غزل
غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

غزل
موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے
دریا مرے تخئیل تلک کیوں نہیں پہنچے
تھے بُت تو ہمیں چاک پہ رکھا نہ گیا کیوں؟
تصویر تھے! تو کِیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟
تھے نوکِ زباں پر جو تلاطم زدہ نوحے!
آہنگ کی ترتیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟
ہم سوختہ جانوں کے مقدر کے اندھیرے!
خورشید کی قندیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟
وہ جن کے لیے وقف تھیں آنکھیں شبِ ہجراں
وہ خواب ہی تکمیل تلک کیوں نہیں پہنچے
لفظوں میں تجھے بارِ دگر برتا گیا پر
ہم مصرعِ تجلیل تلک کیوں نہیں پہنچے
وہ حرف جو مکتوبِ محبت میں لکھے تھے
وہ صاحبِ ترسیل تلک کیوں نہیں پہنچے
جس جھل پر کے پانیوں سے آشنا تھے زین
تم اس کی حسیں جهیل تلک کیوں نہیں پہنچے




