انٹرویو

حدیثِ دل سے مسیحائی تک ڈاکٹر ثمینہ سے خصوصی گفتگو/ انٹرویوور:سیدہ عطرت بتول نقوی

تعارف

ڈاکٹر ثمینہ ایک پریکٹسنگ معالج اور حساس مزاج شاعرہ ہیں جن کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع بدین سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم PAF Model School Badin میں ہوئی۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی سے انہیں اردو شاعری سے گہرا شغف رہا اور انہوں نے کم عمری میں ہی علامہ اقبال کی نظمیں یاد کر لیں اور بعد ازاں خود شاعری کا آغاز کیا۔ طب کے شعبے میں مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے تخلیقی ذوق کو بھی برقرار رکھا۔ ان کا شعری مجموعہ "حدیثِ دل” محبت، تنہائی، انسانی احساسات اور معاشرتی کیفیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ ڈاکٹر ثمینہ کی شاعری سادہ مگر اثر انگیز اسلوب کے ساتھ دل کے جذبات اور زندگی کے تجربات کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔اردو ورثہ کے لیے ان کا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔

سوال: ڈاکٹر ثمینہ صاحبہ کیسی ہیں؟ سب سے پہلے اپنے بچپن اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب: میری پیدائش صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں ہوئی۔ میرے والد پاک فضائیہ سے وابستہ تھے، اسی وجہ سے میری ابتدائی تعلیم PAF Model School Badin میں ہوئی۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی سے مجھے شاعری سے گہرا شغف تھا۔ چھٹی جماعت میں ہی میں علامہ محمد اقبال کی نظمیں شکوہ اور جوابِ شکوہ ازبر کر چکی تھی۔ شاعری سے اس لگاؤ نے رفتہ رفتہ باقاعدہ تخلیقی صورت اختیار کی اور میں نے اپنی پہلی نظم آٹھویں جماعت میں لکھی، جس کی اصلاح میرے والد محترم نے کی۔
سوال: طب کے شعبے کا انتخاب آپ نے کس جذبے یا محرک کے تحت کیا؟
جواب: طب کے شعبے کا انتخاب دراصل میرے والد کی خواہش تھی، اور میں نے بھی اپنے دیگر بہن بھائیوں کی طرح ان کی خواہش کو مقدم رکھتے ہوئے اسی راہ کا انتخاب کیا۔ میڈیکل کالج کی زندگی میرے لیے فکری اور تخلیقی اعتبار سے نہایت زرخیز ثابت ہوئی۔ وہ ذہنی بالیدگی اور احساسات کی شدت کا بھرپور دور تھا۔ سخت ترین نصابی مصروفیات اور طویل مطالعے کے باوجود، بلکہ شاید انہی کے زیرِ اثر، اسی زمانے میں میں نے سب سے زیادہ شاعری کی۔
سوال: آپ کے اساتذہ نے آپ کی شاعری کی تعریف کی، اس حوصلہ افزائی نے آپ کی ادبی زندگی پر کیا اثر ڈالا؟
جواب: میٹرک سائنس میں کرنے کے بعد میں نے ایف ایس سی پری میڈیکل میں داخلہ لیا۔ اسی دوران کالج میں اردو کے پروفیسر رشید تبسم صاحب سے باقاعدہ طور پر شاعری کی اصلاح لیتی رہی۔ ان کی رہنمائی نے میرے ذوقِ سخن کو سمت اور سلیقہ عطا کیا۔ مزید برآں کالج کے پرنسپل پروفیسر خالد وہاب صاحب کی حوصلہ افزائی نے مجھے سنجیدہ اور باقاعدہ شاعری کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ دیا۔
دورانِ انٹرمیڈیٹ ہی آرٹس گروپ کی ایک طالبہ سے میری ملاقات ہوئی، جن کا نام عطرت بتول نقوی تھا۔ یہ پہلی ملاقات رفتہ رفتہ ایک گہری اور مخلص دوستی میں ڈھل گئی جو آج تک قائم ہے۔ اس رفاقت کی بنیاد اور محرک ہمارا مشترکہ ذوق—یعنی اردو ادب سے گہرا شغف—تھا، جس نے ہمیں فکری اور تخلیقی طور پر ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔
سوال: آپ کی پہلی نظم یا غزل کون سی تھی اور اس پر پہلا ردِعمل کیسا ملا؟
جواب: ایف ایس سی کے زمانے میں میں نے متعدد طرحی غزلیں لکھیں، مگر افسوس کہ وہ سب اب میرے پاس محفوظ نہیں رہیں۔ البتہ پہلی نظم جو میں نے مکمل طور پر اپنی طبع آزمائی سے تخلیق کی، اس کا عنوان "اندھا راہی” تھا، جو میرے تخلیقی سفر کی ایک اہم ابتدائی کڑی ثابت ہوئی۔
سوال: آپ کے نزدیک شاعری کیا ہے: جذبات کا اظہار، سماجی شعور یا باطنی مکالمہ؟
جواب: میرے نزدیک شاعری ایک خالص اظہار ہے۔ کہیں یہ باطن کا مکالمہ بن جاتی ہے اور کہیں اپنے یا کسی دوسرے کے جذبات کی ترجمان۔ یہ وہ کیفیت ہے جسے انسان دل کی آنکھ سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہے، پھر الفاظ کے قالب میں ڈھال دیتا ہے۔ شاعری محض الفاظ کی خوبصورت ترتیب کا نام نہیں، بلکہ احساسات، خیالات اور تجربات کو جمالیاتی لطافت اور داخلی موسیقیت کے ساتھ پیش کرنے کا فن ہے۔ یہ جذبوں کو تاثیر عطا کرتی ہے اور قاری کے دل میں ایک خاموش ارتعاش پیدا کر دیتی ہے۔
سوال: آپ کن شعرا سے متاثر ہیں؟
جواب: میرے پسندیدہ شعرا میں سرِ فہرست اقبال، فیض احمد فیض، احمد فراز، ناصر کاظمی، سلیم کوثر، ابنِ انشاء، محسن نقوی اور بے شمار شعرا شامل ہیں۔
سوال: آپ کی کتاب "حدیثِ دل” کا عنوان رکھنے کی کیا وجہ ہے؟
جواب: شاعری میرے نزدیک دل کی زبان ہے۔ اس مجموعے کے اشعار بھی دل کی کہانی اور اس کے احساسات کی روایت ہیں، اسی مناسبت سے اس کا نام حدیثِ دل رکھا گیا۔
سوال: اس مجموعے میں زیادہ تر کس نوعیت کی نظمیں اور غزلیں شامل ہیں؟
جواب: میرا شعری مجموعہ غزل، پابند نظم اور آزاد نظم پر مشتمل ہے۔ اس میں محبت، جدائی اور تنہائی کے احساسات کے ساتھ غمِ زندگی اور غمِ زمانہ جیسے موضوعات بھی شامل ہیں، جبکہ بعض نظمیں دیگر متفرق انسانی تجربات اور کیفیات کی عکاسی کرتی ہیں۔
سوال: کتاب کی اشاعت کا تجربہ کیسا رہا اور ماورا پبلیکیشنز کے ساتھ کام کرنا کیسا لگا؟
جواب: کتاب کی اشاعت کا تجربہ نہایت دلچسپ اور یادگار رہا۔ اس عمل نے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع دیا اور اپنی تخلیقات کو کتابی شکل میں دیکھنا یقیناً ایک خوشی کا لمحہ تھا۔ ماورا پبلیکیشنز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ میرے لیے نہایت خوشگوار اور اطمینان بخش رہا۔ مناسب قیمت میں کتاب نہایت خوبصورتی سے شائع ہوئی، خصوصاً سرِورق بالکل ویسا ہی تیار کیا گیا جیسا میں چاہتی تھی۔ اس سارے عمل کے دوران خالد شریف صاحب نے ہر مرحلے پر نہایت خلوص کے ساتھ مشورہ اور رہنمائی فراہم کی، جس کے لیے میں ان کی دل سے ممنون ہوں۔ ان کی شائستگی، تحمل مزاجی اور پیشہ ورانہ انداز واقعی قابلِ تحسین ہے۔
سوال: قارئین کی جانب سے اب تک کیسا ردِعمل ملا ہے؟
جواب: قارئین کی جانب سے ہمیشہ بہت حوصلہ افزا ردِعمل ملتا رہا ہے، بلکہ کتاب کی اشاعت سے پہلے بھی جب میں نے لکھنا شروع کیا تو کسی مرحلے پر مجھے یہ احساس نہیں دلایا گیا کہ میری شاعری میں گہرائی نہیں یا یہ کسی کے دل تک نہیں پہنچتی۔ ایف ایس سی کے زمانے سے ہی اساتذہ اور آپ جیسے مخلص دوستوں کی بھرپور حوصلہ افزائی نے مجھے اعتماد عطا کیا۔
اپنی شاعری کو مجموعے کی شکل دینا دراصل دوستوں کے اصرار کا نتیجہ تھا، خصوصاً آپ جیسی اہلِ قلم اور صاحبِ کتاب ادیبہ کی پُرزور ترغیب نے اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد میری شاعری کو بہت پذیرائی ملی، جس کے لیے میں آپ کی، اپنے تمام احباب کی اور دیگر قارئین کی بے حد ممنون و مشکور ہوں۔
سوال: مشہور شاعر خالد شریف کی اس رائے پر کہ "حدیثِ دل” ہم عصر شاعری میں اپنا نقش ثبت کرے گی، آپ کا کیا تاثر ہے؟
جواب: دیکھیے، اس سوال کا بہتر جواب تو یقیناً خالد شریف صاحب ہی دے سکتے ہیں۔ میں خود کو ابھی اس مقام پر نہیں دیکھتی کہ ایسی رائے کے بارے میں کوئی دعویٰ کر سکوں۔ یہ دراصل ان کی طرف سے میرے لیے ایک بڑی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی ہے، جس کے لیے میں دل سے ان کی مشکور ہوں۔ جہاں تک میری کتاب کا تعلق ہے تو میرے نزدیک یہ میری تخلیق ہے، اس لیے مجھے عزیز ہے۔ شاعر کے طور پر میں تو بس اتنا جانتی ہوں کہ میں نے اپنے احساسات اور تجربات کو سچائی کے ساتھ لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے:
وہ دلدل تھی کہ صحرا تھی یا کوئی بھید گہرا تھا
وہ میری خاک تھی، اس پر قدم دھرنا ضروری تھا
سوال: ایک پریکٹسنگ ڈاکٹر ہونے کے ناطے روزمرہ زندگی کے مشاہدات آپ کی شاعری پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں؟
جواب: ایک پریکٹسنگ ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں یہ اعتراف کرتی ہوں کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتی جس کی وہ مستحق ہیں۔ میرا پیشہ پوری سنجیدگی، توجہ اور بھرپور وابستگی (dedication) کا تقاضا کرتا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تخلیق کا عمل بھی انہی چیزوں کا طالب ہوتا ہے۔ اسی لیے دونوں ذمہ داریوں کو ساتھ ساتھ پوری طرح نبھانا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم جب کبھی فرصت کا کوئی لمحہ میسر آ جائے اور ماحول سازگار ہو، تو میں اپنے دل کی اس دستک کو ضرور سننے کی کوشش کرتی ہوں اور اسے لفظوں کا روپ دینے کی سعی کرتی ہوں۔
سوال: کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی مریض کی کہانی نے آپ کو نظم لکھنے پر مجبور کیا ہو؟
جواب: میں نے کبھی کسی مریض کی کہانی پر تو کچھ نہیں لکھا، البتہ معاشرتی واقعات اور حالاتِ زمانہ پر ضرور اشعار کہے ہیں۔
سوال: طب اور شاعری میں آپ کو زیادہ روحانی تسکین کہاں ملتی ہے؟
جواب: شاعری ایک تخلیقی عمل ہے جو انسان کی روح کو تکمیل اور اطمینان کا احساس دیتا ہے، جبکہ طب ایک ایسا پیشہ ہے جس میں آپ اپنی فیس کے عوض کسی کے درد کی تشخیص کر کے اسے کم یا دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب آپ ان تمام تقاضوں کو نبھاتے ہوئے مسیحائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو اس کی سرشاری روح تک اتر جاتی ہے۔ اسی لئے ان دونوں کا باہم تقابل نہیں کیا جا سکتا۔
سوال: تخلیق کے وقت آپ کا مخصوص موڈ یا ماحول کیسا ہوتا ہے؟
جواب: کسی بھی غزل یا نظم کی ابتدا عموماً کسی ایک مصرع یا شعر کی اچانک آمد سے ہوتی ہے۔ یہ آمد ایک تخلیقی لمحہ ہوتا ہے جو کسی خاص وقت یا جگہ کا پابند نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر اس اچانک آنے والے خیال یا مصرع کو فوراً کہیں محفوظ کر لیا جائے تو وہ بعد میں ایک مکمل نظم یا غزل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم اس ابتدائی جرقے کو مکمل تخلیق میں ڈھالنے کے لیے عموماً فرصت، سکون اور تنہائی درکار ہوتی ہے۔ میرے نزدیک تخلیق کا عمل محض موڈ کا محتاج نہیں ہوتا۔ اصل چیز وہ داخلی تحریک اور احساس کی شدت ہے جو شاعر کو لکھنے پر آمادہ کرتی ہے۔
سوال: مستقبل میں کیا ہم آپ کا کوئی نیا شعری مجموعہ یا نثری کتاب دیکھ سکیں گے؟
جواب: نثر نگاری کی طرف طبیعت کم ہی مائل ہوتی ہے۔ اگر زندگی نے مہلت دی اور حالات نے سازگار مواقع فراہم کیے تو شاید آئندہ کسی دوسرے شعری مجموعے کے بارے میں بھی سوچا جا سکے۔

سوال : نئی نسل کو طب اور ادب دونوں میں آگے بڑھنا چاہتی ہے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی ؟

جواب : میرے خیال میں طب اور شاعری ایک دوسرے سے متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ طب انسان کے جسم کا علاج کرتی ہے اور شاعری اس کے احساسات اور روح کو آواز دیتی ہے۔ ایک ڈاکٹر جب شاعری بھی کرتا ہے تو وہ محض ایک پیشہ ور معالج نہیں رہتا بلکہ انسانی دکھ درد کو گہرائی سے محسوس کرنے والا حساس دل بھی بن جاتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ طب کا پیشہ بہت زیادہ توجہ، وقت اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے، مگر تخلیقی صلاحیت بھی اپنی جگہ ایک فطری امانت ہوتی ہے۔ اگر انسان اس امانت کو زندہ رکھنا چاہے تو زندگی کی مصروفیات کے درمیان بھی اس کے لیے لمحے نکال لیتا ہے۔ کبھی کسی مصرع کی آمد کسی سفر کے دوران ہو جاتی ہے، کبھی کسی مریض کی کیفیت دل میں کوئی خیال جگا دیتی ہے۔ اگر اس خیال کو محفوظ کر لیا جائے تو تنہائی اور فرصت کے کسی لمحے میں وہ مکمل نظم یا غزل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

میرا پیغام ایسے ڈاکٹرز کے لیے یہی ہے کہ وہ اپنے پیشے کے ساتھ اخلاص اور دیانت کو مقدم رکھیں اور اپنی تخلیقی روح کو بھی زندہ رہنے دیں۔ کیونکہ ایک اچھا ڈاکٹر وہی ہوتا ہے جو انسان کے درد کو محسوس کر سکے، اور ایک سچا شاعر بھی وہی ہوتا ہے جو اسی درد کو لفظوں میں ڈھال سکے۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x