غزل

غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

غزل

سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں

دوست آ جائیں تو پھر غیبت کدہ روشن کروں

اور کب تک فرض ہوں گی عشق پر قربانیاں

اور کب تک میں وفاؤں کا دِیا روشن کروں

سو گئے اہلِ وفا اپنی اداسی چھوڑ کر

میں اکیلا ہوں سو کس کا مقبرہ روشن کروں

جانتا ہوں کیسے کیسے لوگ آنکھیں کھو چکے

سوچتا رہتا ہوں اکثر آئینہ روشن کروں

تم کو دنیا صاف دِکھ جاے اِسی امید پر

یہ بتا دو خود کو کتنی مرتبہ روشن کروں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x