسے نگینے پائے جاتے ہیں۔ لیکن دور افتادہ علاقوں میں ہونے کے باعث، دنیا کی نگاہوں میں ایک آدھ بار آ بھی جائیں، پھر ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتے ہیں۔ وجہ؟ وسائل کی کمی ہے۔ افسانے کا اختتام کچھ یوں ہے کہ افسانہ مکمل ہونے کے بعد مرکزی موضوع پر دھیان ٹک جاتا ہے کہ کوئی چاندی کا تمغہ حاصل کر بھی لے لیکن اس پر فوقیت حاصل نہیں کر سکتا جو چاندی کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوتا ہے۔

"منبر نشین” کتاب کا تیسرا افسانہ ہے۔ یہ ہائی ایس وین میں سفر کی روئداد ہے۔ عنوان اور کہانی ملا کر سوچا جائے تو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ ہر دوسرا شخص خود ساختہ طور پر منبر نشین ہے۔ ہمارے ہاں فتویٰ تو کوئی بھی دے سکتا ہے۔ ہمارے ہاں جتنی عوام ہے تقریباً اتنے ہی فتویٰ ساز ہیں۔ ہم اٹھتے بیٹھتے، آتے جاتے، دورانِ سفر، ہر جگہ، ہر پل، فتوے صادر کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن عملاً اخلاق باختہ ہیں۔ ہم پل میں کسی کو جنت الاٹ کر دیتے ہیں تو کسی کو اٹھا کر دائرہ اسلام سے باہر پھینک دیتے ہیں۔ افسانے میں ایک ایسا ہی فتویٰ ساز دکھایا گیا ہے، جو عملاً اخلاق باختہ ہے۔ علاوہ ازیں حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ بالخصوص دورانِ سفر، بھاشن دینے والا کوئی شخص "پردہ نشیں” بھی ہو سکتا ہے۔ جو رائے عامہ ہموار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا یا رائے عامہ جاننے کے لیے اپنے مشن پر ہوتا ہے۔

چوتھا افسانہ "پہلی واردات” ہے۔ قانون کس طرح اپنے تقاضے پورے کرتا ہے؟ افسانہ حقیقت نگاری پر مبنی ہے۔ جاگیر دارانہ نظام کو تعلیم سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے اور قانون اس نظام کی پشت پناہی کس طرح کرتا ہے؟ افسانے میں یہی دکھایا گیا ہے۔ ایک تیر سے دو شکار تو سبھی نے سنا ہو گا۔ پلاٹ میں چوہدری کو ایک تیر سے چار شکار کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس افسانے کا پلاٹ تہہ در تہہ ہے۔ افسانے کی کہانی پر ڈراما تشکیل دیا جائے تو نہایت شاندار بنے گا۔ اس افسانے کو سٹیج سکرپٹ میں بھی بدلا جا سکتا ہے اور یہ ایک جاندار سٹیج ڈراما ثابت ہو سکتا ہے۔ حقیقت نگاری بالعموم ادھورے پن کا احساس لئے ہوتی ہے۔ جبکہ افسانہ "پہلی واردات” حقیقت نگاری کے حوالے سے مکمل اور جامع ہے۔ یہی اس افسانے کا خاصہ ہے۔ معصوم اذہان کی برین واشنگ کچھ اس طرح سے کی گئی ہے کہ ہر کام میں اللہ کی رضا تلاش کرتے ہیں۔

اگلے افسانے کا عنوان "خون کی دیوار” ہے۔ شہروں میں توے کا رواج ہے، جس پر ایک وقت میں، صرف ایک روٹی پکتی ہے۔ بہت سارے گاؤں ایسے ہیں جہاں توی کا رواج ہے۔ توی پر چھ سات روٹیاں بیک وقت پکتی ہیں۔ بہت سے گاؤں ایسے بھی ہیں جہاں تندور دہکانے کا رواج ہے۔ یہ اسی گاؤں کی کہانی ہے جہاں روٹی تندور میں پکتی ہے۔ کردار حاجی شاہ میر خان کا مختصر سا شخصی خاکہ نہایت دلکش ہے۔ افسانے میں استعاروں کا استعمال خوبصورتی سے کیا گیا نظر آ رہا ہے۔ خاندان کی عزت خاندان میں رہے۔ لڑکا ہو یا لڑکی، خاندان سے باہر رشتہ، کسی صورت میں نہیں کریں گے۔ یہ افسانے کا پہلا موضوع ہے۔ افسانے کا ثانوی موضوع یہ ہے کہ سیانے اور بڑے بوڑھے، جن کی ٹانگیں قبر میں ہوتی ہیں۔ دنیا سے جاتے جاتے بے جوڑ رشتے ناتے طے کر جاتے ہیں۔ زندگیوں کو جہنم میں جھونک کر کہتے ہیں کہ "الحمدللہ ہم اپنے فرائض سے سبکدوش اور سرخرو ہو گئے۔” ہمارے زیادہ تر گھروں کی کہانی آج بھی یہی ہے۔

چھٹا افسانہ "صف سے باہر کھڑا آدمی” ہے۔ عنوان ہی سے افسانے کا موضوع عیاں ہے۔ پہلے ہی پیرا گراف میں "مطمئن مذہبی عمائدین” دکھائے گئے ہیں۔  یہ ایک خوبصورت اور طنزیہ پیرا گراف ہے۔ مذہبی فرقہ واریت، مذہبی تعصب، مذہبی انتہا پسندی، مذہبی آزادی، مذہبی رہنما اور مذہبی مساوات اس افسانے کا موضوع ہے۔ طنزیہ انداز میں ہلکا پھلکا مزاج اس افسانے کو خوبصورت بنا رہا ہے۔ گو کہ اس افسانے کے اختتام کو لے بعض قارئین نکتہ اٹھا سکتے ہیں کہ ایسا درست نہیں ہے۔ کم از کم میرے تئیں اختتامی نکتہ عین درست ہے۔ وہ ہمیشہ صف سے باہر کھڑا ہوتا تھا۔ لیکن دورانِ جماعت سب سے پیچھے کھڑا ہونے کے باعث اسے کوئی دیکھ نہیں پاتا تھا۔ پھر ایک دن ایسا آیا، جب وہ صف سے باہر کھڑا ہوا تو سب نے اسے با جماعت مل کر دیکھا۔ یہی اس افسانے کی خوبصورتی ہے۔ ایک تن تنہا شخص نے مذہبی گروہ بندی کا قلع قمع کیا اور منافق کہلایا۔

افسانہ "بد نما داغ” یہ ایک مونو لاگ ہے۔ سیکنڈ کا دسواں حصہ، یہ بہت ہی کم مدت ہے۔ اسی مدت میں چوٹ پہنچانے والے، دل آزاری کرنے والے، حوصلہ شکنی کرنے والے، درد دے جانے والے، اپنا کام کر کے چلتے بنتے ہیں۔ جسے چوٹ پہنچتی ہے ان کا دورانیہ دس سیکنڈ کا دسواں حصہ گزر جانے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ یہ دورانیہ ساری زندگی پر محیط ہو سکتا ہے۔ وقت کا مرہم اس دورانیے کو ہفتے دو ہفتے یا ماہ دو ماہ یا سال دو سال بعد ختم بھی کر سکتا ہے۔ یہ افسانہ اس مدت کے دوران مختلف کیفیات کا اظہار ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود ہی، خود کو تسلی دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جو آگے نہیں بڑھ سکتے، وہ ایک سانحہ سے دوسرے سانحہ کے درمیانی وقفے میں خود کو پر سکون رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مختصر سے افسانے کا اختتام کچھ ایسا ہے کہ اپنے ہی جیون ساتھی کے چہرے پر زخم کا نشان چھوڑ دینے والا، در حقیقت یہ داغ اس کے اپنے چہرے پر ثبت ہوتا ہے ناکہ جیون ساتھی کے۔

آٹھواں افسانہ "دربار کا نمک” کے عنوان سے ہے۔ یہ شولے سائیں اور خلیفہ بشیر چھوٹے سائیں کی کہانی ہے۔ توہم پرستی، قبر پرستی، ایمان کی کمزوری، پیری فقیری کا دھندا، اس افسانے کا موضوع ہے۔ جو رب سے نہیں مانگتا، وہ سب سے مانگتا ہے۔ افسانے کا پلاٹ ہلکا پھلکا اور دلچسپی کا سامان لیے ہوئے ہے۔ ایک شخص جو مجذوب، پاگل، دیوانہ تھا۔ رفع حاجت تک اپنے کپڑوں میں کرتا تھا۔ لوگوں کا محتاج تھا۔ پھر یوں ہوا کہ وہ مر گیا۔ پھر تو وہ چلنے پھرنے اور سانس لینے تک کا محتاج ہو گیا۔ لیکن اسے جیسے ہی قبر میں اتار کر مٹی میں دبایا گیا، لوگ اس کے محتاج ہو گئے۔

نویں افسانے کا عنوان "نکڑ والا کمرہ” ہے۔ رسمِ قل شریف پر، پر تکلف ضیافت کا اہتمام اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ ایک رسم ہے، اسی لیے فرضِ قل شریف یا فریضہ قل شریف نہیں کہا جاتا۔ بہر کیف جس کے مرنے کے اعزاز میں ضیافت رکھی جاتی ہے۔ جگ کیا جانے کہ وہ فاقوں سے مرا ہو۔ مردار کھانے والے دو ہی جانور قابلِ ذکر ہیں۔ ایک گدھ اور دوسرے انسان۔ زندگی میں خیال رکھنا چاہیے نا کہ مرنے کے بعد کھمبا نوچتا چاہیے۔ یہی اس افسانے کا موضوع ہے۔

شیتل کا دسواں رنگ "فوٹو گیلری” ہے۔ یہ افسانہ ہر خاص و عام کے لیے پیغام ہے کہ جب آپ کے والد زندہ ہوں تب ان سے محبت کیجیے۔ انہیں نظر انداز مت کیجیے۔ بصورت دیگر بعد میں پچھتاوے ہی رہ  جاتے ہیں۔ یہ افسانہ پڑھنے کے لیے جگرا چاہیے۔ یہ افسانہ آئینے کی طرح ہے۔ اس افسانے میں ہر کوئی اپنا آپ دیکھ سکتا ہے۔

گیارہواں افسانہ "پہلی بار” ہے۔ بہت دنوں پہلے ایک مضمون پڑھا تھا کہ ایک شخص ہر صبح جاگنگ کرتے ہوئے اپنے گرد و نواح کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ تتلیاں، باغیچے، بادل، سورج کی پہلی کرنیں، گھر نکلے دیگر لوگ، عمارتیں، دودھ والا، خاکروب، یہ سب دیکھ کر محظوظ ہوتے ہوئے جاگنگ ٹریک سے اپنے گھر پہنچتا ہے۔ یہ روز کا معمول تھا۔ ایک دن اسے محسوس ہوا کہ کوئی اور جاگنگ کرنے والا اس پر سبقت لے جا رہا ہے۔ وہ اس سے تیز اور اس سے آگے ہے۔ اس نے یہ چیلنج قبول کیا اور اسے ہرانے کے لیے اس کا پیچھا کرنے لگا۔ اس دوڑ میں وہ تمام مناظر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔ اسے یہ بھی علم نہ ہوا کہ اس کا گھر آ چکا ہے۔ تعاقب میں وہ اپنے گھر سے بھی کافی آگے نکل گیا۔ مضمون نویس لکھتا ہے کہ آگے والے کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ کوئی اس کے ساتھ چیلنج ہو گیا ہے اور وہ تمام نظارے حتیٰ کہ اپنی منزل تک بھلا چکا ہے۔ یہ افسانہ اسی مضمون جیسا سبق آموز ہے۔

شیتل کا بارھواں افسانہ "حق تلفی” ہے۔ جبری مشقت کی اصطلاح تو سبھی نے سن رکھی ہو گی۔ افسانے میں جبری بچت کی اصطلاح پلاٹ کی مناسبت سے استعمال کی گئی ہے۔ یہ نچلے متوسط طبقے کی کہانی ہے۔ یہ طبقہ دن بھر بکھرا رہتا ہے اور رات کو ایک کمرے میں ایک پنکھے کے نیچے سوتا ہے تاکہ بجلی کا بل کم آئے۔ اس سے بھی نچلا متوسط طبقہ کوشش کرتا ہے کہ آٹے کے لیے پیسے بچانے کے واسطے، پنکھا نہ ہی چلائے۔ اوپر والا متوسط طبقہ ایک کمرے میں ایک ایئر کنڈیشنر کی بدولت، ایک کمرے میں گھل مل کر رہتا ہے۔ انہیں گھرانوں کے بچے سوشل میڈیا کی جعلی چمک دمک کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ وہ ایسے کوے بن جاتے ہیں جو ہنس کی چال چلنے کے چکر میں اپنی چال ڈھال گھر کنبہ اور اوقات سب بھول جاتے ہیں۔ افسانے کا موضوع بھی یہی ہے۔

تیرہواں افسانہ "آخری ہچکی” ہے۔ یہ افسانہ بلیک کامیڈی پر پورا اترتا ہے۔ شاید کسی رشئین فلاسفر کا قول ہے کہ "جمہوریت میں کمی کمینوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ جبکہ حکومت کرنے کا حق صرف امیروں کو حاصل ہے۔” یہ ڈارک کامیڈی اسی قول کی غماز ہے۔

اگلا افسانہ "منافع” ہے۔ یہ افسانہ دو گھروں کا موازنہ ہے۔ مال و دولت سے دل کا سکون نہیں خریدا جا سکتا۔ بقول واصف علی واصف صاحب "مطمئن وہ ہے جو اپنے حالات سے مطمئن ہے۔” یہ قول بھی واصف علی واصف صاحب کا ہے کہ "پریشانی حالات سے نہیں، بلکہ خیالات سے ہوتی ہے۔” افسانہ "منافع” واصف علی واصف صاحب کے دونوں اقوال پورا اُترتا ہے۔

کتاب کا پندھرواں افسانہ "نیلے پھولوں والی چادر” ہے۔ افسانے میں گاؤں کا رہن سہن دکھایا گیا ہے اور گاؤں کی ثقافت دکھائی گئی ہے۔ جب سوشل میڈیا نہ ہو تو سوشل نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے؟ یہ دکھایا گیا ہے۔ ہائی فائی امیر گھرانوں کی خواتین گپ شپ لڑانے کے لیے کلب کا رخ کرتی ہیں۔ جبکہ زراعت پیشہ گاؤں کی عورتوں کو ایسے لمحات اس وقت میسر آتے ہیں کہ جب کوئی فوت ہو جائے۔ یہی اس افسانے کا مرکزی موضوع ہے۔

شیتل کا سولہواں افسانہ”پورے اٹھارہ سال” ہے۔ ملازمین کہیں بھی کام کر رہے ہوں۔ انہیں دیانت داری سے کام کرنا چاہیے۔ دیانتداری سے کام کرنا کسی پر احسان نہیں ہے۔ یہ تو ہماری تعلیمات میں ہے اور ہمارا فرض بھی ہے۔ فی زمانہ بددیانتی کا بازار ایسا گرم ہے کہ یہ فریضہ اب احسان لگنے لگا ہے۔ اکثر ملازمین کو اپنے مالکان سے انس ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے مالکان کے لیے خلوصِ نیت سے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ لیکن مالکان تنخواہ ہی میں اس خلوص کے دام چکا دیتے ہیں۔ "غریب انسان بینگن کا غلام نہیں ہوتا بلکہ بادشاہ کا غلام ہوتا ہے۔” یہی اس افسانے کی کہانی ہے۔

اس سے اگلے افسانے کا "عنوان” ماں ہے۔ بہنوں میں سے اکثر اوقات ایک بہن رہ جاتی ہے کہ جس کا رشتہ طے نہیں ہو پاتا۔ یہ قربانی کی بکری والدین اور دیگر گھر والوں کی خدمت پر مامور کر دی جاتی ہے۔ اب تو بہت سے گھروں میں قربانی کے بکرے بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ لڑکوں کے رشتے نہیں ہو رہے کہ اچھا رشتہ نہیں مل رہا۔ لڑکیوں کے رشتے طے نہیں ہو پا رہے کہ اچھا رشتہ نہیں مل رہا۔ یہ آج سے نہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہے۔ بہت پہلے خال خال تھا۔ پھر تھوڑا بہت ہوا اور اب بہت زیادہ ہے۔ افسانے میں ایک ایسی ہی لڑکی دکھائی گئی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ماں جان بوجھ کر اپنی کسی ایک اولاد سے زیادتی کر رہی ہے۔ جبکہ وہی ماں قصداً اپنی دوسری اولاد سے نسبتاً زیادہ پیار کر رہی ہے۔ ایسا لوگوں کو لگتا ہے۔ لیکن درحقیقت ماں اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے۔ یہی اس افسانے کا موضوع ہے۔

آخری سے پہلے افسانے کا عنوان "پیر مِٹھل” سائیں ہے۔ پیری مریدی کا دھندا اس افسانے میں عروج پر ہے۔ اخلاقیات کا درس دینے والوں کی منافقت اس افسانے کا موضوع ہے۔ باور کرایا گیا ہے کہ وڈیرا شاہی کے شانہ بشانہ پیر شاہی کس طرح تعلیم سے دشمنی مول کر، معاشرے کو جہالت میں ڈبو ریے ہیں۔ اپنا الو سیدھا کرنے کے واسطے یہ لوگ نسل در نسل دوسروں کی نسلیں تباہ کرتے آ رہے ہیں۔

۔ ISBN: 978-969-974-4 ۔
کتاب خرید فرمانے
کے لیے رابطہ نمبر: 923017223772+

Author

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x