غزل
غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

غزل
ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے
ملتی ہے اس کی چال ستاروں کی چال سے
پلّو سرک گیا تو چکا چوند مچ گئی
گرتے گئے پتاشے بھی چاندی کے تھال سے
لوگوں کو بھی پڑھاتا ہوں تقدیر کا لکھا
میرا بھی کام چلتا ہے طوطے کی فال سے
یہ زندگی ہی کھینچ کے لاتی ہے موت تک
مچھلی کا کوئی ربط تو ہوتا ہے جال سے
تجھ سے بچھڑ کے خود کو بھی دیکھا نہیں گیا
خالی پڑا ہے آئنہ پچیس سال سے
چہرے سے ناشناسی کا پردہ نہ ہٹ سکا
پہچان تو گیا تھا اُسے خد و خال سے
نکلا نہیں ہے دل میں وہ کانٹا چبھا ہوا
اک پھول میں نے توڑا تھا پھولوں کی ڈال سے
پیدا تو کرنی ہو گی نئی سوچ ورنہ ہم
مر کے بھی بچ نہ پائیں گے اِس بھیڑ چال سے
پسپا نہ کر سکا مجھے سازش کے باوجود
میں نے یہ جنگ جیتی ہے پورے کمال سے




