اُردو ادبتبصرہ کتب

افسانہ : لنگری/ عامر انور, تجزیہ/ رانا سرفراز احمد

بظاہر خشک و غیر دلچسپ محسوس ہونے والا افسانہ لنگری اپنے پیچ در پیچ معانی کی تہہ میں انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں، رشتوں، مفاد پرستی اور ساتھ ہی ساتھ جذباتی وابستگی کی ایک گہری علامتی داستان ہے۔ یہ افسانہ نہ صرف انسانی نفسیات کی پیچ در پیچ تہیں کھولتا ہے بلکہ یہ انسانی سماجی ڈھانچے میں متضاد قوتوں کے مابین ایک نہایت مضبوط بندھن کو بھی عیاں کرتا ہے بالکل ایسے جیسے مشہور شاعر جون ڈن نے دو بظاہر متضاد لیکن بنیاد سے مربوط مخالف قوتوں کی طرف اشارہ کیا اور اس کیلئے کمپاس کا استعارہ استعمال کیا جس کے بازو انسانی بازوؤں کی طرح بظاہر مخالف سمتوں میں ہوتے ہیں لیکن اپنی بنیاد میں ایک ہی ہوائینٹ سے جڑے رہتے ہیں۔
بظاہر نظم و ضبط، کفایت شعاری اور عملی عقل کا پیکر نظر آنے والے اختر حسین کے کردار کے ذریعے مصنف نے ایسے انسان کی اندرونی کیفیات کو آشکار کیا ہے جو اپنی اندرونی و بیرونی شخصیات کے تضاد کا شکار ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر بہت سلجھا ہوا انسان ہے تاہم اس کے اندر جذبات کی وہی حرارت موجود ہے جو کسی بھی انسان کے اندر ہوتی ہے۔ بقول شاعر

جدا ہوا سفر میں تو مجھ پر کھلا یہ بھید
ساۓ سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی۔

البتہ اس کی طرف سے ان کیفیات کا اظہار غیر متوازن اور مفاد پرستانہ شکل و صورت اختیار کر لیتا ہے۔
نفسیاتی نقطۂ نظر سے وہ نہ صرف معاشی بلکہ جذباتی اظہار میں بھی کفایت شعار ہے یعنی وہ جذبات کے بے ساختگی کا بھی قائل نہیں ہے اسے ہم اصطلاحی زبان میں ایموشنل اکونومی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے جذبات کو بھی بے روح کر کے بامقصد اور ضرورت کے مطابق خرچ کرنے کا عادی ہے۔ جس کا ثبوت اس کا اپنے والدین کی وفات پر سرد مہرانہ رویہ ہے۔ کہ وہ جذبات کو بھی افادیت اور نفع و نقصان کے پیمانے سے “استعمال” کرتا ہے۔ اسے ہم انگلش میں یوٹیلیٹیرئین بیہیوئیر کہہ سکتے ہیں۔
یہاں پر ایک نفسیاتی تجزیہ کریں تو اس کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ اس کے والدین اپنی زندگی میں اس کے لئے کہیں بھی عملی سہارا ثابت نہ ہوۓ تھے اس لئے وہ ان کی وفات پر کچھ زیادہ جذباتی نہ ہو سکا تھا۔ ان کی وفات اس کیلئے محض ایک واقعہ ثابت ہوئی تھی۔ شاید اسی لئے وہ بیماری پر خرچ ہونے والے پیسے کو بھی دولت کا محض ایک غیر ضروری ضیاع سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی سوچ میں زندگی ایک کاروباری آدمی کی طرح معاشی حساب کی ایک کتاب ہے جہاں ہر خرچ کئے گئے پیسے کا عقلی جواز ہونا چاہیے۔

کہانی یہیں پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں ایک اور کردار بھی موجود ہے۔۔۔ شمشاد مرزا محض ایک بڑا بھائی ہی نہیں بلکہ وہ اختر حسین کے کردار کا تضاد ہے۔ یہاں ہم شاعری کی صنعتِ تضاد کو حوالہ دے سکتے ہیں جہاں سیاہ کی اہمیت سفید کے ذریعے اور تری کی اہمیت خشکی کے ذریعے دکھائی جاتی ہے۔ فیاضی، قربانی اور خاندانی محبت کے استعارے شمشاد مرزا کا کردار اختر حسین سے بالکل الٹ اور متضاد ہے۔ پیسے کو بچا بچا کر کفایت شعاری سے استعمال کرنے والے اختر حسین کی شخصیت کو فیاض، سخی یا پیسے کی جگہ محبت کو اہمیت دینے والے شمشاد مرزا کی شخصیت کے تضاد سے واضح کیا گیا ہے۔ اور یہی تضاد اس افسانے کا مرکزی خیال ہے۔ اختر حسین کی کنجوسی کی حد تک کفایت شعارانہ سوچ سے رشتوں کے مابین پیدا کئے گئے خلاء کو شمشاد مرزا پورا کرتا ہے۔ وہ اپنی بہن کے بلکہ اس کے داماد کے خاندان کیلئے بھی پیپل کی گھنی اور بوہڑ کی ٹھنڈی چھاؤں ثابت ہوتا ہے۔ گویا شدید سرد موسم میں صبح صبح نرم و گرم دھوپ نکل آۓ۔ افسانے میں ایک طرف معاشی کفایت شعاری اور ورلڈلی وزڈم ہے جبکہ دوسری طرف انسانیت۔ مصنف نے دو نہایت طاقتور، متحرک و مؤثر اور مزاج ساز قوتوں کے تصادم اور تضاد سے افسانے کو رنگ دیا ہے۔

انسان کے ان متضاد نفسیاتی رویوں کے تضاد کے اندر چھپا ہوا ایک اعتراف، ایک اتفاق اور ایک نہایت گہرا نفسیاتی راز اس وقت کھلتا ہے جب کہ شمشاد مرزا کا انتقال ہو جاتا ہے اور اختر حسین، کبھی نہ رونے والا اختر حسین جو کہ اپنے اوپر ایک حقیقت پسندی، کفایت شعاری اور کنجوسی اور ورلڈلی وزڈم کی دبیز چادر اوڑھ کر پھرتا تھا وہ یکدم برہنہ و بے سائبان ہو جاتا ہے اس کی وہ مقبوط ڈھال ٹوٹ جاتی ہے جس کے ساۓ میں وہ ایک کنجوس، سخت دل، حقیقت پسند، نعم و گرم جذبات سے عاری روبوٹ بنا پھرتا تھا۔ اور اندر سے کیا نکلتا ہے، ایک مکمل مختلف اور ہوبہو عکسِ شمشاد مرزا۔۔۔ اس کا بے قابو ہو کر رونا اعلان کرتا ہے کہ اس کی شخصیت کردار اور نفسیات کے شجر کی جڑیں شمشاد مرزا کی محبت، نرم و گرم طبیعت اور اس کے ساۓ کی وجہ سے تھیں۔ اس کا سہارا وہ مٹی اس سے چھن چکی اور اب وہ گویا یتیم ہو چکا ہے۔ یہاں ایک لطیف نقطہ یہ ہے کہ اختر حسین رشتے میں شمشاد مرزا سے بڑا تھا لیکن آئرنی آف سچوئشن کہہ لیں کہ بڑا شمزاد مرزا نکلا۔۔۔ یعنی محبت کی جیت ہوئی محبت ہی بڑی نکلی۔۔۔ یعنی شمشاد مرزا وہ "لنگر” جس کے سہارے اختر حسین کا بیڑا اپنی طبیعت کے بحرِ بیکنار میں بے فکر پھرتا تھا۔ وہ شجر شمزاد مرزا تھا جس کے سہارے وہ اپنی مٹی کو نیچا دکھاتا رہتا تھا۔
یہاں افسانے کا عنوان نہایت گہرے نصب شدہ لنگر کی سی گہری معنویت اختیار کر لیتا ہے۔۔

شمشاد مرزا کے مرنے کے بعد اختر حسین کے وجود کا وہ سہارا ٹوٹ جاتا ہے جس پر اس کی بے رحم حقیقت پسندی کی عمارت کھڑی تھی۔ اس کا رونا دراصل کسی عزیز کی موت کا غم تھوڑا اور اپنے سہارے کو کھو دینے کا خوف زیادہ نظر آنے لگتا ہے۔
ادبی طور پر اس افسانے کی سب سے بڑی خوبی اس کا خاموش انکشاف ہے۔ مصنف نے نہ صرف یہ کہ کہیں بھی براہ راست اختر حسین کی طبیعت کے تضاد کا کہیں ذکر نہیں کیا نہ یہ کہا کہ اختر حسین مفاد پرست ہے یا اس کا رونا خود غرضی پر مبنی ہے، بلکہ کرداروں کے رویوں، مکالموں اور حالات کے ذریعے قاری اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ انسانوں کے متضاد رویوں کا سہارا دوسرے انسانوں کے متقاد روئیے ہی بنتے ہیں۔ یہ دنیا ایک ایسا گلدستہ ہے جہاں ایک پھول کا جدا خوشبو اور اس کا جدا رنگ دراصل دوسرے پھول کی جدا رنگ و بو کے باعث نکھر رہا ہے۔

یوں راویہ یعنی بیوی کی اصل فطرت تب ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنے ساۓ سے محروم ہو جاتی یے یعنی ہمیشہ ڈھال کا ٹوٹنا ڈھال کی اہمیت بڑھا دیتا ہے۔
جہاں یہ افسانہ دو متضاد امزجہ میں فرق بیان کرتا ہے وہاں یہ بھی بتاتا ہے کہ دنیا کی بدصورتی اس میں نظر آنے والی خوبصورتی کا سہارا بنتی اور اسے نمایاں کرتی ہے۔
"لنگری” صرف ایک معاشرتی کہانی ہی نہیں بلکہ انسانی رشتوں میں موجود مفاد، جذبات اور معاشی ذہنیت کے ٹکراؤ اور ان کے ایک دوسرے کا باعث ہونے کی کہانی ہے۔

افسانے کے اختتام پر ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہم برائی کو خالصتاً برائی کہیں یا اچھائی کے وجود کی وجہ اسر اس کا سہارا سمجھیں۔۔۔ اور یہاں افسانہ اپنے مقام سے بلند ہو کر ایک لاینحل فکر اور سوچ بن جاتا ہے۔ یہی وہ ادبی و تکنیکی نکتہ ہے جو کہ اس افسانے کو ایک عام سماجی واقعے سے اٹھا کر ایک گہرے نفسیاتی اور علامتی ادب کی سطح پر لے جاتا ہے۔
عامر انور صاحب
"کسبِ کمال کن کہ عزیزِ جہاں شوی…” آپ عزیزِ جہاں ہیں ماشاءاللہ سے!!!

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x